سندھ ہائی کورٹ ، پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کیس پر فیصلہ محفوظ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:01:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:59:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:59:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:59:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:58:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:58:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سندھ ہائی کورٹ ، پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کیس پر فیصلہ محفوظ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) سندھ ہائی کورٹ نے پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ غیر معینہ مدت تک محفوظ کر لیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سو سو روپے نہیں دس دس روپے جرمانے عائد کریں گے اور یہ سب نوکریوں سے جائیں گے۔سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آئی جی سندھ اور دیگر پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی کو وزیر اعظم کے ساتھ ڈیوٹی پر جانے کی اجازت دی جبکہ پولیس کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے عدالتی امور میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پولیس ملک کی خاطر قربانیاں دے رہی ہے ، صحافیوں پر تشدد کا معاملہ عدالتی حدود سے باہر ہوا ، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ نے سندھ ہائیکورٹ کے باہر لگا ترازو دیکھا ہے ،ترازو تک سندھ ہائیکورٹ کی حدود ہیں ، آپ کو تو سندھ ہائیکورٹ کی حدود کا ہی نہیں پتا ، کیا آپ تیاری

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 16:58:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان