پاکستان فیڈریشن چیمبرز آف ایگریکلچر اینڈ لائیو سٹاک کے پلیٹ فارم سے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:30:17 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:18:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:18:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:16:38 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:16:38 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:07:03 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:05:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:03:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:57:57 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:55:43 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:55:43
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

پاکستان فیڈریشن چیمبرز آف ایگریکلچر اینڈ لائیو سٹاک کے پلیٹ فارم سے

نمائندہ کاشتکاروں کے ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں ‘سابق وزیرچوہدری محمداقبال

ملتان۔12 جون (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) پاکستان فیڈریشن چیمبرز آف ایگریکلچر اینڈ لائیو سٹاک کے پلیٹ فارم سے نمائندہ کاشتکاروں کے ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں جو زراعت کی ترقی اور کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لئے تجاویز دیں جنہیں میں ایوانِ اقتدار تک پہنچا کر ان پر عمل درآمد کرانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ یہ بات سابق وزیر خوراک و مال چوہدری محمد اقبال نے پاکستان فیڈریشن چیمبرز آف ایگریکلچر اینڈ لائیو سٹاک کے زیر انتظام مقامی ہوٹل میں دو روزہ قومی کانفرنس برائے زرعی ترقی کی اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک 97 فیصد کاشتکار کمیونٹی کو نمائندگی نہ ملی تو اس وقت تک ان کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ وقتاً فوقتاً اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد لائق تحسین ہے۔ اس سے کاشتکاروں کے مسائل اور ان کے حل کے لئے مختلف تجاویز حکام بالا تک پہنچائی جائیں گی۔ کانفرنس کے شرکاء سے سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈریشن چیمبرز آف ایگریکلچر اینڈ لائیو سٹاک فقیر نصرت حسین نے گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے نمائندہ کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ وائیڈ آرگنائزیشن (WWO) کا مقصد اس تنظیم کو گراس روٹ لیول تک لے کر جانا ہے تاکہ کسانوں کے مسائل اور ان کے حل کے لئے مئوثر طور پر اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے لائیو سٹاک کی برآمد پر پابندی کی وجہ سے کسانوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کسان سب سے زیادہ ان ڈائریکٹ اور ڈائریکٹ ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس کھادوں کی درآمد پر 14 ارب کی سبسڈی دی گئی لیکن اس کے باوجود ایک بھی بوری کاشتکاروں تک نہیں پہنچی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پروگراموں کے انعقاد سے ہمیں کاشتکاروں کے مسائل سمجھنے اور انہیں حکام بالا تک پہنچانے اور فصلوں کی پیداوار، مارکیٹنگ اور دوسرے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ لائیو سٹاک کی ترقی کے لئے بھی چیمبر کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کر کے ملک میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کے لئے انقلابی اقدامات کے لئے تجاویز سے حکام بالا کو آگاہ کیا جائے گا۔قبل ازیں پنجاب چیپٹر کی صدارت کے لئے چوہدری محمد اقبال کو بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔

12/06/2015 - 18:07:03 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان