لاہور: پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:25:37 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:23:46 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:21:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:21:21 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:13:56 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:08:01 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:02:04 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:49 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

لاہور: پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔

لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 12 جون 2015 ء): اسپیکر رانا اقبال کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس ہوا جس میں 16-2015 کے مالی سال کے لیے پنجاب کا بجٹ پیش کیا گیا. پنجاب بجٹ کا حجم 14 کھرب ، 47 ارب اور 24 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے. وزیر خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث کا آئندہ مالی سال 16-2015ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تعلیم کا شعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

تعلیم پر بجٹ کا 27 فیصد خرچ کیا جائے گا۔ پنجاب میں تعلیم کے لئے 320 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ صحت کے لئے 31 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں 500 مراکز صحت تعمیر کئے جائیں گے۔ وزیر خزانہ عائشہ غوث کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیلز ٹیکس کا نیا نظام رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تقریباً 12 سیکٹرز پر 17 فیصد کے بجائے 2 سے 10 فیصد تک فلیٹ ریٹ سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔

وزیر خزانہ پنجاب کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے 7 فیصد اور میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیکل الاؤنس میں اضافہ پنشنرز کو بھی ملے گا۔ سرکاری ملازمین کے 2 ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے 15 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی عمر کی حد میں تین سال رعایت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 18 سے 20 تک کے ڈاکٹروں کی 10 ہزار آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔

صوبائی وزیر خزانہ نے پنجاب میں کم ازکم تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 13 ہزار کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر خزانہ عائشہ غوث نے بتایا کہ پنجاب میں آئندہ مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ 400 ارب روپے، لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 5 ارب، کسانوں کو ٹریکٹر دینے کیلئے 5 ارب روپے، لائیو سٹاک کے شعبے کے لئے 8 ارب 59 کروڑ روپے، محکمہ پولیس کیلئے 94 ارب 62 کروڑ روپے، محکمہ آبپاشی کے لئے 50 ارب 85 کروڑ روپے، دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے لئے 150 ارب، معدنی ذخائر سے استفادہ کے لئے 2 ارب 17 کروڑ کی رقم، ماڈل مویشی منڈیوں کیلئے 80 کروڑ روپے، مواصلات اور ورکس کے لئے 81 ارب روپے، سیاحت کے فروغ کے لیے 93 کروڑ روپے جبکہ زرعی شعبے کے لئے 19 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی پر 20 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ مظفر گڑھ میں ترکی کے تعاون سے بنے ہسپتال کی توسیع کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جھنگ اور ساہیوال میں نئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔ پسماندہ علاقوں میں چار دانش سکول بھی قائم کئے جائیں گے۔ بے روزگاروں کے لیے اپنا روزگار اسکیم کے تحت 50 ہزار گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس منصوبے کے لیے 31 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت محنت کشوں کیلئے لاہور اور ملتان میں رہائشی منصوبے بھی شروع کرے گی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی اسمبلی آمد پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے۔ اپوزیشن اراکین نے بجٹ تقریر کے دوران سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کئے رکھا جبکہ شدید نعرہ بازی بھی کی۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمو د الرشید کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو سال میں بھی بجٹ میں اپوزیشن کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث ہم نے احتجاج کا فیصلہ کیا.

12/06/2015 - 17:08:01 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان