ہندوستان میں دہشت گردی مخالف قانون صرف کشمیریوں ومسلمانوں کی آواز کو دبانے کیلئے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید کشمیر کی خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 15:04:01 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 15:04:01 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:45:21 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:45:21 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:45:21 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:17:06 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:05:21 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:03:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:03:42 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:03:03 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 14:03:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ہندوستان میں دہشت گردی مخالف قانون صرف کشمیریوں ومسلمانوں کی آواز کو دبانے کیلئے بنائے جاتے ہیں؛ مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا لا جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں کشمیر سیمینار سے خطاب

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) ہندوستان میں دہشت گردی مخالف قانون صرف کشمیریون اور مسلمانوں کی آواز کو دبانے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ نریندر مودی اور ساکشی مہاراج جیسے ہزاروں ہندو (جن پر قتل کے مقدمات درج ہیں) کو آزاد چھوڑ کر زہرافشائی کا موقع دیا جاتا ہے اور مسرت عالم کو صرف آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ہندوستانی جمہوریت میں دوہرے قانون ہیں۔ مسلمانوں کے لئے الگ قانون بنائے گئے ہیں تاکہ انکی آزادی سلب کی جا سکے۔ ڈاکٹر قاسم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے 22 سال سے قید میں رکھا ہوا ہے جبکہ ہاشم پورہ میں 44 مسلمانوں کے قاتلوں کو آزاد رکھا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں منعقدہ کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

سیمینار میں انسانی حقوق تنظیم کے گوتم نولکھا‘ معروف صہافی سپریم شنکر جاہ‘ پروفیسر وویک جموں کشمیر بار ایسوسی ایشن کے اشرف بٹ اور کشمیر ہائیکورٹ کے وکیل ارشد اندرابی کے علاوہ کشمیر یوتھ سوسائٹی دہلی اور یونیورسٹی طلباء یونین نے شرکت کی۔ سیمینار میں مسرت عالم‘

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/06/2015 - 14:17:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان