آزاد جموں و کشمیر کا مالی سال 2015-16 کیلئے 68 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید کشمیر کی خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:50:10 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:47:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:47:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:47:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:44:52 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:42:09 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:32:15 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:29:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:29:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:27:00 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 14:09:08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

مظفر آباد

آزاد جموں و کشمیر کا مالی سال 2015-16 کیلئے 68 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش

مظفر آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) آزاد جموں و کشمیر حکومت نے مالی سال 2015-16 کے لئے 68 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا جو کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ 65 ارب کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے ۔ ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ آزاد جموں و کشمیر چودھری لطیف اکبر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لئے 11 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 56 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے سرکاری ملازمین کو وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اضافہ ملے گا جبکہ مخدوش مالی حالات کے باوجود حکومت آزاد کشمیر کے ریٹائرڈ ملازمین کے لئے وفاقی حکومت کی طرز پر کمیوٹیشن بحال کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس میں 50 کروڑ روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے انہوں نے کہاکہ سال 2015-16 کے لئے گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی مد میں 9.5 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جو آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے حکومت کے عزم کا اظہار ہے ۔

وزیر خزانہ چودھری لطیف اکبر نے بجٹ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ مالی سال 2015-16 کے لئے محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کے لئے سال 2014-15 کے 23 کروڑ 70 لاکھ روپے کے مقابلے میں 26 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔ شہری دفاع کے لئے 5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ ترقیاتی ادارہ جات کے لئے سال 2014-15 کے 13 کروڑ 30 لاکھ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے 15 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔

تعلیم کے شعبے کے لئے مالی 2014-15 کے 79 کروڑ 95 لاکھ 97 ہزار روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے ایک ارب 10 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے میں یہ اضافہ ریاست کے بچوں کا مستقبل روشن بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اظہار ہے ۔ ماحولیات کے لئے گزشتہ سال کے 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے 5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔

بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبہ جات کے لئے گزشتہ مالی سال کے 10 کروڑ 50 ہزار روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے 60 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ جنگلات ، فشریز اورجنگلی حیات کے لئے 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں محکمہ صحت کے لئے گزشتہ مالی سال کے 28 کروڑ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے 34 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ صنعتوں اور معدنی وسائل کے لئے گزشتہ مالی سال کے 15 کروڑ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے 17 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لئے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال اس شعبے کے لئے صرف 5 لاکھ روپے رکھے گئے تھے ۔ اطلاعات کے لئے ایک کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لئے 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لئے 78 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔

بجلی کے منصوبہ جات کے لئے ایک ارب 31 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ تحقیق و ترقی کے لئے گزشتہ مالی سال کے 9 کروڑ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لئے 15 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ بحالیات و آبادکاری کے لئے 11 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ سماجی و بہبود و ترقی نسواں کے لئے 4 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ سپورٹس ، یوتھ اینڈ کلچر کے لئے 14 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔

مواصلات و تعمیرات کے لئے 4 ارب 79 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔ سیراء کے لئے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔ محکمہ سیاحت کے لئے 14 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ سال 2015-16 کے لئے ریاستی وسائل سے 16 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد آمدن کی توقع ہے ۔ جبکہ منگلا ڈی م کی رائلٹی سے 78 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کونسل سے حکومت آزاد کشمیر کو 13 ارب ملنے کی توقع ہے جبکہ وفاقی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا تخمینہ 16 ارب 75 کروڑ روپے ہے اس طرح جاریہ اخراجات کا تخمینہ 56 ارب 50 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔

جبکہ ترقیاتی اخراجات 11 ارب 50 کروڑ رپوے ہوں گے ۔ وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ وزارت امور کشمیر کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں آزاد کشمیر میں جاریہ ترقیاتی سکیموں کے لئے ایک ارب 80 کروڑ روپے جبکہ مختلف وفاقی وزارتوں کے تحت وفاقی ترقیاتی پروگرام میں علیحدہ طور پر 32 ارب روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے انتہائی اہم منصوبہ جات مظفر آباد ، میرپور ، منگلا ایکسپریس وے ، تاؤبٹ مظفر آباد روڈ ، واٹر سپلائی سکیم ، چکسواری اور وویمن یونیورسٹی باغ جیسے اہم منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائے گا ۔

میڈیکل کالجز میرپور اور مظفر آباد کے علاوہ کیرن اور لیسوا بائی پاس سڑکات وفاقی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے لئے جاری تعمیر نو و بحالی کے منصوبوں کے لئے 7 ارب روپے کی رقم بھی رکھی گئی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں وزیر اعظم گرین کیپ سکیم کے لئے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔

جو ریاست سے بیروزگاری کے خاتمہ کے لئے انتہائی اہم کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے عالمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 8 ارب 50 کروڑ روپے کے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا ۔ چودھری لطیف اکبر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کا یہ بجٹ عوام کے خوابوں کی تعبیر اور ایک نئے کشمیر کی بنیاد ہے ۔

جس میں پیداواری شعبہ جات کی ایلوکیشن میں 7 فیصد بنیادی ڈھانچے میں 8 فیصد اور سوشل سیکٹر میں 19 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید مہاجرین کی بحالی میں اس قدر دلچسپی لیتے ہیں کہ انہوں نے اس مالی سال 2015-16 کے لئے 11 کروڑ رکھنے کے احکامات دیئے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2015-16 کے دوران 5 ہزار افراد کو خصوصی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ان ہنر مند افراد کو آزاد جموں و کشمیر بینک کی جانب سے بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کر سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ میرپور کھڑی شریف کے مقام پر اسلامی یونیورسٹی ، ملٹری کالج میرپور اور پونچھ میڈیکل کالج راولا کوٹ کے لئے بھی ضروری فنڈز فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سڑکوں کو بہترین حالت میں رکھنا موجودہ حکومت کی ترجیح رہی ہے ۔ سال 2015-16 کے دوران بھی آزاد کشمیر بھر میں 725 کلو میٹر سڑکوں کو پختہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیکل کالجز کے ہمراہ ٹیچنگ ہسپتالوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے میرپور اور راولا کوٹ میں 250 بستروں کے ہسپتال بھی قائم کرے گی ۔

وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نظم و نسق کو بہترین بنانے کے لئے بائیومیٹرک سسٹم کو سیکرٹریٹ ،نظامت ہاء ، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز ، ہسپتالوں اور تعلیمی ادارہ جات تک توسیع دیئے جانے کا پروگرام بنایا ہے انہوں نے کہا کہ زراعت و لائیوسٹاک کی ترقی حکومت کی ترجیح رہی ہے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے حکومت نے کئی بڑے اقدامات کئے ہیں ۔

جس میں بلاسود قرضوں کا پروگرام بھی شامل ہے جو سال 2015-16 میں بھی جاری رہے گا
۔ وزیر خزانہ چودھری لطیف اکبر نے بتایا کہ غازی ملت سردار ابراہیم خان کی یادگار اس سال مکمل کر دی جائے گی اس کے علاوہ شہداء کشمیر اور شہداء منگ کی یادگاروں کی تعمیرات کے علاوہ حضرت لال بادشاہ کی یادگار بھی تعمیر کی جائے گی ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے حکومت آزاد کشمیر میڈیا کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے ۔

مالی سال 2015-16 کے ترقیاتی میزانیہ میں مظفر آباد سنٹرل پریس کلب کی عمارت بنانے کے لئے بھی رقم مختص کر دی گئی ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ سیاحت کی ترقی کے لئے حکومت نے جو رقم مختص کی ہے اس سے ٹوریسٹ یزاٹ تتہ پانی ، دھیر کوٹ ، لیپہ ، چکار ، سدھن گلی اور تولی پیر کے منصوبوں کو بھی مکمل کیا جائے گا ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ آزاد کشمیر کے تمام سرکاری ملازمین کو وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ہونے والا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 14:42:09 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان