فیصل آباد کے مختلف سرکاری افسران‘ سیاستدان اور ان کے دفاتر میں ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:19:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:19:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:18:17 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:15:23 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 18:03:57 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:51:22 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:46:12 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:38:28 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:35:23 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:30:55 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 17:30:55
پچھلی خبریں - مزید خبریں

فیصل آباد

فیصل آباد کے مختلف سرکاری افسران‘ سیاستدان اور ان کے دفاتر میں ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے 150 سینٹری ورکروں سے بیگار لینے میں ملوث افسران کے خلاف 30 دن کے اندر کارروائی کریں؛ لاہور ہائی کورٹ کا ڈی سی او فیصل آباد کو حکم

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) عدالت عالیہ لاہور نے ڈی سی او فیصل آباد کو حکم دیا ہے کہ فیصل آباد کے مختلف سرکاری افسران‘ سیاستدان اور ان کے دفاتر میں ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے 150 سینٹری ورکروں سے بیگار لینے کے واقعہ میں ملوث افسران کے خلاف 30 یوم کے اندر انکوائری کر کے کارروائی کریں۔ عدالت عالیہ جسٹس شاہد جمیل خان نے یہ حکم ابرار یونس سوہوترا صدر اتحاد لیبر اینڈ سٹاف یونین سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ فیصل آباد کی درخواست جاری کیا ہے۔

رٹ پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ فیصل آباد شہر میں صفائی کی ناگفتہ بے حالت ہے جبکہ فیصل آباد کے مختلف افسران کی رہائشگاہوں میں اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کے گھروں اور دفاتر میں غیر قانونی طور پر جبراً کام کر رہے ہیں جبکہ افسران ایسا کرنے کے مجاز نہ ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ڈی سی او فیصل آباد کو 150 کے قریب سینٹری ورکروں کی مختلف افسران اور سیاستدانوں کے گھروں میں کام کرنے والوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ جن افسران نے غیر قانونی طور پر ان سینٹری ورکروں کو سرکاری ڈیوٹی کے بجائے ذاتی گھریلو کام کاج کے لئے رکھنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں سے رقم کی کٹوتی کر کے اسے سرکاری خزانہ میں جمع کرائی جائے تاکہ آئندہ کسی بڑے سے بڑے افسر کو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔

مگر ڈی سی او فیصل آباد‘ سیکرٹری محکمہ بلدیات پنجاب‘ ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور دیگر اداروں نے کوئی کارروائی نہ کی جس پر عدالت عالیہ لاہور نے اپنے حکم میں ڈی سی او فیصل آباد کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی طور پر سرکاری رہائش گاہوں میں کام کرنے والے سینٹری ورکروں کے بارے میں 30 یوم کے اندر محکمانہ انکوائری مکمل کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس انکوائری میں رٹ کنندہ یونین کے صدر ابرار یونس سوہوترا سے بھی رہنمائی حاصل کی جائے۔

اس سلسلہ میں کو ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ 150 کے لگ بھگ سینٹری ورکر مختلف اعلیٰ افسران جن میں ڈی سی او‘ اسسٹنٹ کمشنر‘ ای ڈی او فنانس‘ ایڈیشنل کلیکٹر ریونیو‘ ایف ڈی اے کے افسران‘ تحصیل میونسپل میں تعینات افسران اور مختلف سرکاری محکموں کے سربراہ جو فیصل آباد ڈویژن میں تعینات ہیں کی رہائش گاہوں کے علاوہ ایسے افسران جو فیصل آباد سے تبدیل ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہیں خالی نہیں کیں جبکہ بعض افسران ایسے بھی ہیں جو ریٹائر ہونے کے باوجود سینٹری ورکروں کی خدمات سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔

اسی طرح حکومتی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی رہائش گاہوں میں بھی سینٹری ورکر دن رات ڈیوٹی پر تعینات ہیں اور وہ اپنی ماہانہ تنخواہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سے وصول کر رہے ہیں جبکہ ملازمین کی کمی کے باعث شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں کیونکہ سینٹری ورکر سرکاری ڈیوٹی دینے کے بجائے افسران کے گھروں میں ڈیوٹی دیتے ہیں جس کی وجہ سے عملہ میں کمی پائی جاتی ہے۔

13/06/2015 - 17:51:22 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان