آئندہ نسلوں کو ایک خوشحال اور پر امن ملک دینے کے لئے کڑے احتساب کا عمل شروع کرنا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:29:01 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:29:01 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:25:37 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:23:46 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:21:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:21:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:13:56 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:08:01 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:02:04 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:49 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

آئندہ نسلوں کو ایک خوشحال اور پر امن ملک دینے کے لئے کڑے احتساب کا عمل شروع کرنا ہو گا، اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، معاشی اہداف حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں، معاشی شرح نمو کے لئے محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا چاہیے

سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کا اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 12 جون ((اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء)) سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک غریبوں کی حالت نہیں بدلی، آئندہ نسلوں کو ایک خوشحال اور پر امن ملک دینے کے لئے کڑے احتساب کا عمل شروع کرنا ہو گا، اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، معاشی اہداف حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں، معاشی شرح نمو کے لئے محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا چاہیے۔

جمعہ کو آئندہ مالی سال 2016-15ء کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، اگلے مالی سال کے اہداف بھی غیر حقیقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بجلی، گیس اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لئے معاشی اہداف بھی حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مضبوط بنانے کے لئے اداروں کو مستحکم کرنا ہو گا، فوج اس لئے مضبوط ہے کہ اس میں نظم و ضبط ہے، سٹیٹ بینک اور نادرا بھی کسی حد تک ٹھیک ہیں، باقی اداروں کی حالت ہمارے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک غریبوں کی حالت نہیں بدلی، آئندہ نسلوں کو ایک خوشحال اور پر امن ملک دینے کے لئے کڑے احتساب کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ معیشت کی بنیاد زراعت، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے ہیں، زراعت کا شعبہ زوال پذیر ہے اس کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو عشروں کے درمیان ہمارے قرضوں میں بہت اضافہ ہوا ہے اور رواں اخراجات میں بھی قرضوں کا بہت زیادہ حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کا تناسب 64.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے، انسانی وسائل کی ترقی اور سماجی شعبے پر توجہ نہیں دی جا رہی، اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو کے لئے محصولات کی وصولی بڑھانا ہو گی۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں تاریخی اقدامات کئے، اس وقت کے صدر مملکت نے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 17:21:21 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان