پنجاب کا 14 کھرب 47 ارب 24 کروڑ کا بجٹ پیش،تنخواہوں،پنشن میں 7.5فیصداضافہ، 27 فیصد بجٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:25:31 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:24:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:24:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:18:09 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:18:09 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:18:09 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:03:25 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:01:54 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:00:03 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 22:00:03 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:59:05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پنجاب کا 14 کھرب 47 ارب 24 کروڑ کا بجٹ پیش،تنخواہوں،پنشن میں 7.5فیصداضافہ، 27 فیصد بجٹ تعلیم کیلئے مختص

ملازمین کے میڈیکل الاوٴنس میں 25 فیصد اضافہ،ترقیاتی منصوبوں کے لئے 400 ارب، سیلز ٹیکس کا نیا نظام رائج کرنے کا فیصلہ ، 12 سیکٹرز 2 سے 10 فیصد تک فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس لاگو ہوگا , جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے 150 ارب، صحت کے لئے 130 ارب اور امن وامان کے لئے 110 ارب 70 کروڑ روپے مختص، 500 مراکز صحت تعمیر کئے جائیں گے،توانائی کے 618 ارب روپے کے منصوبے زیرتکمیل ہیں , لاہور میں اورنج ٹرین کے لئے 10 ارب،سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے 20 ارب، محکمہ آبپاشی کے لئے 50 ارب 83 کروڑ، لائیو اسٹاک کے لئے 8 ارب 59 کروڑ مختص،صوبائی وزیرخزانہ عائشہ غوث کی بجٹ تقریر

لاہور اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء پنجاب حکومت نے مالی سال 16-2015 کا 14 کھرب 47 ارب 24 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 400 ارب اور بجٹ کا 27 فیصد تعلیم کے شعبے کیلئے مختص کیا گیا ہیپنجاب میں سیلز ٹیکس کا نیا نظام رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تقریباً 12 سیکٹرز پر 17 فیصد کے بجائے 2 سے 10 فیصد تک فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے 7 فیصد اور میڈیکل الاوٴنس میں 25 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیکل الاوٴنس میں اضافہ پنشنرز کو بھی ملے گا۔ پنجاب کی وزیرخزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث نے بجٹ پیش کیا ۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی تاہم شور شرابے کے باوجود صوبائی وزیرخزانہ نے بجٹ تقریر جاری رکھی۔ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ کا مجموعی حجم 14 کھرب، 47 ارب 24 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 400 ارب، تعلیم کے شعبے کے لئے 310 ارب 20 کروڑ، جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے 150 ارب، صحت کے لئے 130 ارب اور امن وامان کے لئے 110 ارب 70 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

صوبہ بھر میں 500 مراکز صحت تعمیر کئے جائیں گے بجٹ تقریر میں صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے وفاق اور صوبائی حکومت کے تحت مجموعی طورپر صوبے میں توانائی کے 618 ارب روپے کے منصوبے زیرتکمیل ہیں اور ان منصوبوں میں پنجاب حکومت 218 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے جب کہ بجٹ میں سڑکوں پر اور پلوں کی تعمیر کے لےئے 69 ارب روپے، توانائی کے شعبوں کے لئے 34 ارب، لاہور میں اورنج ٹرین کے لئے 10 ارب،سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے 20 ارب، محکمہ آبپاشی کے لئے 50 ارب 83 کروڑ، لائیو اسٹاک کے لئے 8 ارب 59 کروڑ ، پینے کے صاف پانی کے منصوبوں کے لئے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس کا آغاز جنوبی پنجاب کے دیہات سے ہوگا۔

صوبائی بجٹ میں براہ راست ترسیلات کی مد میں وفاق سے 30 ارب 40 کروڑ روپے حاصل ہوں گے، کل آمدنی کا تخمینہ ایک ہزار440 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ ایک ارب روپے رجب طیب اردوان اسپتال کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غریب عوام کو بلاسود قرضوں کیلیے 2 ارب، پاکستان کڈنی اینڈ لیورانسٹیٹیوٹ کیلیے 3 ارب، اسپتالوں میں مفت ادویات کیلیے10 ارب 82 کروڑ، کسانوں کو ٹریکٹردینے کیلیے 5 ارب، محکمہ پولیس کے لیے 94 ارب 62 کروڑ، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد سمیت بڑے شہروں میں جدید سہولیات کے لئے16 ارب 36 کروڑ، 26 ارب روپے لاگت سے ملتان میٹروبس منصوبہ مکمل کیا جائے گا جب کہ بجٹ میں دیہی سڑکوں کی تعمیر کے لئے 67 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ عائشہ غوث نے کہا کہ پنجاب میں سیلز ٹیکس کا نیا نظام رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تقریباً 12 سیکٹرز پر 17 فیصد کے بجائے 2 سے 10 فیصد تک فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔ وزیر خزانہ پنجاب کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے 7 فیصد اور میڈیکل الاوٴنس میں 25 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیکل الاوٴنس میں اضافہ پنشنرز کو بھی ملے گا۔

سرکاری ملازمین کے 2 ایڈہاک ریلیف الاوٴنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین
کیلئے 15 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی عمر کی حد میں تین سال رعایت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 18 سے 20 تک کے ڈاکٹروں کی 10 ہزار آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔

انہوں نے پنجاب میں کم ازکم تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 13 ہزار کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 5 ارب، کسانوں کو ٹریکٹر دینے کیلئے 5 ارب روپے، لائیو سٹاک کے شعبے کے لئے 8 ارب 59 کروڑ روپے، محکمہ پولیس کیلئے 94 ارب 62 کروڑ روپے، محکمہ آبپاشی کے لئے 50 ارب 85 کروڑ روپے، معدنی ذخائر سے استفادہ کے لئے 2 ارب 17 کروڑ کی رقم، ماڈل مویشی منڈیوں کیلئے 80 کروڑ روپے، مواصلات اور ورکس کے لئے 81 ارب روپے، سیاحت کے فروغ کے لیے 93 کروڑ روپے جبکہ زرعی شعبے کے لئے 19 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

مظفر گڑھ میں ترکی کے تعاون سے بنے ہسپتال کی توسیع کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جھنگ اور ساہیوال میں نئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔ پسماندہ علاقوں میں چار دانش سکول بھی قائم کئے جائیں گے۔ بے روزگاروں کے لیے اپنا روزگار اسکیم کے تحت 50 ہزار گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس منصوبے کے لیے 31 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت محنت کشوں کیلئے لاہور اور ملتان میں رہائشی منصوبے بھی شروع کرے گی۔

وزیرکانہ پنجا ب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ منتخب حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اور ہماری حکومت کی ترجیحات اور پالیسیوں میں تسلسل کا آئینہ دار ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ان ترجیحات کا مقصد پنجاب کو ایک ایسا صوبہ بنانا ہے جہاں ایک عام آدمی کی رسائی صحت اور تعلیم سمیت زندگی کی تمام سہولتوں تک ممکن ہو، جہاں تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کو روزگار کے وسیع تر مواقع میسر آ سکیں۔

جہاں صنعت، زراعت اور گھریلو استعمال کے لئے وافر بجلی دستیاب ہو، جہاں کی رواں دواں صنعتیں اور سرسبز زراعت ایک خوشحال پاکستان کی ضامن ہوں، جہاں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی ہو اور جہاں کے شہری ہر طرح کے تشدد اور دہشت گردی کے خوف سے آزاد، پرامن اور مطمئن زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے صوبے میں ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے ویژن کے مطابق ایک اقتصادی نمو کی جامع حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

صوبے کی معاشی ترقی کی شرح 2018ء تک سات سے آٹھ فیصد تک لے کر جانا۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے سالانہ دس لاکھ مواقع پیدا کرنا۔ 2018ء تک صوبے میں نجی سرمایہ کاری کو دوگنا کرنا۔ دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنانا۔ برآمدات میں اضافے کی شرح کو پندرہ فیصد تک لے جانا شامل ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ مالی سال 2015-16ء کی کل آمدن کا تخمینہ ایک ہزار چار سو سینتالیس ارب چوبیس کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ جس میں آٹھ سو اٹھاسی کروڑ روپے وفاق کے ٹیکسوں کی مد میں صوبائی حصہ ہیج واین ایف سی ایوارڈ کے تحت حاصل ہوگا۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت سے براہ راست منتقلیوں کی مد میں اکتیس ارب چار کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے۔ مزید برآں صوبائی ریونیو میں دو سو چھپن ارب سات کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے جس میں ٹیکسوں کی مد میں ایک سو ساٹھ ارب انسٹھ کروڑ روپے اور نان ٹیکس کی مد میں پچانوے ارب سنتالیس کروڑ روپے شامل ہیں۔

جناب سپیکر! مالی سال 2015-16 کے جاری اخراجات کا کل تخمینہ ایک ہزار چار سو سینتالیس ارب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 22:18:09 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان