پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے لئے 14کھرب 47ارب24کروڑ روپے حجم کا متوازن بجٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 23:14:30 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 23:13:08 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 23:09:25 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 23:09:25 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 23:05:41 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 23:05:41 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:57:56 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:57:56 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:49:26 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:49:26 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:46:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے لئے 14کھرب 47ارب24کروڑ روپے حجم کا متوازن بجٹ پیش کر دیا

بجٹ میں وفاق کی طرز پر صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ساڑھے 7فیصد اضافے کی تجویز ،نجی شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں و کارکنوں کی اجرت 12ہزار سے بڑھا کر 13ہزار روپے کرنے کا اعلان , بجٹ میں دس نئی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ،شہری علاقوں میں دس لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی پر کیپٹل ویلیو ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی , ،ٹیکس چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کے لئے انعامی سکیمیں بھی شروع کرنے کی تجویز ،پنجاب میں کلبوں پر عائد ایجوکیشن سیس ختم کر دیا گیا ،صرف16فیصد جی ایس ٹی آن سروسز وصول کیا جائے گا

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء)پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے لئے 14کھرب 47ارب24کروڑ روپے حجم کا متوازن بجٹ پیش کر دیا ، بجٹ میں وفاق کی طرز پر صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ساڑھے 7فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے ،نجی شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں و کارکنوں کی اجرت 12ہزار سے بڑھا کر 13ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ، آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں رواں مالی سال کے مقابلے میں15.9فیصد اضافہ کرتے ہوئے 400ارب تجویز کیا گیا ہے ، بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لئے 310ارب20کروڑ،صحت کے لئے 166ارب13کروڑ،دیہی عوام کی ترقی اور زراعت کے فروغ کے لئے مجموعی طور پر مختلف شعبوں میں 144ارب39کروڑ،امن و اعامہ کی فراہمی کی غرض سے 109ارب25کروڑ روپے ، محکمہ آبپاشی کے لئے 50ارب83کروڑ روپے جبکہ دیہی علاقوں میں نئی سڑکیں تعمیر کرنے اور پرانی سڑکوں کی مرمت اور توسیع کے لئے 52ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں چھوٹے کاشتکاروں کو سستے ٹریکٹرز فراہم کرنے کیلئے سبسڈی کی مد میں 5ارب ،جذبہ خیر سگالی کے تحت بلوچستان کی عوام کے لئے 2ارب سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لئے 303ارب 6کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی 317اور سول ججز کی 696آسامیاں پیدا کرنے کی تجویز دی گئی ہیآئندہ مالی سال کے بجٹ میں چھوٹے کاروبار کو سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کے لئے ایک درجن کے قریب سیکٹرز میں مقررہ مدت کے لئے ری ڈیوس ریٹ سکیم رائج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

اس سکیم کے اطلاق پر سولہ فیصد کی بجائے دو فیصد سے لے کر دس فیصد تک فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس لاگو ہوگا ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دس نئی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ،شہری علاقوں میں دس لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی پر کیپٹل ویلیو ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ،ٹیکس چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کے لئے انعامی سکیمیں بھی شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،پنجاب میں کلبوں پر عائد ایجوکیشن سیس ختم کر دیا گیا اب کلبوں سے صرف16فیصد جی ایس ٹی آن سروسز وصول کیا جائے گا ۔

پنجاب کی پہلی خاتون وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2015-16ء کا بجٹ پیش کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ایوان میں موجود تھے ۔صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے اﷲ کا شکر دا کرتی ہوں جس نے مجھے اعزاز بخشا ہے کہ میں آج اس معزز ایوان کے سامنے حکومت پنجاب کا بجٹ برائے مالی سال 2015 پیش کر رہی ہوں۔

یہ پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی موجود ہ منتخب حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اور ہماری حکومت کی ترجیحات اور پالیسیوں میں تسلسل کا آئینہ دار ہے۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہمیں ان ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف کی مدبرانہ قیادت اور رہنمائی حاصل ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ان ترجیحات کا مقصد پنجاب کو ایک ایسا صوبہ بناناہے جہاں ایک عام آدمی کی رسائی صحت اور تعلیم سمیت زندگی کی تمام سہولتوں تک ممکن ہو‘جہاں تعلیم یافتہ اور ہنر مندنوجوانوں کو روز گار کے وسیع تر مواقع میسر آسکیں ‘جہاں صنعت‘زراعت اور گھریلو استعمال کے لئے وافر بجلی دستیاب ہو‘جہاں کی رواں دواں صنعتیں اور سرسبز زراعت ایک خوشحال پاکستان کی ضامن ہو‘جہاں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالا دستی ہو اور جہاں کے شہری ہر طرح کے تشدد اور دہشت گردی کے خوف سے آزاد ‘پرامن او رمطمئن زندگی گزار سکیں۔

حکومت پنجاب نے صوبے میں ترقی کے اہداف کے لئے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق ایک جامع اکنامک گروتھ سٹریٹجی ترتیب دی ہے۔میں اس سٹریٹجی کے نمایاں اہداف معزز ایوان کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہوں جس میں صوبے کی معاشی ترقی کی شرح 2018ء تک سات سے آٹھ فیصد تک لے جانا،نوجوانوں کو روزگاری کی فراہمی کے لئے سالانہ دس لاکھ مواقع پیدا کرنا،2018 تک صوبے میں پرائیویٹ انوسٹمنٹ کو دوگنا کرنا،دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنانا،برآمدات میں اضافے کی شرح کو پندرہ فیصد تک لے جانا شامل ہے۔

ترقی اور خوشحالی کی اس منزل کا حصول صوبے کی معیشت کے استحکام اور اقتصادی شرح نمو میں اضافے پر منحصر ہے اور یہ اضافہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائے بغیر ممکن نہیں۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ترقی اور روزگار کے حوالے سے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لئے صرف حکومتی سرمایہ کاری کافی نہیں ہو سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت پرائیویٹ خصوصا غیر ملکی سرمایہ کاری کو صوبے کی طرف راغب کرنے کی ایک مربوط اور جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے۔توانائی اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں غیر ملکی اور نجی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور شمولیت ہماری اسی پالیسی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

میری مراد چین کی طرف سے پاکستان میں چھیالیس ارب ڈالر کے تاریخی پیکج کا اعلان ہے۔میرا یقین ہے کہ یہ سرمایہ کاری ملکی معیشت کی تقدیر بدل دے گی۔ملک میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ایک شاندار دور کا آغاز ہو گا۔یہ تاریخی پیکج پاک چین دوستی کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کی قیادت اور پاکستانی عوام پر چین کے غیر معمولی اعتماد کا عکاس ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ میں اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی دو برسوں پر محیط ان انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتی ہوں جو انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی ٹیم کے ایک رکن کے طور پر اس پیکج کو ممکن بنانے کے لئے کیں۔جناب والا بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام کے لئے ایک بڑی خوشخبری اور کیا ہو سکتی ہے کہ چھیالیس ارب ڈالر کے پیکج میں سے پینتیس ارب ڈالر کی خطیر رقم صرف بجلی پیدا کرنے پر صرف کی جائے گی۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ مقام افسوس ہے کہ جس وقت پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت پاکستان کو اندھیروں سے نجات دلانے کے لئے اپنے دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔پاکستان کے عوام اس تاریخی معاہدے پر دستخطوں کے لئے اپنے دوست ملک چین کے صدر کی آمد کے لئے چشم براہ تھے۔عین اس وقت کچھ لوگ پاکستان کے دارالحکومت میں دھرنوں کی آڑ میں اس دورے کو منسوخ کرانے کی ناپاک سازشوں میں مصروف تھے۔

مقام شکر ہے کہ ہماری قیادت کی بے مثال فراست‘سیاسی جماعتوں کے مثالی عزم اور عوام کے تاریخی اتحاد کے نتیجے میں اس سازش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ احتجاج اور انتشار کی سیاست کے ان پانچ مہینوں نے قوم پر عوام دشمن اور عوام دوست قیادت کا فرق واضح کر دیا ہے۔آج اﷲ کے فضل و کرم سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پورے اعتماد کے ساتھ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے ان مخالفوں کو یہ کہہ سکتی ہے کہ تیری پسند تیرگی‘میری پسند روشنی۔

