سندھ کا739ارب کا بجٹ پیش،تنخواہ میں10فیصد ایڈہاک اضافہ،تعلیم اور امن وامان کیلئے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:48:52 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 21:24:45 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:43:48 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 19:41:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:29:01 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:03:57 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:55:25 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:55:24 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:32:23 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 16:04:06 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:21:45
- مزید خبریں

کراچی

سندھ کا739ارب کا بجٹ پیش،تنخواہ میں10فیصد ایڈہاک اضافہ،تعلیم اور امن وامان کیلئے سب سے زیادہ رقم مختص

بجٹ خسارہ12ارب72کروڑ،سرکاری ملازمین کے میڈیکل الاؤنس میں25فیصد اضافہ ، عام ملازمتوں کے 14 ہزار 224 مواقع اور سندھ پولیس میں 15ہزار اسامیاں پر کرنے کااعلان، سندھ پولیس کی تنخواہیں پنجاب کے برابر , تعلیم کیلیے 144 ارب 67 کروڑ،صحت کیلئے 57 ارب 49 کروڑ روپے مختص،ترقیاتی اخراجات کیلئے 214 ، غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 503 ارب مختص، کراچی میں میڈیکل کالج قائم کرنے کے اعلان , رینجرز کے لیے 2 ارب 44 کروڑ مختص ،بجٹ میں ٹیکس ہدف 126 ارب، ایف بی آر کی وصولیوں کا تخمینہ 432 ارب ،مزدور کی کم سے کم تنخواہ13ہزار مقرر، بجٹ صوبائی وزیرخزانہ مرادعلی شاہ پیش کیا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء ) مالی سال2015-16ء کے لئے سندھ کا 7کھرب39ارب30کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ ہفتہ کو پیش کر دیا گیا ۔نئے مالی سال کے بجٹ میں صوبے کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 7کھرب 26ارب 57کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ آمدنی کے مقابلے میں اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ12ارب72کروڑ76لاکھ روپے ہو گا ۔

سندھ حکومت نے مسلسل پانچویں مرتبہ خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے ،بجٹ میں سرکاری ملازمین کی موجودہ بنیادی تنخواہ میں 10فیصد کے مساوی ایڈ ہاک ریلیف الاؤنس اور میڈیکل الاؤنس میں25فیصد اضافہ کرنے کے ساتھ 14 ہزار 224 نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا بھی اعلان کیاگیا جبکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں صحت کا بجٹ 43 ارب سے بڑھا کر57 ارب 49 کروڑ روپے کردیا گیا اور1ارب روپے کی لاگت سے کراچی میں میڈیکل کالج بھی قائم کیا جائیگا، سندھ کے ہسپتالوں میں مشینری اور آلات کے حصول کے لیے 50 کروڑ روپے، فلاحی طبی اداروں کے لیے 13ارب، بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 2 ارب 38 کروڑ روپے، صحت کے شعبے کی 209 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 13ارب 22 کروڑروپے اور میڈیکل ایجوکیشن کے لیے 3 ارب 94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 144 ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔تعلیم کے بعد امن و امان کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے، پولیس کا بجٹ 50 سے بڑھا کر 61 ارب روپے کردیا گیا ہے اور سندھ پولیس کی تنخواہوں کو پنجاب پولیس کی تنخواہ کے برابر کردیا گیا ہے جبکہ سندھ پولیس میں 15ہزار اسامیاں بھی پیدا کی جارہی ہیں۔دوسری جانب رینجرز کے لیے 2 ارب 44 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 214 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 503 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ میں 177 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور بحالی کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ میں ٹیکس ہدف 126 ارب روپے جبکہ ایف بی آر کی وصولیوں کا تخمینہ 432 ارب روپے رکھا گیا ہے۔پنشن کی مد میں 45 ارب روپے ادا کیے جائیں گے،مزدور کی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/06/2015 - 18:03:57 :وقت اشاعت