ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف ایک بارپھر دوستی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:07:36 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:07:36 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:05:28 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:01:32 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:01:32 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:01:32 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 23:00:01 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 22:58:21 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 22:56:01 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 22:56:01 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 22:49:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف ایک بارپھر دوستی کاہاتھ بڑھادیا

نوازشریف صاحب اور آصف زرداری صاحب! آئیے ہم جمہوریت کیلئے آپس میں دوستی کرلیں اورپاکستان سے جمہوریت کے خاتمہ کی سازشیں کرنے والوں کے خلاف متحدہوجائیں۔الطاف حسین

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف ایک بارپھر دوستی کاہاتھ بڑھایاہے اوروزیراعظم نوازشریف اور پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری کوپیغام دیتے ہوئے کہاہے کہ آئیے ہم جمہوریت کیلئے آپس میں دوستی کرلیں اورپاکستان سے جمہوریت کے خاتمہ کی سازشیں کرنے والوں کے خلاف متحدہوجائیں۔

انہوں نے یہ بات ہفتہ کی صبح ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر کارکنوں کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ الطاف حسین نے کہاکہ میں نے کل بھی اپنے خطاب میں کہاتھااورآج پھرکہتاہوں کہ نوازشریف صاحب آئیے، آپ، زرداری صاحب اورہم جمہوریت کی خاطر ہاتھ ملائیں۔اگرہم مل جائیں تودیکھتے ہیں کہ کون ملک سے جمہوریت کابسترگول کرتاہے۔ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدرآصف زرداری کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کونساپاکستان چاہتے ہیں؟ آپ جمہوری پاکستان چاہتے ہیں یافوجی پاکستان چاہتے ہیں ؟ اگر ہم آپس میں متحدہوجائیں توکوئی بھی جمہوریت کاخاتمہ نہیں کرسکے گا۔

الطاف حسین نے ایم کیوایم اوردیگرسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور کارکنوں سے بھی کہاکہ وہ ٹی وی ٹاک شوزمیں ایک دوسرے کے خلاف نہ بولیں اورایک دوسرے پر الزامات نہ لگائیں۔الطاف حسین نے کہاکہ اس بات کے خدشات ہیں کہ مستقبل قریب میں آپ سے میرا سلام دعا کا رابطہ بھی کاٹ دیا جائے ، اس کے بعد کارکنان آزاد ہوں گے ، وہ چاہیں تو فوج، رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں صبح شام مارکھانے کے بجائے خاموشی سے اپنے کام سے کام رکھیں ، کسی کو اس کی غلطی پر نہ ٹوکیں اور کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے تو فریاد کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بن کر اس زیادتی کو برداشت کریں۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز حق پرستی کی تحریک کو 37 برس ہوگئے ، 37 سال کا عرصہ عمر کا بہت شاندار اور خوبصورت ترین حصہ ہوتا ہے اور 37 سالہ دور میں انسان اپنی ہرممکنہ خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کچھ لوگ میری طرح پاگل اور دیوانے ہوتے ہیں اپنے مستقبل کی پرواہ کیے بغیردوسروں کی فلاح وبہبود کیلئے 37 سال گزار دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 18 سے 22 سول اورفوجی ایجنسیاں موجود ہیں ۔

سویلین ایجنسیاں حکومت کے ماتحت ہوتی ہیں جن میں آئی بی ، سی آئی اے ، سی آئی ڈی ، 555 ، کرائم برانچ ، اسپیشل برانچ وغیرہ اسی طرح عسکری ایجنسیاں بھی ہوتی ہیں جن میں سب سے زیادہ طاقتور ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ہے جو اپنے اچھے اور خوبصورت کارناموں کی بدولت دنیا بھر کے اخبارات ، جرائد اوررسائل میں مشہورہے ۔انہوں نے کہاکہ میرے پاس سینکڑوں واقعات کی فائلیں موجود ہیں، اسپین، افریقہ، نائجیریا، الجزائر، چیچنیا، روس اور دنیا کے دیگر ممالک میں دہشت گردی کے واقعات ہوں ، نیویارک امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہویا برطانیہ میں سیون سیون کا واقعہ ہو دہشت گردی کے ان واقعات کا آخری سرا اور دہشت گردوں کی تربیت کا تعلق پاکستان میں ہی نظرآئے گا۔

اسی طرز کی ایک ایجنسی ڈی جی رینجرز اور ان کے ساتھیوں نے ازخود پیدا کرلی ہے ۔ صفوارچورنگی کراچی میں اسماعیلیوں کی بس پر حملہ کا الزام گھماپھرا کر ایم کیوایم پرڈالنے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن اﷲ تعالیٰ کے کرم سے اس واقعہ میں ملوث جمعیت سے تعلق رکھنے والے اصل دہشت گردوں کو پولیس نے گرفتارکرلیا، بین الاقوامی دہشت گرد خالد عمر شیخ جس نے غیرملکی صحافی ڈینئل پرل کو قتل کیا وہ جماعت اسلامی کے رہنماء کے گھر سے گرفتارکیا گیااور سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنے والے دہشت گرد وں کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے نکلا لیکن ڈی جی رینجرز کو جماعت اسلامی کے دہشت گرد نظر نہیں آتے۔

انہوں نے شرکاء سے سوال کیا کہ کیا دہشت گردی کے واقعات میں ملوث جماعت اسلامی کے دہشت گردوں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی ہوئی؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘‘ الطاف حسین نے کہاکہ جھوٹے الزام کی بنیاد پر میری تقریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی لگادی گئی لیکن جماعت اسلامی کے سابق امیرمنورحسن نے کھلے عام کہا کہ جوفوجی اہلکار ، طالبان سے لڑتے ہوئے مرے ہیں انہیں شہید نہیں کہاجائے ، یہ شہید نہیں بلکہ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پاک فوج سے لڑتے ہوئے مرنے والے طالبان شہیدہیں لیکن پاک فوج کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کے باوجود جماعت اسلامی والوں کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی گئی ۔

الطاف حسین نے دریافت کیا کہ دنیا کا مطلوب ترین شخص کون رہا ہے ؟ اس پر شرکاء نے جواب دیا’’اسامہ بن لادن‘‘ ۔ الطاف حسین نے کہاکہ رینجرز حکام کی جانب سے یہ الزام لگایا گیاہے کہ ایم کیوایم کے مرکز پر چھاپے کے دوران ناجائز اسلحہ ، بارود برآمد کیا گیا ہے جس میں نیٹو کا ایسا اسلحہ بھی شامل ہے جورینجرز حکام نے فوج میں رہتے ہوئے بھی نہیں دیکھا ۔

الطاف حسین نے کہاکہ میں اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہوں اوررینجرز کے حکام سے سوال کرتا ہوں کہ اسلحہ سازفیکٹریاں کراچی میں قائم نہیں ہیں اورخیبر سے کراچی تک قائم سینکڑوں چوکیوں پر پیراملٹری فورسز ہوتی ہیں لہٰذا رینجرز حکام جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے قوم کو بتائیں کہ سینکڑوں چوکیوں کے باوجود غیرقانونی اسلحہ کراچی تک کیسے پہنچتا ہے؟آخران ہزاروں چوکیوں پر موجود چوکیدارکیاکررہے ہیں؟پہلے ان چوکیوں پر تعینات چوکیداروں کولٹکائیے پھرکراچی میں اسلحہ تلاش کیجئے۔

انہوں نے کہاکہ 30مئی کوخیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہوئے جس کے دوران وہاں پی ٹی آئی ، ن لیگ کے کارکنوں اوردیگرافرادمیں خوب خونریزفسادہواجس کے نتیجے میں 11افرادجاں بحق اور80 زخمی ہوئے لیکن یہ اسلحہ کسی کونظرنہیں آتا۔ الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ 15 دن سے ٹی وی ٹاک شوز میں تبصرہ کیاجارہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے اقرارکرلیا کہ بھارت نے مکتی باہنی کی مدد کی تھی اسی لئے بنگلہ دیش بن گیا اورہمارے 93 ہزارفوجی ہتھیارڈال کر جنگی قیدی بنائے گئے ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ یہ بات فخریہ انداز میں عوام کو بتانے کے بجائے اقوام متحدہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کی جانی چاہیے تھی، سیکوریٹی کونسل میں اس مسئلہ کو اٹھایا جاناچاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بچپن سے یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ کشمیر ، پاکستان کی شہ رگ ہے ، اگر کشمیرواقعی شہ رگ ہے تو عزیزآباد میں میری رہائش گاہ،

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/06/2015 - 23:01:32 :وقت اشاعت