پاک چین کی تجارت کے درمیان 4.5ارب ڈالر کی مس ڈکلریشن ، انڈرانوائسنگ کی جارہی ہے۔اقوام ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:20:09 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:20:09 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:18:00 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:17:20 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:08:06 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:07:53 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:03:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:02:33 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 15:55:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 15:55:41 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 15:54:36
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاک چین کی تجارت کے درمیان 4.5ارب ڈالر کی مس ڈکلریشن ، انڈرانوائسنگ کی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کے کمیونٹی ٹریڈ کے اعدادوشمارمیں انکشاف

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء)پاکستان اور چین کی تجارت کے درمیان 4.5ارب ڈالر کی مس ڈکلریشن اور انڈرانوائسنگ کی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کے کمیونٹی ٹریڈ کے اعدادوشمار کے جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی امپورٹرز اور ایکسپورٹرز چین کے ساتھ تجارت میں بڑے پیمانے پر مس ڈکلریشن اور انڈرانوائسنگ کرکے ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کے ذریعے ملکی معیشت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے کسٹم حکام کے اعدادوشمار میں اربوں ڈالر کا فرق پایا جاتا ہے سال 2014 کے دوران پاکستانی اعدادوشمار کے مطابق چین سے 9ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کی گئیں تاہم چینی کسٹم حکام کے اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے میں چین سے پاکستان کو 13ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں اس طرح پاکستانی امپورٹر نے مس ڈکلریشن کے ذریعے درآمدی مصنوعات کی مالیت 4.5ارب ڈالر کم کردی۔

دوسری جانب ایکسپورٹ میں بھی مس ڈکلریشن کی جارہی ہے سال 2014کے دوران پاکستان سے چین کو 2.2ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں تاہم چینی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان سے مصنوعات کی درآمد 2.7ارب ڈالر رہی اس طرح پاکستان سے چین کو ایکسپورٹ میں بھی 50کروڑ ڈالر کا فرق پایا گیا۔ چین کے ساتھ تجارت میں انڈر انوائسنگ اور مس ڈکلریشن کا سلسلہ پہلے روز سے جاری ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے بعد باہمی تجارت کے حجم کے ساتھ مس ڈکلریشن اور انڈرانوائسنگ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

چین سے تجارت میں مس ڈکلریشن اور انڈرانوائسنگ کے لحاظ سے 10 آئٹمز گروپ سرفہرست ہیں جن میں الیکٹریکل الیکٹرانک ایکویپمنٹ، مشینری،

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 16:07:53 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان