سینٹ اجلاس ، بجٹ پربحث، اپوزیشن کا تنخواہوں ، پنشن میں اضافے کا مطالبہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:59:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:59:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:59:34 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:58:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:58:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینٹ اجلاس ، بجٹ پربحث، اپوزیشن کا تنخواہوں ، پنشن میں اضافے کا مطالبہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء)سینٹ اجلاس میں بجٹ پربحث میں اپوزیشن نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافہ ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ ہولڈرز کو ہر ماہ دو ہزار روپے دینے کی سفارش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریبوں کو مارنے کا تہیہ کرہی لیا ہے تو ظلم سے نہ ماریں آئی ایم ایف سے قرضے لیکر بننے والا بجٹ کبھی غریب پرور نہیں ہوسکتا ہے ۔

جمعرات کو ساڑھے دس بجے سینٹ اجلاس شروع ہوا تو بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بجٹ ہندسوں کا مجموعہ ہے جس میں پالیسی اور ویژن نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے پاکستانی قوم نے لاکھ کوشش کرلی مگر اب اسے ہارنے کی عادت پڑ چکی ہے اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں انہیں معلوم ہے کہ ایوانوں سے لیکر محلات تک سب ان کے دشمن اور غریب مارنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اس لئے اب قوم میں مزاحمت کی قوت ختم ہوچکی ہے ۔

سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ زراعت کو نظرانداز کرکے کبھی ہم بہتر ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتے ۔ کسان کو دن بدن دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر ہم بہت برا پیغام دے رہے ہیں جس کے اثرات بھیانک نکل سکتے ہیں ۔ سینیٹر سسی پلیچو نے کہا کہ راولپنڈی نے ہمیشہ ہمیں لاشیں دی ہیں پنجاب بڑا بھائی ہے تو چھوٹے بھائیوں کو ذلیل نہ کرے ان کے حقوق غضب نہ کرے سندھ کو اپنا حق چاہیے اس سے محروم نہ رکھا جائے 481 ارب کے نئے ٹیکسز لگائے گئے ہیں ہر شہری سالانہ لاکھوں روپے کا مقروض ہوگا حیدر آباد موٹروے کیلئے 50ملین روپے رکھے گئے ہیں جو کہ ناانصافی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیزنگ کمیشن سے لیکر ایف بی آر تک تمام گزیٹڈ افسران میں سندھی کوئی نہیں ہے جب سندھی نہ ہوگا تو پھر ناانصافی تو ہوگی ۔

سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ اعتزاز احسن اور مشاہد اللہ کی تقریر سن کر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتا ایک طرف تو ایوان کی کارروائی ملکی و غیر ملکی سطح پر دکھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو دوسری طرف یہ الزام تراشیاں جن سے سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔

آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر جب تک بجٹ بنتا رہے گا تو مہنگائی کا طوفان کسی صورت کم نہیں ہوگا اور نہ ہمیں ایسی توقع کرنی چاہیے ۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ بجٹ امرا کیلئے بنایا گیا ہے غریب تو پہلے ہی غریب ہے اور وہ امارات کے خواب بھی اب نہیں دیکھتا متوسط طبقہ ایسا ہے جس نے دونوں جانب اپنی زندگی گزارتی ہوتی ہے بجٹ زیادہ تر متوسط طبقہ پر اثرانداز ہوگا لمبی لمبی تقریروں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا اگر حکومت اپوزیشن کی گزارشات پر عمل کرے توتنخواہ اورپنشن میں اضافے پر نظر ثانی کی جائے وہ موجودہ بجٹ سے اٹھنے والی مہنگائی کاسامنا نہیں کرسکیں گے ۔

سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے فنانشل ڈسپلن وجود میں آیا ہے اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے پبلک ڈویلپمنٹ سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ فنڈز رکھ کر اچھا قدم ہے جس سے بے روزگاری کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غریبوں کی مدد کیلئے کم از کم دو ہزار روپے رکھے جائیں تاکہ ان کے چولہے بھی جلتے رہیں سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ پی آئی ڈی بجٹ میں اضافہ ، پورٹ اینڈ شپنگ میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب چھوٹے صوبوں کے حقوق پر غاصب ہے جس سے قوم اضطراب کا شکار ہے ۔

12/06/2015 - 16:51:50 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان