آئندہ مالی سال کے لیے سندھ کا 7 کھرب 39 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا، جس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:57:59 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:55:23 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:53:47 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:51:21 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:51:03 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:48:52 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:48:52 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:44:29 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:39:12 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:36:35 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:34:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

آئندہ مالی سال کے لیے سندھ کا 7 کھرب 39 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا، جس میں 12 ارب 72 کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ ان کے میڈیکل الاوٴنس میں 25 فیصد اضافہ کا اعلان، آئندہ سال نوجوانوں کو 25 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کی جائیں گی، پولیس میں 15 ہزار بھرتیاں کی جائیں گی، محکمہ تعلیم میں 1484 نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی، عدالتوں میں 718 نئی اسامیاں پر کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ کی بجٹ تقریر

کراچی ۔ 13جون (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) آئندہ مالی سال 2015-16ء کے لیے سندھ کا 7 کھرب 39 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ، جس میں 12 ارب 72 کروڑ روپے کا خسارہ ہو گا ۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ ان کے میڈیکل الاوٴنس میں 25 فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے ۔آئندہ سال نوجوانوں کو 25 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔

پولیس میں 15 ہزار بھرتیاں کی جائیں گی ۔ محکمہ تعلیم میں 1484 نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی ۔ عدالتوں میں 718 نئی اسامیاں پر کی جائیں گی جبکہ محکمہ صحت میں بھی کنٹریکٹ کی بنیاد پر لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا ۔ محنت کشوں کی کم از کم اجرت 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی گئی ہے ۔ خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 14 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ کئی مزید خدمات کو ٹیکس کے دائرے میں لایا گیا ہے ۔

سندھ انفرا سٹرکچر سیس اور اسٹامپ ڈیوٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے زبردست شور شرابے کے دوران بجٹ پیش کیا ۔ بجٹ میں کراچی اور دیگر شہروں کے خصوصی ترقیاتی پیکیجز کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ۔ البتہ حکومت سندھ نے تین نئے خصوصی پیکیجز کا اعلان کیا ہے ، جن کے لیے بجٹ میں 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔

پہلے خصوصی پیکیج کے تحت رجسٹرڈ مستحق گھرانوں کو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ریلیف دینے کے لیے ایک ہزار روپے فی خاندان مہیا کیے جائیں گے ۔ یہ رقم عیدالفطر سے قبل ادا کر دی جائے گی ۔ دوسرے خصوصی پیکیج کے تحت کسی خاندان کے سربراہ یا کفیل کی اچانک موت کی صورت میں اس خاندان کو ایک لاکھ روپیہ حکومت کی طرف سے ادا کیا جائے گا ۔ تیسرے خصوصی ترقیاتی پیکیج کے تحت نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے فراہم کیے جائیں گے ۔

آئندہ سال کے لیے سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 2 کھرب 13 ارب 65 کروڑ روپے کا ہو گا ، جس میں سے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( اے ڈی پی ) کے لیے 162 ارب روپے ، غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کی گرانٹس کے 9 ارب 66 کروڑ روپے شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے اے ڈی پی کے لیے 168 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن اس پر نظرثانی کرکے 126 ارب روپے کر دیئے گئے تھے ۔

آئندہ مالی سال کے دوران 80 فیصد ترقیاتی بجٹ جاری منصوبوں پر جبکہ 20 فیصد نئے منصوبوں پر خرچ ہو گا ۔ بجٹ میں کل آمدنی کا تخمینہ 7 کھرب 26 ارب 57 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ملنے والی رقوم کا تخمینہ 4 کھرب 94 ارب روپے ، صوبائی محصولات سے آمدنی کا تخمینہ 144 ارب روپے جبکہ مالیاتی ذرائع سے آمدنی کا تخمینہ 32 ارب روپے لگایا گیا ہے ۔

کل اخراجات کا تخمینہ 7 کھرب 39 ارب 30 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔ اس

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/06/2015 - 21:48:52 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان