بھارت پاکستان کو غیر مستحکم اورجنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے،فضل الرحمان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:41:56 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:39:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:39:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:34:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:32:37 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:27:54 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:27:54 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:27:54 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:25:31 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:24:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:24:21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

بھارت پاکستان کو غیر مستحکم اورجنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے،فضل الرحمان

پاکستان اقتصادی ترقی پر چل پڑا، امریکہ اور دیگر ملکوں کی پالیسیوں پر عمل کیا تو ترقی نہیں کر سکتے ،یمن کی صورتحال پر ہمیں سعودی حکومت کی توقعات پر پورا اترنا چاہئے , راہداری منصوبے پرعمل سے صوبوں کا احساس محرومی ختم کیا جا سکتا ہے ،امریکہ کیساتھ دفاعی معاہدہ ہو سکتا ہے تو چین کیساتھ معاشی معاہدہ کیوں نہیں ،آفتاب شیرپاؤ , یمن بحران حل کرنے کیلئے پاکستان دیگر ممالک سے ملکر کردار ادا کرے،ڈیم نہ بنائے گئے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے،جعفر اقبال ودیگر کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء جے یو آئی (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نریندر مودی کے بیان پر وزارت خارجہ بین الاقوامی سطح پر بھرپور آواز اٹھائے اور حکومت مودی حکومت کے جارحانہ اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ 2 لاکھ فوج دہشتگردی کی آگ بجھانے میں جھونک دی لیکن آگ نہ بجھی بلکہ 2005ء سے آئی ڈی پیز دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پر دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کرنے والے کہاں گئے یمن بحران حل کرنے کیلئے پاکستان دیگر ممالک سے ملکر بھرپور کردار ادا کرے 42 سال سے اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات دے رہی ہے لیکن کوئی نظرثانی نہیں ہوئی ہے لیکن 21 ترمیم اور فوجی عدالتوں کیلئے فوراً قانون سازی ہو جاتی ہے 21ویں ترمیم میں مذہب کے خلاف بنائے گئے قوانین کو حکومت نے واپس لے لیا جس پر حکومت کے شکر گزار ہیں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ آئین کے مطابق بجٹ ہونا چاہئے تھا فیڈریشن کی 4 اکائیوں کو انکے پورے حقوق دیئے جائیں۔

جمعہ کے روز سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت 10 بجکر 10 منٹ پر شروع ہوا ۔بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تقاریر میں آئین پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اراکین کی جانب سے بجٹ تقریر میں پیش کی جانے والی تجاویز کو حکومت سنجیدگی سے لے بجٹ کیلئے صرف اعداد و شمار کو پیش کرنا لازمی نہیں بلکہ تمام بنیادی چیزوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے پاکستان کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے سیکیورتی چیلنج کے بعد اقتصادیات کو مستحکم کرنا مشکل کام ہوتا ہے۔

بھارت کا پاکستان کے خلاف رویے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا بھارت میں نئی حکومت کے آنے کے بعد جارہانہ اقدامات پر پاکستان کو سنجیدگی سے نوٹس لینا ہو گا نریندر مودی نے پاکستان توڑنے پر جو بنگلہ دیش میں بیان دیگر ایوارڈ حاصل کیا اور پھر اقتصادی راہداری پر ہندوستان کا رویہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم اور جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کوصبر و تحمل سے تمام پہلوؤں کو دیکھنا ہو گا ملک کی ترقی کیلئے قوم کو تحفظ دینا ہو گا 9/11 کے بعد پاکستان کو بچانے کیلئے ایک فوجی آمر نے امریکہ کیساتھ اتحادی ہونے کا نعرہ لگایا اور پھر امریکہ نے افغانستان میں جنگ شروع کی اور ہماری پالیسیاں تنزلی کا شکار ہو گئیں اور افغانستان کی آگ پاکستان میں آ گئی اور ہم نے 2 لاکھ فوج اس آگ میں جھونک دی لیکن پھر بھی وہ آگ بجھ نہیں رہی کشمیر متنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے لیکن انکو نہیں مل رہا ہندوستان کیساتھ کشمیر کا مسئلہ ہے جو کہ 38 ہزار مہاجرین بیٹھے ہوئے ہیں جب وہ 1990ء میں آئے آج بھی وہ انہی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں اور انکو کوئی نیا پیکج نہ دینے کی قسم اٹھائی ہے کشمیر کمیٹی نے 2 فروری کو حکومت سے معاہدہ کیا لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہوا مہاجرین کیلئے کوئی ہاؤسنگ سکیم نہیں بنائی گئی کشمیر کمیٹی کی جانب سے 4 ہزار روپے ہر خاندان کو ملتے تھے وہ بھی اب نہیں مل رہے انکا قبرستان بھی نہیں ہے کشمیریوں کی مشکلات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے ملک میں آئی ڈی پیز کا بڑا مسئلہ ہے 2005ء سے جنوبی وزیرستان کا قبیلہ اور وادی تیراہ کا قبیلہ آج تک گھروں کو واپس نہیں جا سکا خیبر پٹی کے قبائل اب پورے ملک میں پھیل گئے قبائل کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور اب دہشتگردوں کو ختم کرنے کے دعویٰ ہو رہے تو انہیں دوبارہ گھروں کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے اگر ان علاقوں میں اب امن ہے تو پھر قبائلیوں کو گھروں میں کیوں نہیں بھیجتے اس وقت پاکستان اقتصادی ترقی پر چل پڑا لیکن اگر ہم نے امریکہ اور دیگر ملکوں کی پالیسیوں پر عمل کیا تو پھر ہم ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ امریکہ ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے اقتصادی لحاظ سے ورلڈ بنک آئی ایم ایف ایشیئن بنک نے قرضوں میں ہمیں جکڑا ہوا ہے جب تک ہم اپنے وسائل استعمال نہیں کرینگے ملک ترقی نہیں کریگا۔

قرضوں کو ادا کرنے کیلئے پھر ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں اصلاحات کے بغیر نظام کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے عدالتی سطح پر سودی نطام کے خاتمے کے فیصلے ہوئے امریکہ میں سود کے بغیر بینکاری شروع ہو گئی لیکن یہاں پر جاری ہے اور ہم سود سے بچنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کرتے چین کی اقتصادی راہداری کے منصوبے کو حکومت نے منطقی انجام تک پہنچایا حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں چین نے ہمیں بھائیوں جیسا رویہ دیا خوش آمدید کہتے ہیں برما کے حالات پر ہر مسلمان کا دل دکھ میں مبتلا ہے لیکن ایک مظلوم مسلمان قوم پر ظلم کے خلاف وہ آواز نہیں اٹھائی گئی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کی آواز بلند کرنے والے کہاں گئے لیکن حقیقت میں یہ مسلمانوں کی نسل کشی ہے ہمارے وزارت خارجہ کو بھرپور بین القوامی سطح پر آواز اٹھانی چاہئے آج یمن کی صورتحال پر دوست سعودی حکومت پریشان ہے اور انکی نظریں ہماری طرف دیکھ رہی ہیں ہمیں انکی توقعات پر پورا اترنا چاہئے اور تمام تر ملکوں کو مل کر بحران کے حل کیلئے اہم ترین کردار ادا کرنا چاہئے اور بھارت کو بھی بھرپور جواب دیا جائے تجارت میں بہتری لانے کیلئے پیداواری چیزوں کو بڑھانا ہو گا 42 سال سے اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ جو بھی اسلامی شریعت کیلئے سفارشات دیتا ہے ان پر کوئی نظرثانی نہیں ہوتی ہم فوجی عدالتیں اور 21 ویں رترمیم پر تو قانون سازی کرتے ہیں۔

21 ویں ترمیم میں مذہب کے خلاف بنائے گئے قوانین کو حکومت نے واپس لیا اس پر حکومت کے شکر گزار ہیں اور پھر ان میں دینی مدارس کو دہشتگردی سے تشبیہ دیتے ہیں دعا گو ہوں کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو دہشتگردی کے خلاف ہم سب ایک پیج پر ہیں لیکن ہر بات کو بھی نہیں مانیں گے اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے بعد ازاں اسپیکر نے ایوان زریں کا اجلاس جمعہ نماز کیلئے 2 بجے تک موخر کر دیا۔

آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کیا لیکن ایوان میں ارکان کی تعداد ون تھرڈ بھی نہیں ہے ہمیں آئین کے مطابق بجٹ بنانا چاہئے اور آئین میں این ایف سی ایوارڈ کیلئے 5 سال ہیں جو جون میں ختم ہو جائے گی لیکن فنانس کمیتی نے بجٹ کے حوالے سے ہم سے کوئی تجاویز بھی نہیں لی۔ وزیر خزانہ نے جو بجٹ پیش کیا وہ غریب دوست بجٹ نہیں ہے آبادی کے مطابق بجٹ بنایا جاتا ہے فیڈریشن کی اکائیوں کو حکومت ساتھ لیکر چلتی ہے اگر حکومت ساتھ نہیں دیگی تو پھر وفاق نہیں چل سکتا۔

صوبوں کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ اپنے اپنے لوگوں کے مسائل حل کر سکیں لیکن اس مرتبہ وہ چیز نظر نہیں آئی اس وقت دہشتگردی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے وسائل کی تقسیم کو منصفانہ ہونا چاہئے بیرونی سرمایہ کاری میں صوبوں کو برابر کا حصہ دینا چاہئے پچھلے سال کے پراجیکٹس میں ایک پراجیکٹ بھی پورا نہیں ہوا تو پھر کس طرح ٹرسٹ بلڈنگ وفاق اور صوبوں کے درمیان بڑھے گا سندھ میں تو آصف زرداری آجاتے ہیں اور اپنے وسائل لے جاتے ہیں بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن خیبرپختونخوا سے کون آئے گا۔

اقتصادی راہداری منصوبہ ایک بہت اچھا منصوبہ ہے اس پر عمل کی ضرورت ہے اس میں تمام صوبوں کی احساس محرومی کو ختم کیا جا سکتا ہے وسائل کی تقسیم پر اعتراصات ہیں اوریجنل روٹس کو خاطر خواہ فنڈنگ دی جائے اس ضمن میں نریندر مودی نے جو اعتراضات اٹھائے وہ صرف پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ پختونوں کے خلاف سازش ہے امریکہ کیساتھ ڈیفنس کا معاہدہ ہو سکتا ہے تو پھر پاکستان چین کیساتھ معاشی بہتری کیلےء معاہدہ کیوں نہیں کر سکتا پختون قوم منصوبے کے ہاریوں کا ڈٹ کا مقابلہ کریگی ملک میں دہشتگردی سے متاثر خیبرپختونخوا ہے ٹی ڈی پیز کو اپنے ملک میں بے گھر کیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو بے گھر کر دیا۔

100 بلین تو ٹی ڈی پیز کیلئے رکھا گیا ہے اس کا منصفانہ استعمال ہو ملک میں مالدار لوگوں پر ٹیکس کیا جائے دہشتگردی میں بیواؤں کا قرض کا اسحاق ڈار نے لینے کا کہا اگر تحقیقات کی جائیں تو .01 فیصد بھی نہیں نکلے گا صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ انکے ریلیف کا خصوصی انتظام کریں ۔زراعت پر ٹیکس کم کیا گیا لیکن یہاں پر پانی کا مسئلہ ہے اگر ہمیں پانی مل جائے تو لاکھوں ایکڑ گندم مل سکتی ہے سی آر بی سی میں پانی نہ ہونے سے سینکڑوں ایکڑ زمین بنجر ہے مندا ڈیم کی فیزی بیلٹی پہلے جاپان اور اب فرانس نے بنائی ہے اس کے لئے بجٹ میں 500 ملین رکھے گئے ہیں۔

کرم تنگی میں پانی نہ ہونے کے باعث مشکلات درپیش ہیں کوئلہ ونڈ اور دیگر سے مہنگی بجلی پیدا ہو گی لیکن اس میں ہائیڈل کو شامل کیا جائے تو پھر نرخوں میں کمی ہو گی وزیراعظم نے کہا کہ شہروں میں 6 گھنٹے اور دیہاتوں میں 8 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو گی لیکن ایسا نہیں پھر کہا گیا کہ بجلی کے بجل نہیں دیئے جاتے ہیں اس لئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے لیکن بجلی کی قیمتوں کو بھی تو چیک کیا جائے پھر صوبوں میں فی کس آدمی کو بھی چیک کیا جائے نیٹ ہائیڈل پرافٹ میں 135 بلین نہیں دیئے گئے پھر گیس پر سرچارج کس طرح صوبوں سے بغیر پوچھے لگائے جا سکتے ہیں۔

جبکہ ہمیں ہمارا حصہ تو دیا نہیں جاتا ہے صوبہ خیبرپختونخوا میں انڈسٹری 60 فیصد بند ہے اس کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے بنیادی ٹیکس ختم کیا جائے فاٹا کو فنڈز تو دیئے جاتے ہیں فاٹا کو 21 بلین فنڈز دیئے گئے جبکہ میٹرو کے برابر یہ فنڈز آدھے ہیں فاٹا کو این ایف سی کا حصہ بنایا جائے تاکہ فاٹا بھی ترقی کر سکے لواری ٹنل کو مکمل کرنے کیلئے مکمل فنڈز دیئے جائیں اور تعمیر تکمیل کیلئے میٹرو کی طرح وقت دیا جائے۔

رانا محمد حیات نے کہا کہ 200 ارب روپے کی سبسڈی زراعت کو دی جائے ڈیری کا شعبہ ملک کا غریب ترین طبقہ ہے ڈیری کو تو منافع پیش کیا لیکن کاشتکار کو کھا گئے کھاد اور یوریا کی قیمتیں کم کی جائیں اور زرعی قرضے کو 7 سے 8 فیصد پر لایا جائے 200 ارب روپے موٹروے کو نہیں بلکہ زراعت اور لائیو سٹاک کو دو پیپلزپارٹی کو 2013ء میں مسلم لیگ ن نے اتنی عبرتناک شکست دی کہ اب انکو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 300 ارب جن لوگوں نے لوٹا انکی جائیدادوں کو نیلام کر کے قومی خزانہ میں پیسے لائے۔ شفقت حسین نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کئی ٹیکسز تو لگائے گئے ہیں لیکن غریبوں کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہ ہوئے اور نہ ہی بے روزگاری کے خاتمے کیلئے کوئی پیش رفت کی گئی زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر اس پر بھی توجہ نہیں دی گئی ہے ٹیکسز حکومت لگا دیتی ہے مگر مراعات نہیں دیتی ہے چوہدری حامد حمید نے کہا کہ مسلم لیگ ن پاکستان کا تاریخ ساز بجٹ لائی ہے ملازمین کو ایڈھاک اور دیگر الاؤنسز دیئے گئے ہیں مسلم لیگ ن کو تمام ادارے خسارے میں ملے تھے لیکن اب معیشت مستحکم ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن تو مشرف کی گود میں بیٹھی تھی جب مہنگائی کا طوفان لیکن مسلم لیگ (ن) نے پالیسیوں سے تمام مسائل حل کئے اگر دھرنے کی سیاست نہ ہوتی تو ملک کے حالات مزید بہتر ہوتے نجکاری کے حوالے سے کافی ادارے اب اپنا بوجھ نہیں سنبھال سکتے ہیں حالانکہ پہلے یہاں ایوان زریں میں ہوائی اڈوں کو بھی پرائیویٹ کرنے کے نعرے لگائے گئے اور من پسند تقسیم کیلئے سیٹوں کو بیچا گیا امجد علی خان نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکسز میں کمی نہیں لائی گئی اور نہ ہی ایف بی آر کو غیر سیاسی کیا گیا۔

یہ بجٹ صرف امیروں کیلئے ہیں تعلیم اور صحت کیلئے خاص فنڈز نہیں رکھے گئے ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے‘ ۔چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ کسی بھی ممبر نے بجٹ بحث میں کوئی بھی تجویز پیش نہیں کی جب حج اسکینڈل میں قوم کو لوٹا گیا لیکن ہم نے حج اسکیموں میں بہتر طریقے سے نظرثانی کی ہے روز اول سے حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے پر زور دیا ہماری حکومت کا آج تک کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا عبدالوسیم نے کہا کہ بجٹ میں اشیائے خورد و نوش پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے اور مہنگائی 12 فیصد دیگر تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم نہ بنائے گئے تو پھر صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے گرین بس کیلئے بجٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں رکھا گیا مردم شماری مارچ میں کرنے کا کہا گیا لیکن بجٹ میں مردم شماری کیلئے بھی پیسے نہیں رکھے گئے بجلی بحران کے خاتمے کیلئے ڈیم بنائے جائیں ملک میں کرپشن اتنی بڑھ گئی کہ آٹا کرپٹ اور نمک شفاف رہ گیا ہے ایف بی آر میں 4 سو ارب روپے کی کرپشن ہے۔

فاٹا کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے ہیں فاٹا میں کوئی یونیورسٹی نہیں کوئی کالج نہیں تین سال سے کوئی سکول نہیں بنا ہے اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے غیر منتخب شخص کو فاٹا کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا ہے فاٹا کے عوام نازک حالات سے گزر رہے ہیں فاٹا کے عوام کو صرف ایک میگا واٹ بجلی ملتی ہے فاٹا کے معذوروں اور یتیموں کیلئے کوئی فنڈز مختص نہیں ہیں فاٹا کے بارے میں اصلاحات کے نام پر تین کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں ایسے افراد ان کمیٹیوں میں شامل ہیں جنہیں پشتو بولنا بھی نہیں آتا ہے فاٹا کو کونسل کی بجائے اسمبلی دی جائے یا الگ صوبہ بنایا جائے انہوں نے کہا کہ فاٹا میں جو لوگ مایوسی کاشکار ہیں نوجوان طبقہ احساس محرومی کا شکار ہے آج قبائلی عوام ذمہ داری کے قابل نہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے مسائل پر توجہ دی جائے بجٹ میں اضافہ کیا جائے رکن اسمبلی مراد سعید نے کہا کہ صحت اور تعلیم کیلئے چار فیصد بجٹ نہیں رکھا گیا اس کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے پاکستان غریب ملک ہے اس میں غریب ،غریب تراور امیر امیر سے تر ہوتا جارہا ہے پاکستان کو پانی ، بجلی صحت اور تعلیم کی ضرورت ہے صوبوں کی محرومی کو ختم کرنا ہوگا ۔

طارق چوہدری نے کہا کہ اقلیت کو ایک ڈکٹیٹر نے الیکشن سے باہر کردیا ہے جو غیر جمہوری طریقہ ہے غیر مسلم کمیونٹی کو بھی جنرل انتخابات کے ذریعے منتخب ہوکر ایوان میں آنے دیا جائے ۔ کیونکہ ہماری کمیونٹی ہمیں اس طرح عوامی نمائندہ ماننے کیلئے تیار ہے اس بات کو تسلیم کرنے کیلئے کوئی اضافی بجٹ نہیں چاہیے جنرل نشستوں کے بڑھانے پر اقلیت نشستیں نہیں بڑی اور ایوان دس نشتیں بڑھا کر پندرہ کردی جائیں ۔

پیر اسلم بودلہ نے کہا کہ میاں چنوں ، لاہور سے عبدالحکیم روڈ سے میرا علاقہ مستفید ہوئے جو اس بجٹ میں ان کیلئے پیسے رکھے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس بجٹ میں زراعت کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اس لئے اس پر حکومت نظر ثانی کرے زراعت کی سبسڈی میں اضافہ کیا جائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غریب بچیوں کی شادی کیلئے علیحدہ فنڈز مقرر کیا جائے ۔

سمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ کراچی کو اس بجٹ میں لولی پاپ دیا گیا ہے کراچی کو پانی کی ضرورت ہے اس کے لئے پانی کے مد میں کم پیسے رکھے گئے ہیں جس کو بڑھایا جائے کراچی میں امن کی ضرورت ہے اقتصادی راہداری میں کراچی کا ذکر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے نہ لگایا جائے امن کیلئے کارروائی کی جائے لیکن لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ پر تمام دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی جائے ۔

شاہنواز رانجھا نے کہا کہ موجودہ بجٹ ایک عوامی بجٹ ہے جے ڈی پی کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا گیا لیکن اس میں 4.4فیصد اضافہ ہوا ہے ستر فیصد اضافے کے ساتھ سٹاک مارکیٹ بڑی جو بہت بڑی کامیابی ہے 2013-14ء میں دس نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں بین الاقوامی اکنامسٹ نے پاکستان کی تعریف کی ہے زراعت کی وزارت کو مراعات دینے چاہیے تاکہ کسان اس سے مستفید ہوسکیں

12/06/2015 - 22:27:54 :وقت اشاعت