جوڈیشل کمیشن نے اضافی بیلٹ پیپرز والے قومی اسمبلی کے12حلقوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:50:55 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:42:04 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:42:04 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:40:49 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:40:49 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:40:49 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:40:37 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:31:30 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:31:30 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:31:30 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 17:29:49
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

جوڈیشل کمیشن نے اضافی بیلٹ پیپرز والے قومی اسمبلی کے12حلقوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ، الیکشن کمیشن مقررہ ایک گھنٹے میں ریکارڈ پیش نہ کرسکا

ہم دھاندلی کی تحقیقات کررہے ہیں ، یہ جوڈیشل نہیں انکوائری کمیشن ہے ، این اے 222 کے علاوہ اسلام آباد کے ایک حلقے کا بھی ریکارڈ دیا جائے ، کارروائی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آگے بڑھائی ، جتنے گواہ بلوانے تھے بلوا لئے ، اب سلسلہ ختم ہوگیا ، فارم 15 سے ہمیں کوئی معاونت نہیں ملی ، بڑی تعداد میں فارم 15 گمشدہ ہیں، جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصر الملک کے ریمارکس

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء ) 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل انکوائری کمیشن نے الیکشن کمیشن سے اضافی بیلٹ پیپرز والے قومی اسمبلی کے بارہ حلقوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ، الیکشن کمیشن مقررہ ایک گھنٹے میں جوڈیشل انکوائری کمیشن کو 12 حلقوں کا ریکارڈ مہیا نہ کرسکا ، چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے کہ ہم دھاندلی کی تحقیقات کررہے ہیں ، یہ جوڈیشل کمیشن نہیں انکوائری کمیشن ہے ، این اے 222 کے علاوہ اسلام آباد کے ایک حلقے کا بھی ریکارڈ دیا جائے ، جن حلقوں میں سب سے زیادہ اضافی بیلٹ پیپرز کی بات ہوئی ہے ان حلقوں کا ریکارڈ منگوا کر جائزہ لیتے ہیں ، کارروائی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آگے بڑھائی ، تحریک انصاف کے کہنے پر ملک بھر سے فارم 15 منگوائے ، جتنے گواہ بلوانے تھے بلوا لئے ، اب سلسلہ ختم ہوگیا ہے ، فارم 15 سے ہمیں کوئی معاونت نہیں ملی ، بڑی تعداد میں فارم 15 گمشدہ ہیں ، جوڈیشل انکوائری کمیشن کے معاون کے کے آغا نے راولپنڈی اسلام آباد کے انتخابی مواد سے متعلق مال خانوں پر اپنی رپورٹ پیش کردی ، نگران وزیراعلیٰ بلوچستان غوث بخش ، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر مراد علی پر وکلاء نے جرح مکمل کرلی ، جوڈیشل انکوائری کمیشن کا اجلاس (آج) منگل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

پیر کو جوڈیشل انکوائری کمیشن کے اجلاس میں سابق نگران وزیراعلیٰ بلوچستان غوث بخش نے بیان حلفی جمع کروا دیا ، بی این پی کے وکیل شاہ خاور نے سابق نگران وزیراعلیٰ بلوچستان غوث بخش باروزئی پر جرح کی ، غوث بخش نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ مجھے یا د نہیں کہ این اے 269 کے آر اوز کون تھے ، یہ درست تھا کہ میں نے چیف سیکرٹری کے مشورے پر کچھ تبادلے کیے ، میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اپنی پریس کانفرنس میں دھاندلی کا نہیں گستاخی کا لفظ استعمال کیا تھا ، میں نے 23 مارچ 2013 کو عہدے کا حلف اٹھایا ، عام انتخابات کے انعقاد کیلئے بہترین اقدامات کیے ، میں بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال دیکھ رہا تھا ، شاہ خاور نے غوث بخش سے سوال کیا کہ کیا آپ کے بھائی سپریم کورٹ اور الیکشن ٹربیونل میں گئے تھے ؟ جس پر غوث بخش نے جواب دیا کہ الیکشن ٹربیونل اور سپریم کورٹ سے درخواستیں خارج ہوگئی تھیں ، خاران ، خضدار اور پنجگور میں آر اوز کی تعیناتی مشاورت سے ہوئی ۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد کسی افسر کا اکیلے تبادلہ نہیں کیا ۔ تعیناتی الیکشن کمیشن اور بلوچستان انتظامیہ میں کورآڈینیشن سے ہوئی ۔ ڈی پی او پنجگور مراد علی نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ تمام امیدوار مجھے ملنے میرے دفتر آئے تھے ، امیدواروں نے امن وامان ووٹرز کی کم تعداد کا زبانی شکوہ کیا ، تمام امیدواروں نے پولنگ ڈے موخر کرنے کا زبانی کہا تھا ، میں نے کہا کہ متعلقہ آر اوز کے ذریعے تحریری درخواست دیں ، متعلقہ آر اوز نے امیدواروں کی جانب سے درخواستیں بھجوائیں ، میں نے درخواستیں الیکشن کمشنر بلوچستان کو ارسال کردیں ۔

پی بی 42 اور 93 میں 72 پولنگ سٹیشن تھے 26 میں پولنگ نہیں ہوئی ، آر اوز نے بتایا کہ کچھ پولنگ سٹیشنز پر پولنگ نہیں ہوئی ، صوبائی الیکشن کمیشن کو 26 سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا کہا مگر ایسا نہیں ہوا ۔ جوڈیشل انکوائری کمیشن کے اجلاس میں تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ انکوائری کمیشن ریٹرننگ افسران سے تحقیقات کرے ، جس پر چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے کہ یہ انکوائری کمیشن ہے ، انکوائری کمیشن ہی رہے گا ، اس میں کوئی مرحلے نہیں ہیں ، تحریک انصاف کی درخواست سے مطمئن نہیں ہیں ، آپ ہمیں سفارشات دیں ، ہم انہیں دیکھ لیں گے ۔

حفیظ پیرزادہ نے دلائل دیئے کہ اب تک کی انکوائری کمیشن کی کارروائی سے بہت سی چیزیں واضح ہوگئی ہیں ، جن حلقوں میں زائد بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے ، وہ بھی واضح ہے ۔ زائد بیلٹ پیپرز والے حلقوں کے معاملے پر کمیشن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 17:40:49 :وقت اشاعت