ساڑھے 12 ایکڑ زمین والے کاشتکار کو ٹیوب ویل لگانے کی د میں ایک لاکھ روپے جمع کرانے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:37:20 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:34:49 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:33:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:33:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:30:17 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:30:17 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:30:17 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:18:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:18:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:16:38 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:16:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

ساڑھے 12 ایکڑ زمین والے کاشتکار کو ٹیوب ویل لگانے کی د میں ایک لاکھ روپے جمع کرانے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ٗ ایف بی آر کو مضبوط کیا جائے ٗتوانائی کے بحران کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ٗبجٹ بحث پر اظہار خیا ل

مسلم لیگ (ن) کی حکومت میرٹ اور شفافیت کی پالیسی پر گامزن رہے گی ٗچوہدری جعفر اقبال , صوبہ خیبرپختونخوا کی صنعتوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ٗ قبائلی علاقوں کو این ایف سی ایوارڈ کا حصہ بنایا جائے ٗآفتاب شیر پاؤ , فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کیلئے حکومت نے بجٹ میں 21 ارب مختص کئے ہیں ٗعبد القادر بلوچ کی وضاحت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) اراکین قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ وزیراعظم یوتھ لون سکیم کو سہل بنایا جائے ٗساڑھے 12 ایکڑ زمین والے کاشتکار کو ٹیوب ویل لگانے کی د میں ایک لاکھ روپے جمع کرانے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ٗبجٹ میں ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ایف بی آر کو مضبوط کیا جائے ٗتوانائی کے بحران کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2015-16 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اصغر علی شاہ نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں حکومت نے اضافہ کیا جس کیلئے ہم شکرگزار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتکی طرف سے قرضہ سکیم کو آسان بنایا جائے تاکہ عام، غریب اور مستحق نوجوان اس سکیم سے استفادہ کر سکیں۔ پاکستان سٹیل ملزم کو فعال بنایا جائے اور صنعتوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے ر بیروزگاری کا سدباب کیا جائے۔

انہوں نے زرعی شعبہ کی اہمیت پر زور دیتے وہے کہا کہ زرعی اجناس کیلئے حکومت کی طرف سے سپورٹ پرائس کا اعلان تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن جب فصل اترنے والی ہوتی ہے تو زرعی اجناس کی دررآمد کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس صورتحال سے کاشتکار ارو زمیندار طبقہ شدید مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ہر قسم کے ٹیکس دے رہا ہے۔ ساڑھے 12 ایکڑ زمین والے کاشتکار کو ٹیوب ویل لگانے کی د میں ایک لاکھ روپے جمع کرانے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

چوہدری حامد حمید نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کی تاریخ کا بہت اچھا بجٹ دیا ہے اس میں امن عامہ کی بحالی اور ملازمین کیلئے تنخواہوں میں اضافہ سمیت بے شمار اہم اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ حکومت نے نامساعد حالات میں اقتدار سنبھالا، ہمیں ورثے میں لولی لنگڑی معیشت ملی۔ وزیر خزانہ کی شبانہ روز محنت نے ملکی معیشت کو سنبھالا دیا ہے۔

بہت سے ممالک کو ہماری ترقی سے فکر لاحق ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا یوتھ لون پروگرام بڑی محنت اور شفافیت کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔ میرٹ پر نوجوان اس سے استفادہ کر رہی ہے، ہم نے شفافیت کو ذاتی اور سیاسی مفادات پر ترجیح دی ہے۔ دھرنے اور کنٹینر کی سیاست نہ ہوتی تو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک سال پہلے شروع ہو جاتی۔ ترقی یافتہ ممالک نے نجکاری کی پالیسی اختار کی اور ترقی کی منازل طے کیں، ہماری حکومت بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے کہاکہ گزشتہ سال کے بجٹ کے شرح نمو، آمدن سمیت کئی اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے۔ بجٹ میں ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ایف بی آر کو مضبوط کیا جائے۔ بجٹ کے بعد منی بجٹ نہیں آنا چاہیے۔ حکومت کو عوام کا طرز زندگی بہتر بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ تعلیم کا بجٹ ہر صورت 4 فیصد تک لانا چاہیے اور صوبوں کے ساتھ مل کر مربوط تعلیمی نظام رائج کیا اجئے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کم ہے اسے بڑھا کر کم از کم 20 فیصد کیا جائے۔ ڈائریکٹ ٹیکسوں کو فروغ دیا جائے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہیے کہ بجٹ کی بہتری کیلئے موثر تجاویز دے، صرف تنقید برائے تنقید کی جا رہی ہے۔ انہیں بجٹ پڑھ کر آنا چاہیے تھا۔ ریلوے نے گزشتہ دو سالوں میں بہتری کا جو سفر شروع کیا ہے اس پر کسی نے بات نہیں کی۔

حکومت کے اچھے اقدامات کو کھلے دل سے سراہا جانا چاہیے۔ اپوزیشن اگر اعداد و شمار کے ساتھ بات کر کے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی محمد نواز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے توانائی کے بحران کے خاتمے سمیت اقتصادی بحالی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔ ہم نے دو سالوں میں حج کے نظام کو بہتر بنایا۔ انہوں نے زرعی شعبہ کیلئے شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کی سکیم کا ذکر کیا اور کہا کہ پی آئی اے، سٹیل ملز اور واپڈا میں اقربا پروری کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں۔

ہماری حکومت

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 18:30:17 :وقت اشاعت