مضبوط سری لنکن ٹیم کیخلاف ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے قبل ہی پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جون

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:44:29 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:43:50 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:43:49 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:43:47 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:42:46 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:42:45 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:40:18 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:29:44 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:26:19 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 13:22:20 وقت اشاعت: 13/06/2015 - 12:11:17
پچھلی خبریں - مزید خبریں

مضبوط سری لنکن ٹیم کیخلاف ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے قبل ہی پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئی

کولمبو(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء)سری لنکا کی مضبوط ٹیم کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع ہونے سے قبل ہی پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئی ہیں، سری لنکا بورڈ پریذیڈنٹس الیون کے خلاف ٹور میچ کے دو دن میں ہی پاکستانی ٹیم کی بولنگ اور بیٹنگ کی خامیاں واضح ہو گئیں۔ پاکستانی ٹیم میچ کے پہلے روز صرف 247 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، احمد شہزاد اور یونس خان کے علاوہ اور کوئی بلے باز نصف سنچری بھی نہ بنا سکا۔

جواب میں سری لنکن ٹیم نے بیٹنگ کی تو ذوالفقار بابر کے علاوہ کوئی پاکستانی بولر متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکا۔ سری لنکن ٹیم 241 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ ذوالفقار بابر نے 6 کھلاڑیوں کو پویلین کا رستہ دکھایا۔ انہوں نے عمدہ بولنگ کی اور 21 اوورز میں 8 میڈن بھی پھینکے۔ لیگ سپنر یاسر شاہ نے 23 اوورز میں 2 وکٹیں حاصل کی۔ پاکستانی بولنگ اٹیک کی طرف سے تینوں فاسٹ بولر یعنی وہاب ریاض، جنید خان اور عمران خان ناکام ثابت ہوئے۔

جنید خان اور وہاب ریاض کو تو ایک ایک وکٹ حاصل ہو گئی لیکن عمران خان ایک بھی کھلاڑی کو آؤٹ نہ کر سکے۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں ایک وکٹ کھو کر 27 رنز بنائے ہیں، پہلی اننگز میں3 رنز بنانے والے محمد حفیظ دوسری اننگز میں 8 رنز بنا پائے ہیں، ٹیسٹ کرکٹ میں وہ ویسے ہی کامیاب بولر نہیں ہیں، اس لئے ٹیم مینجمنٹ فیصلہ کر سکتی ہے کہ ان کی بجائے پہلے میچ کیلئے شان مسعود کو ٹیم میں شامل کیا جائے اور احمد شہزاد کے ساتھ بطور اوپنر کھلایا جائے۔دو دن میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی دیکھی جائے تو احمد شہزاد، یونس خان اور ذوالفقار بابر کے علاوہ اور کوئی اچھا کھیل پیش نہیں کر سکا۔ ایسے میں ٹیم مینجمنٹ کیلئے پلیئنگ الیون کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔

13/06/2015 - 13:42:45 :وقت اشاعت