۔تو نے دیا بجھا دیا‘میں نے دیا جلا دیا۔ یہ معزز ایوان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ہماری حکومت نے معیشت کی بہتری کا سفر ابھی شروع کیا ہی تھا کہ اسے شدید ترین سیلاب کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ہمارے لئے یہ امر باعث اعزاز ہے کہ حکومت پنجاب آزمائش کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی۔نارووال سے لے کے مظفر گڑھ تک شاید ہی کوئی گاؤں یا علاقہ ایسا ہو جہاں وزیر اعلی پنجاب سیلاب سے گھرے ہوئے اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی دلگیری کے لئے خود نہ پہنچے ہوں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت پنجاب نے اپنے وسائل سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری بحالی پر تقریبا بیس ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی۔یہ رقم ’’خادم پنجاب امدادی پیکج‘‘ کے تحت انتہائی شفاف طریقے سے متاثرین سیلاب میں تقسیم کی گئی۔تقسیم کے اس عمل کی شفافیت کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت دعووں پر نہیں عمل پر یقین رکھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم نے راستے میں آنے والی تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اﷲ تعالی کے فضل و کرم سے اپنے تمام تر اعلانات اور وعدوں پر ممکنہ حد تک عملدرآمد کیا۔ ہم نے اس امر کو یقینی بنایا کہ اپنے ترقیاتی فلاحی پروگرام پروگرام کو زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کئے جائیں۔صوبائی وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ مالی سال 2015-16ء کی کل آمدن کا تخمینہ ایک ہزار چار سو سینتالیس ارب چوبیس کروڑ روپے لگایاگیا ہے۔

جس میں آٹھ سو اٹھاسی ارب پچاس کروڑ روپے قابل تقسیم محاصل میں ٹیکسوں کی مد میں صوبائی حصہ ہے جو کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت حاصل ہو گا۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت سے سٹریٹ ٹرانسفرکی مد میں اکتیس ارب چارکروڑ روپے ملنے کی توقع ہے۔ مزید برآں صوبائی ریونیو میں دو سو چھپن ارب سات کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے جس میں ٹیکسوں کی مد میں ایک سو ساٹھ ارب انسٹھ کروڑ روپے اور نان ٹیکس کی مد میں پچانوے ارب سنتالیس کروڑ روپے شامل ہیں۔

مالی سال 2015-16ء کے جاری اخراجات کا کل تخمینہ ایک ہزار چار سو سینتالیس ارب چوبیس کروڑ روپے ہے۔ آئندہ مالی سال 2015-16ء کا سالانہ ترقیاتی پروگرام چار سو ارب روپے کا ترتیب دیا گیا ہے لہٰذا جاری اخراجات میں 7.6 فیصد اور ترقیاتی بجٹ میں 15.9 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کا بجٹ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں ہماری ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔

تعلیم کاشعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے لئے بجٹ میں صوبائی اور ضلعی سطح پر مجموعی طور پر سب سے بڑی رقم یعنی تقریباً تین سو دس ارب بیس کروڑ روپے مختص کئے جارہے ہیں۔ یہ رقم کل بجٹ کا ستائیس فیصد ہے۔ اسی طرح صحت عامہ کے شعبے میں ایک سو چھیاسٹھ ارب تیرہ کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے جو کہ بجٹ کا چودہ فیصد ہے۔ دیہی عوام کی ترقی اور زراعت کے فروغ کے لئے مجموعی طور پر مختلف شعبوں میں ایک سو چوالیس ارب انتالیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

جو کہ کل بجٹ کا ساڑھے بارہ فیصد ہے۔ امن عامہ کی فراہمی پر آئندہ مالی سال میں ایک سو نو ارب پچیس کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے جو کہ کل بجٹ کا ساڑھے نو فیصد ہے۔دہشت گردی کے علاوہ توانائی کا بحران اس وقت پاکستان کے لئے سنگین ترین مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے اور توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے 2013ء میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں برسر اقتدار آنے والی مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی انتھک کوششیں کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔

اس وقت پنجاب میں وفاقی حکومت اور پنجاب کی حکومت کے تحت مجموعی طور پرتوانائی کے چھ سو اٹھارہ ارب روپے کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ ان منصوبوں میں حکومت پنجاب دو سو اٹھاون ارب روپے کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ جبکہ پنجاب میں لگنے والے بجلی کے ان منصوبوں میں چین کی طرف سے تین سو ساٹھ ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔س وقت پنجاب میں وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت کے تحت مجموعی طور پر توانائی کے چھ سو اٹھارہ ارب روپے کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔

ان منصوبوں میں حکومت پنجاب دو سو اٹھاون ارب روپے کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ جبکہ پنجاب میں لگنے والے بجلی کے ان منصوبوں میں چین کی طرف سے تین سو ساٹھ ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔صوبائی وزیر خزانہ نے زیر تکمیل توانائی کے منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ساہیوال میں ایک ہزار تین سو بیس میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پر کام کا آغاز ہو چکاہے جس پر ایک سو اسی ارب روپے لاگت آئے گی۔

جنوبی پنجاب میں بہاولپور کے ریگستانی علاقے میں‘ جہاں سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ بھی نہ تھا‘ وہاں پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شمسی توانائی پر مبنی ’’قائد اعظمؒ سولر پارک‘‘ قائم کیا جاچکا ہے‘ جہاں سے ایک سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ اس سولر پارک میں مزید نو سو میگا واٹ شمسی توانائی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اس منصوبے پر تقریباً ایک سو پینتیس ارب روپے لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ انشاء اﷲ اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں جنوبی پنجاب میں نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ صنعتی اور زرعی شعبے میں علاقے کے عوام کے لئے روزگار کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے۔پنڈدادن خان کے مقام پر تین سو میگا واٹ بجلی کا پراجیکٹ لگایا جارہا ہے۔

پینتالیس ارب روپے مالیت کے اس منصوبے میں بجلی پیدا کرنے کے لئے مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا۔ انشاء اﷲ یہ تینوں منصوبے جن کا ذکر میں نے کیا ہے 2017ء کے اختتام تک دو ہزار چھ سو بیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں گے۔حکومت پنجاب بھکھی‘ ضلع شیخوپورہ میں ایک سو دس ارب روپے کی لاگت سے گیس سے چلنے والا ایک ہزار دو سو میگا واٹ کا پاور پلانٹ شروع کر رہی ہے۔

یہ منصوبہ انشاء اﷲ ابتدائی مرحلے میں مارچ 2017ء میں بجلی فراہم کرنا شروع کردے گا اور 2017ء کے آخر تک اس منصوبے سے مکمل استعدادکے مطابق بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کے لئے پندرہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ان بڑے منصوبوں کے علاوہ حکومت پنجاب علاقائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چھوٹے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ‘ لاہور اور فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک سو دس میگا واٹ کے کوئلہ سے چلنے والے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر تینتیس ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ پنجاب میں لوڈ سنٹرز کے قریب ایک سو پچاس میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے چار پاور پلانٹس لگائے جارہے ہیں جن پر نوے ارب روپے لاگت آئے گی۔

یہ پاور پلانٹس لاہور‘ ملتان‘ فیصل آباد اور سیالکوٹ میں لگائے جائیں گے۔حکومت پنجاب نے دس ارب روپے کی لاگت سے بیس میگا واٹ بجلی کے چار ہائیڈل پاور پراجیکٹس مرالہ‘ پاکپتن‘ چیانوالی اور Deg Outfall میں شروع کئے ہیں۔ مرالہ اور پاکپتن کے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ان دونوں منصوبوں سے بجلی اسی سال ستمبر میں پیداہونا شروع ہو جائے گی۔

اسی طرح چیانوالی اور Deg Outfall کے منصوبے بھی جون 2016ء تک مکمل ہو جائیں گے۔صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پنجاب میں نجی شعبے کو بجلی میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جارہاہے۔ رحیم یار خان اور مظفر گڑھ میں ایک ہزار تین سو بیس میگا واٹ کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے دو منصوبوں پر ابتدائی کام شروع ہو چکاہے۔ مزید برآں کوئلے کے مجموعی طور پرنو سو میگا واٹ کے چھ پاور پلانتس کے منصوبے بھی نجی شعبے کے حوالے کئے جائیں گے۔

صوبے بھر میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے پچاس سائٹس نجی شعبے کو پیش کی گئی ہیں جس پر نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ یہ منصوبے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے میں بے حد مددگار ثابت ہوں گے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ معدنی ذخائر سے استفادہ کرنے کے لئے ایک موثر‘ مربوط اور نتیجہ خیز حکمت عملی پر گامزن ہے۔

معدنیات کے شعبے کے لئے مالی سال 2015-16ء میں دو ارب سترہ کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ضلع چنیوٹ میں رجوعہ کے مقام پر لوہے اور تانبے کے وسیع ذخائر کی دریافت حکومت کی اسی حکمت عملی کا ثمر ہے۔رجوعہ کے ان ذخائر کے ماضی میں جس پر مجرمانہ غفلت اور بددیانتی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی تفصیل ایک دردناک داستان سے کم نہیں۔ پچھلی حکومت نے بغیر کسی قسم کے ٹینڈر کے اس کی تلاش ایک ایسی نام نہاد کمپنی کو دے دی جس کامعدنی ذخائر کی تلاش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔

پچھلی حکومت کا یہ اقدام ملکی وسائل پر ڈاکہ زنی سے کم نہیں تھا۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ موجودہ حکومت کے تحت قواعد و ضوابط اور شفافیت کے اعلیٰ ترین تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ٹینڈرز کے بعد یہ کام برادر ملک چین کی ایک ایسی کمپنی کو دیاگیا ہے جس کا شمار متعلقہ شعبے میں دنیا کی بہترین کمپنیوں میں ہوتا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ زراعت ہماری ملکی معیشت کے لئے رگ حیات کا درجہ رکھتی ہے۔

صوبے کی پینتالیس فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے اور مجموعی قومی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ اکیس فیصد ہے۔ ہماری قومی برآمدات میں زراعت کا حصہ ساٹھ فیصد ہے۔ حکومت پنجاب زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایک ایسے فعال شعبے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے جو نہ صرف فوڈ سکیورٹی چیلنجزسے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ بین الاقوامی معیار کی مصنوعات بھی پیدا کرسکے۔

کاشتکاوں کو ان کی زرعی پیداوار کی مناسب قیمت دلائے بغیر زرعی ترقی کی منزل حاصل نہیں کی جاسکتی۔ کون نہیں جانتا کہ دیہات میں ذرائع آمدورفت کی موجودہ انتہائی قابل افسوس صورت حال کی وجہ سے ہمارے کسانوں کی پیدا کی ہوئی اجناس نہ ہو تو بروقت منڈیوں میں پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی ان کی مناسب قیمت ملتی ہے۔ حکومت پنجاب نے زرعی اجناس کی سستی نقل و حمل کے لئے صوبے بھر کے دیہی علاقوں میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت ایک سو پچاس ارب روپے کی مالیت سے نئی سڑکیں تعمیر کرنے اور پرانی سڑکوں کی مرمت اور توسیع کا ایک عظیم الشان منصوبہ بنایا ہے۔

یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں زرعی سڑکوں کی تعمیر کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا۔ اس پروگرام کے تحت بننے والی تمام سڑکیں مکمل طور پر کارپٹڈہوں گی اور ہر سڑک کے دونوں طرف دو دو فٹ کا ٹریٹد شولڈرہو گا۔ حکومت نے اس منصوبے کے لئے آئندہ مالی سال میں باون ارب روپے مختص کئے ہیں۔حکومت نے گزشتہ برسوں میں اہم فیصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے لئے کئی اہم اقدامات کئے جن کے بہتر اور حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

پنجاب میں اری گیٹڈ ایگریکلچرل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے اکیس ارب روپے کے میگا پراجیکٹ ’’ پنجاب اریگیٹڈایگریکلچرل پروڈکٹویٹی امپرومنٹ ‘‘پر عملدرآمد جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی سبسڈی کے ذریعے ایک لاکھ بیس ہزار ایکڑ رقبہ پر ڈرپ اینڈ سپرنکراری گیشنکی تنصیب کی گئی اور نو ہزار واٹر کورسزکی اصلاح کی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران اس پراجیکٹ کے لئے چار ارب اٹھاون کروڑ روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو سستے ٹریکٹر فراہم کرنے کے لئے پانچ ارب روپے کی سبسڈی مہیا کر رہی ہے‘ جس سے کسانوں میں پچیس ہزار ٹریکٹر ماضی کی طرح میرٹ کی بنیاد پر نہایت شفاف طریقے سے فراہم کئے جائیں گے۔

