پاکستان میں آم کی 110 سے زیادہ اعلیٰ اقسام پائی جاتی ہیں،بابر لطیف
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جون

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 14/06/2015 - 15:41:46 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 15:41:46 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 15:00:19 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 15:00:19 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 15:00:19 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 14:58:30 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 14:58:30 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 14:58:30 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 14:57:26 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 14:57:26 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 14:57:26
پچھلی خبریں - مزید خبریں

راولپنڈی

پاکستان میں آم کی 110 سے زیادہ اعلیٰ اقسام پائی جاتی ہیں،بابر لطیف

آم کی مجموعی پیداوار میں 60 فیصد حصہ صوبہ پنجاب کا ہے،ترجمان محکمہ زراعت راولپنڈی

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 14 جون۔2015ء)محکمہ زراعت پنجاب راولپنڈی کے ترجمان بابر لطیف بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آم کی 110 سے زیادہ اعلیٰ اقسام پائی جاتی ہیں اور آم کی مجموعی پیداوار میں 60 فیصد حصہ صوبہ پنجاب کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال آم کی برآمد سے 4.9ارب روپے کا کثیر زرمبادلہ کمایا گیا۔ ۔ پاکستانی آم ذائقے، مٹھاس، رنگت اور غذائیت سے بھرپور رس کی بدولت پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے۔

پاکستانی آم اعلیٰ معیار اور ذائقے کی وجہ سے بین الاقوامی منڈیوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور آم کی پیداوار میں اضافے اور معیار کو بہتر بنا کر آم کی برآمد سے مزید زیادہ زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ پھلوں کے باغبان، باغات کی بہتر نگہداشت، حفظان صحت کے امور کی پاسداری، بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد اور برداشت، نقل و حمل، سنبھال، پرواسسینگ اور سٹوریج کے جدید سائنسی طریقوں کو اپنا کر ملکی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آم کے کاشتکاروں کو چاہیے کہ ان عوامل سے آگاہی اور عمل پیرا ہونے کیلئے محکمہ زراعت کے مقامی ماہرین سے مسلسل رابطہ رکھیں۔

14/06/2015 - 14:58:30 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان