کاشتکاروں کو بینگن کی پنیری کی بوائی جون کے آخر میں شروع کرنے کی ہدایت
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جون

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:57:19 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:57:19 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:57:19 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:56:02 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:56:02 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:56:02 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:54:32 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:54:32 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:40:38 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:40:38 وقت اشاعت: 14/06/2015 - 12:39:05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

فیصل آباد

کاشتکاروں کو بینگن کی پنیری کی بوائی جون کے آخر میں شروع کرنے کی ہدایت

فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14جون۔2015ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بینگن کی دوسری فصل کی کاشت کیلئے پنیری کی بوائی جون کے آخر میں شروع کردیں۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے شعبہ تحقیقات سبزیات کے ترجمان نے بتایا کہ بینگن برصغیر پاک و ہند، چین اور جاپان کی اہم سبزیوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ سارا سال مارکیٹ میں اچھی حالت میں میسر رہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بینگن اٹلی اور فرانس کے لوگوں کی دل پسند غذا ہے اور اسے بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں، جنوبی یورپ اور امریکہ کی ریاست فلوریڈا اور لوئزیانہ میں تجارتی مقاصد کیلئے بڑے پیمانے پر کاشت کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بینگن کی بوائی سال میں تین بار ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینگن کو ہر قسم کی زمین اور آب وہوا میں کاشت کیا جاسکتا ہے تاہم اچھی پیداوار کیلئے ذرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو اور گرم مرطوب آب وہوا نہایت موزوں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بینگن کی پہلی فصل کیلئے پنیری وسط فروری میں بوئی جاتی ہے اور اس کی کھیت میں منتقلی شروع اپریل سے کر دی جاتی ہے۔ یہ فصل جون سے ستمبر تک پیداوار دیتی ہے۔ دوسری فصل کیلئے نرسری جون کے آخر میں بوئی جاتی ہے اور اس کی کھیتوں میں منتقلی جولائی اگست میں کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موسم میں عام طور پر بینگن کی گول اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔

یہ فصل ستمبر سے دسمبر تک اچھی پیداوار دیتی ہے اور اگراس فصل کو سردیوں میں کہر سے بچا لیا جائے تو فروری مارچ میں اس سے دوبارہ پیداوارحاصل کی جاسکتی ہے جبکہ تیسری فصل کیلئے پنیری کی بوائی نومبر کے شروع میں کی جاتی ہے اور وسط فروری میں جب کہر کا خطرہ نہ رہے تو پودے کھیت میں منتقل کر دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فصل کو سردی کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے پلاسٹک ٹنل میں لگانا چاہیے یا پھر شمال کی جانب سرکنڈے کی سرکیاں لگا دی جائیں ورنہ پودے کہر یا سردی کی وجہ سے نرسری میں ہی مر جاتے ہیں۔

14/06/2015 - 12:56:02 :وقت اشاعت