آزاد جموں وکشمیر حکومت نے آئندہ مالی سال کا 68ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید کشمیر کی خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:30:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:29:25 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:29:25 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:29:25 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:28:23 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:15:36 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:10:11 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:10:11 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:10:11 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:09:29 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 13:08:41
پچھلی خبریں - مزید خبریں

آزاد جموں وکشمیر حکومت نے آئندہ مالی سال کا 68ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا

وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر کی آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ تقریر

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) آزاد جموں وکشمیر حکومت نے مالی سال 2015-16 کے لیے 68ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا جو کہ گذشتہ مالی سال کے بجٹ 65 ارب کے مقابلے میں3 فیصد زیادہ ہے۔ڈپٹی سپیکرشاہین کوثر ڈارکی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 11 ارب 50 کروڑروپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 56 ارب50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ آزادکشمیر کے سرکاری ملازمین کو وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اضافہ ملے گا جبکہ مخدوش مالی حالات کے باوجود حکومت آزادکشمیر کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرزپر کیموٹیشن بحال کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس میں50 کروڑ روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ سال 2015-16 کے لیے گذشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی مد میں 9.5 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جو آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر نے بجٹ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2015-16 کے لیے محکمہ زراعت ولائیوسٹاک کے لیے سال 2014-15 کے 23 کروڑ 70لاکھ روپے کے مقابلے میں 26 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ شہری دفاع کے لیے 5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی ادارہ جات کے لیے سال 2014-15 کے 13 کروڑ30 لاکھ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لیے 15 کروڑروپے رکھے گئے ہیں۔

تعلیم کے شعبے کے لیے مالی سال 2014-15 کے 79 کروڑ 95 لاکھ97 ہزار روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16کیلئے ایک ارب 10 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایاکہ تعلیم کے شعبے میں یہ اضافہ ریاست کے بچوں کا مستقبل روشن بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔ ماحولیات کے لیے گزشتہ سال کے2 کروڑ 80لاکھ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کیلئے5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔

بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبہ جات کیلئے گذشتہ مال سال کے10 کروڑ50 ہزار روپے کے مقابلے میں مالی سال2015-16 کے لیے60 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ جنگلات ،فشریز اور جنگلی حیات کے لیے 40کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے لیے گذشتہ مالی سال کے28 کروڑ روپے کے مقابلے میں مالی سال 2015-16 کے لیے 34 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ صنعتوں اور معدنی وسائل کے لیے گذشتہ مالی سال کے15

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 13:15:36 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان