صوبہ سندھ کے نئے مالی سال 2015-16ء کے لئے ترقیاتی شعبے کیلئے 214 ارب روپے رکھے گئے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:45:53 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:43:48 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:41:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:41:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:30:20 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:30:20 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:30:20 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:28:54 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:23:49 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:10:57 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:03:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

صوبہ سندھ کے نئے مالی سال 2015-16ء کے لئے ترقیاتی شعبے کیلئے 214 ارب روپے رکھے گئے

صوبائی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر

کراچی ۔ 13 جون (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) صوبہ سندھ کے نئے مالی سال 2015-16ء کے لئے ترقیاتی شعبے کے لئے 214 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں سے 177 ارب روپے صوبائی وسائل جبکہ 9.6 ارب روپے وفاقی حکومت کی جانب سے گرانٹ اور 27 ارب روپے غیر ملکی امدادی رقم کے ذریعے آئیں گے۔ صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے ہفتہ کو یہاں سندھ اسمبلی میں نئے مالی سال 2015-16ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی ترقی کے لئے ہمارا عزم پختہ ہے، صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے اگلے کئی مالی سال کے لئے رقم مختص کئے جانے والے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے 80 فیصد رقوم اور اہم نئے منصوبوں کے لئے 20 فیصد رقوم مختص کئے جانے کی پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے منصوبوں کے لئے مجموعی لاگت کی کم از کم 25 فیصد رقم سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص کی جائے، سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ترقیاتی منصوبوں کی تعداد تو کم کی گئی ہے لیکن ان کے لئے مختص رقوم میں اضافہ کیا گیا ہے، اس پالیسی کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لئے اگلے کئی مالی سال کے لئے رقم رکھے جانے کے رجحان میں کمی آئی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یکم جولائی 2014ء کو ا س ضمن میں رکھے جانے والی 704 ارب روپے کی رقم یکم جولائی 2015ء کو کم ہو کر 552 ارب روپے رہ جائے گی جو کہ 2.3 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ ہماری توجہ کا مرکز مجموعی سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا ہے جس کے لئے تعلیم اور صحت کے سماجی شعبے، توانائی کے معاشی شعبے، مواصلات اور آبپاشی اور سماجی تحفظ کے سیکٹر کی بہتری اور خواتین کو بااختیار بنانے اور اقلیتوں اور بچوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ یقین دلاتا ہوں کہ ان شعبوں پر توجہ کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ دیگر سماجی شعبوں کو نظر انداز کر دیا جائے گا، اس سے منصوبوں کی ترقی کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبوں کے ذریعے عام آدمی کی حالت زار بہتر بنانے کے ہمارے عزم کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے دیگر انتظامی محکموں کے تعاون سے صوبائی حکومت کے کلیدی محکموں کے لئے شعبہ جاتی (سیکٹورل) منصوبے تشکیل دیئے ہیں، ان میں تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، مواصلات اور توانائی کے شعبے شامل ہیں، جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

13/06/2015 - 19:30:20 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان