سزائے موت پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہے،کسی دباؤ میں آئے بغیر سزائے موت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:07:03 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:05:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 18:03:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:57:57 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:55:43 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:55:43 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:32:19 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:30:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:30:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:30:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:29:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سزائے موت پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہے،کسی دباؤ میں آئے بغیر سزائے موت پر عملدرآمد جاری رہے گا، اس کے خلاف طوفان برپا کرنے والے ممالک کو ہمارے قانون کا احترام کرنا چاہیے، کسی این جی او کو ملک کے مفادات، ثقافت اور اقدار کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی مقامی اور غیر ملکی این جی اوز کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے، تاہم ملک کے قانون اور صرف اپنے چارٹر کے تحت کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کی سپورٹ کریں گے

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 12 جون (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سزائے موت پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہے،کسی دباؤ میں آئے بغیر سزائے موت پر عملدرآمد جاری رہے گا، اس کے خلاف طوفان برپا کرنے والے ممالک کو ہمارے قانون کا احترام کرنا چاہیے، کسی این جی او کو ملک کے مفادات، ثقافت اور اقدار کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی مقامی اور غیر ملکی این جی اوز کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے، تاہم ملک کے قانون اور صرف اپنے چارٹر کے تحت کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کی سپورٹ کریں گے۔

جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی این جی اوز کے معاملے پر تفصیل سے بات پارلیمنٹ میں کرونگا تاہم این جی اوز کے حوالے سے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں مادر پدر آزادی کی پالیسی چل رہی تھی، سال ہا سال سے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تھی، کسی این جی او کا کام اس کے چارٹر کے تحت اگر اسلام آباد میں ہے تو وہ بلوچستان، گلگت بلتستان یا قبائلی علاقوں میں سرگرم عمل تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیک نام این جی اوز عوام کی فلاح و بہبود اور اپنے چارٹر کے تحت کام کر رہی ہیں، ایک سال پہلے ہم نے فیصلہ کیا کہ اب این جی اوز کے حوالے سے مادر پدر آزادی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے میرا بین الاقوامی این جی اوز اور ان کی حکومتوں کیلئے یہ پیغام ہے کہ اچھی این جی اوز کو پاکستان کے قاعدے اور قانون اور ہمارے مفاد کا احترام کرنا ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ رجسٹرڈ کسی اور مقصد کیلئے ہوں اور کام کوئی اور کر رہی ہوں، اچھا کام کرنے والی این جی اوز کی سپورٹ کریں گے مگر انکی چھتری کے نیچے کام کرنے والی منفی سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کو ہرگز اجازت نہیں دینگے۔

انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق بعض این جی اوز ملک کے خلاف کام کر رہی ہیں، انکے خلاف کارروائی کریں گے اور اس حوالے سے کوئی سفارش یا دباؤ قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض این جی اوز گنی اور زمبیا میں زجسٹرڈ ہیں اور پاکستان میں بلوچستان اور گلگت بلتستان کی صورتحال پر فوکس کر رہی ہیں، بھارت، سری لنکا سمیت دیگر ممالک میں بھی اس حوالے سے قانون اور ضابطے موجود ہیں، وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں دیگر وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں، یہ این جی اوز کے حوالے سے پالیسی کو حتمی شکل دے گی۔

انہوں نے کہا کہ 12 ممالک نے پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا ہے اور تین ممالک اسرائیل، بھارت اور امریکہ نے مخالفت کی ہے اور ان این جی اوز کی حمایت کی ہے، ہمارا ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفادات، کلچر اور اقدار کے خلاف کسی این جی او کو کام کرنے کی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 17:55:43 :وقت اشاعت