اضافی بیلیٹ پیپر ہمیں ہرانے کیلئے چھپوائے گئے ، ثبوت تھیلیوں سے مل گئے ،عمران ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:29:30 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:15:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:14:04 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:14:04 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:11:33 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:10:05 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:10:05 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:10:05 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 21:01:37 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 20:42:05 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 20:28:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

اضافی بیلیٹ پیپر ہمیں ہرانے کیلئے چھپوائے گئے ، ثبوت تھیلیوں سے مل گئے ،عمران خان

دھرنا نہ ہوتا تو ہمارے کیسز ٹریبونل میں پانچ سال پڑا رہتا، پنجاب میں مسترد ووٹوں کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ ن کو تھا , نواز شریف کی تقریر کے بعد آر ایم ایس سسٹم بند ہوا اس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں، جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی جانے کا فیصلہ کروں گا ، دھاندلی میں بڑے کھلاڑی تھے ، باکس پھاڑے گئے اور یہ ریٹررننگ آفیسرز کے ساتھ میچ فکسنگ کے بغیر نہیں ہو سکتا، عام انتخابات اسی سال ہونگے،جب تک ملک میں صاف شفاف انتخابات نہیں ہونگے جمہوریت نہیں آئیگی، اقتدار کیلئے نہیں پاکستان کے مستقبل کیلئے سب کچھ کر رہے ہیں، میڈیا سے بات چیت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اضافی بیلیٹ پیپر ہمیں ہرانے کیلئے چھپوائے گئے ، ثبوت تھیلیوں سے مل گئے ، دھرنا نہ ہوتا تو ہمارے کیسز ٹریبونل میں پانچ سال پڑا رہتا، پنجاب میں مسترد ووٹوں کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ ن کو تھا، نواز شریف کی تقریر کے بعد آر ایم ایس سسٹم بند ہوا اس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں، جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی جانے کا فیصلہ کروں گا ، دھاندلی میں بڑے کھلاڑی تھے ، باکسز پھاڑے گئے اور یہ ریٹررننگ آفیسرز کے ساتھ میچ فکسنگ کے بغیر نہیں ہو سکتا، عام انتخابات اسی سال ہونگے، جب تک ملک میں صاف شفاف انتخابات نہیں ہونگے جمہوریت نہیں آئیگی، اقتدار کیلئے نہیں پاکستان کے مستقبل کیلئے سب کچھ کر رہے ہیں۔

جمعہ کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چار مرتبہ اپنا بیان بدلا ، 20 ہزار کے قریب فارم 15 تھیلوں میں موجود نہیں تھے فارم 15 کے بغیر فارم 14 درست نہیں بن سکتا ۔ 70 ہزار پولنگ اسٹیشنوں میں 56 ہزار کا ریکارڈ سامنے آیا ہے 20 ہزار فارم 15 غائب ، 6 ہزار 870 پولنگ بیگ کی سیلیں ٹوٹی ہوئی جس کا مطلب ہے کہ اڑھائی کروڑ بیلیٹ کا کورئی ریکارڈ ہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ 149 حلقوں پر اضافی بیلیٹ پیپر کی شفقت کی گئی اور ان میں سے صرف 6 حلقوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو اضافی بیلیٹ پیپر چھپوائے گئے اور کہا گیا کہ تحریک انصاف کے حلقوں میں بھی زائد پیپرز چھپوائے گئے انہوں نے کہا کہ اضافی بیلیٹ پیپر ہمیں ہروانے کیلئے دیئے گئے ۔

اضافی بیلیٹ پیپرز کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ خواجہ آصف کے حلقے میں 28 فیصد زائد بیلیٹ پیپر چھپوائے گئے اور ان کے حلقے میں ایک لاکھ 20 ہزار اضافی بیلیٹ پیپر دیئے گئے جن میں سے دو لاکھ 45 ہزار بیلیٹ کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے اور 75 فیصد فارم 15 غائب ہے ۔ این اے 119 میں حمزہ شہباز کے حلقے میں 21 فیصد اضافی بیلیٹ پیپرز دیئے گئے 62 ہزار اضافی بیلیٹ پیپرز دیئے گئے ، 96 ہزار بیلیٹ پیپر کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

این اے 125 سے 60 فیصد فارم 15 غائب ہیں ۔ کیپٹن صفدر کے حلقے میں 16 فیصد زائد بیلیٹ پیپرز چھاپے گئے ۔ خرم دستگیر کے حلقے میں 8 فیصد ، اسی طرح عثمان ابراہیم ، غلام رسول اور دیگر امیدواروں کے حلقے میں اضافے بیلیٹ پیپر بھیجے گئے ۔ فارم 15 کے بعد دوسرا طریقہ انگوٹھوں کے ذریعے ووٹ کی تصدیق کا تھا میرے حلقے میں 93ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خود کہا ہے کہ 60 سے 70 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکتی کیونکہ مقناطیسی سیاہی استعمال نہیں ہوئی جبکہ موجودہ چیئرمین نادرا نے کہا ہے کہ ہمارے پاس تو مشین ہی نہیں ہے عمران خان نے کہا کہ یو این ڈی پی نے آر ایم ایس نظام دیا تھا جس میں کمپیوٹر اور ڈیٹا آپریٹر کا کام تھا کہ وہ ریکارڈ کو فوری طور پر محفوظ کرے لیکن جب 11 بج کر 20منٹ پر تقریر کی تو اس کے بعد آر ایم ایس سسٹم بند ہوا اس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئی کمیپوٹرز آپریٹرز

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 21:10:05 :وقت اشاعت