طالبان کو ایران کی مالی و عسکری مدد میں اضافہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جون

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:37:53 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:37:53 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:37:53 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:36:51 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:36:51 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:36:51 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:35:53 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:35:53 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 13:35:53 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:54:32 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:53:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

طالبان کو ایران کی مالی و عسکری مدد میں اضافہ

ایرانی اسلحے، گولہ بارود اور مالی مدد میں اضافے کے بعد افغانستان میں امن عامہ کی نازک صورتحال کو خطرات کا سامنا ہے امریکی میڈیا , ایران طالبان کے دوبارہ ظہور کے حوالے سے جْوا کھیل رہا ہے  مغربی سفارتکار , مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری سمجھوتے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو ایران طالبان کی مدد میں اضافہ کرسکتا ہے  امریکی حکام , سینٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین جان مکین کا خدشات کا اظہار , ایران کو خدشہ ہے کہ کہیں دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی سرحد کے قریب ایک نیا محاذ نہ کھولنا پڑ جائے  رپورٹ

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14جون۔2015ء)ایک امریکی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران گذشتہ عرصے میں خاموشی سے طالبان کے ساتھ مراسم بڑھاتا رہا ہے اور اب ایران نہ صرف طالبان کیلئے نئے جنگجو بھرتی کر رہا ہے بلکہ ان کی تربیت میں مدد فراہم کر رہا ہے۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق مغربی سفارتکاروں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے طالبان کو اسلحے، گولہ بارود اور مالی مدد میں اضافے کے بعد افغانستان میں امن عامہ کی نازک صورتحال کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔

سفارتکاروں کے مطابق طالبان کے بارے میں ایران کی حکمت عملی کے دو پہلو ہیں، ایک جانب ایران خطے میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو روکنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے پھیلاوٴ کے خلاف طالبان کو تیار کرنا چاہتا ہے۔سفارتکاروں کے مطابق حالیہ عرصے میں افغانستان میں طالبان کی جارحانہ کارروائیوں میں تیزی اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے سرگرمیوں میں اضافے سے اس امکان میں اضافہ ہو گیاکہ طالبان کے کچھ رہنما افغان حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ایک مغربی سفارتکار کے بقول ایران طالبان کے دوبارہ ظہور کے حوالے سے جْوا کھیل رہا ہے۔ ایران کو یقین نہیں کہ آنے والے دنوں میں افغانسنان کی سمت کیا ہوگی اس لیے وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے خیال سے طالبان پر داوٴ لگا رہا ہے۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اخبار نے اس حوالے سے ایران کا موٴقف جاننے کی کوشش کی تاہم ایران نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم گذشتہ عرصے میں ایران مغربی سفارتکاروں سے ساتھ بات چیت میں بارہا اس الزام سے انکار کرتا آیا کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی مالی یا فوجی مدد فراہم کر رہا ہے۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین ایڈ روئس کے مطابق اگر مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری سمجھوتے پر دستخط ہو جاتے ہیں اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی ہو جاتی ہے تو ایران طالبان کی مدد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ریپبلکن سینیٹر کے مطابق ایران پورے خطے میں عسکریت پسندوں اور باغی گروہوں کی مدد میں اضافہ کر رہا ہے اور ایران کو اقتصادی پابندیوں پر نرمی سے اربوں ڈالر کا جو فائدہ ہونے جا رہا ہے، اس کے بعد عسکریت پسندوں کی مدد میں بڑا اضافہ ہونے جا رہا ہے سینٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

جان مکین کے مطابق ایران کی جانب سے طالبان کی مدد میں اضافہ دراصل یمن، شام، عراق اور لبنان میں ایران کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کی ایک کڑی ہے۔ یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ اوباما انتظامیہ زمینی حالات سے جان بوجھ کر نظریں چرا رہی ہے اور زمینی حالات بتاتے ہیں کہ خطے میں ایرانی جارحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکی انتظامیہ کے سینئر اہلکاروں نے ایران اور طالبان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/06/2015 - 13:36:51 :وقت اشاعت