ٹریکٹرز کے علاوہ کسانوں کو دیگر زرعی آلات اور اشیاء فراہم کرنے کے لئے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔صوبے میں ایک جامع منصوبے کے تحت بیراجوں کی مرمت اور بحالی کے کام کاآغاز کیا جاچکا ہے۔ جناح بیراج کی بحالی کا منصوبہ بارہ ارب 67 کروڑ روپے کی لاگت سے آئندہ مالی سال میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا جس کے لئے بجٹ میں نوے کروڑ روپے رقم مختص کی گئی ہے۔

23 ارب 44 کروڑ روپے کی مالیت سے زیر تعمیر نئے خانکی بیراج کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں چھ ارب پندرہ کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ سیالکوٹ‘ کامونکی اور اس کی ملحقہ آبادیوں کو سیلاب سے بچانے کے لئے ایک مرحلہ وار پروگرام کے تحت آٹھ ارب روپے کی مالیت کے منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کی غرض سے محکمہ آبپاشی کے لئے پچاس ارب تراسی کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ اس وقت ملکی پیداوار میں لائیو سٹاک کا حصہ تقریباً بارہ فیصد اور زرعی پیداوار میں چھپن فیصد ہے۔ آئندہغ مالی سال میں اس شعبے کے لئے آٹھ ارب انسٹھ کروڑروپے مختص کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم اقدام صوبے میں مویشی پالنے اور ان کا کاروبار کرنے والے غریب کسانوں کو بھتہ مافیا سے نجات دلانے کے لئے خادم پنجاب کی ہدایت پر یکم جولائی 2014ء سے جانوروں کی خرید و فروخت پرمنڈی مویشیاں میں عائد کردہ فیس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

اب ان منڈیوں کا انعقاد ڈویژنل کی سطحپر قائم کی گئی مینجمنٹ کمپنیز کو دیا گیا ہے۔ موجودہ مالی سال میں حکومت پنجاب نے شیخوپورہ اور فیصل آباد میں تمام ضروری سہولتوں سے آراستہ دو ماڈل مویشی منڈیاں قائم کی ہیں۔ آئندہ مالی سال میں اسی کروڑ روپے کی لاگت سے مزید ماڈل مویشی منڈیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ہم نے ہر مرحلے پر اس امر کو یقینی بنایا کہ صوبے کے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا پورا معاوضہ ملے۔ گزشتہ دنوں حکومت پنجاب نے مل مالکان سے کاشتکاروں کو گنے کی ایک سو اسی روپے فی من مقررہ قیمت دلانے میں جو کسان دوست کردار ادا کیا اس سے ہم سب اچھی طرح آگاہ ہیں۔صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ پینے کا صاف پانی زندگی ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے جس پر ہر فرد کا حق ہوناچاہئے۔

لیکن آج ہمارے شہروں اور دیہات میں مقیم عوام کی بڑی تعداد اس بنیادی ضرورت سے محروم ہے۔ حکومت پنجاب نے اپنے عوام کو صاف پانی مہیا کرنے کے لئے ایک عظیم منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے اس منصوبے کا آغاز جنوبی پنجاب کے دیہات سے جلد کیاجارہا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم انشاء اﷲ ’’پنجاب صاف پانی پروگرام‘‘ کے تحت آئندہ تین سالوں کے دوران ستر ارب روپے کی خطیر رقم سے صوبے بھر کے دیہات میں چار کروڑ سے زائد افراد کو صاف اور محفوظ پانی کی سہولت فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

حکومت پنجاب نے مالی سال 2015-16ء کے دوران اس منصوبے کے لئے گیارہ ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم تعلیم کو فروغ دیئے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی۔ اہل دانش تعلیم کے شعبے میں صرف ہونے والے وسائل کو اخراجات نہیں بلکہ

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 23:05:41 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان