سی ڈی اے شہر اقتدار میں رہائشی سیکٹرز بنانے میں نا کا م
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:58:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:58:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:48:53 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:47:11 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:47:11 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:43:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سی ڈی اے شہر اقتدار میں رہائشی سیکٹرز بنانے میں نا کا م

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) وفاقی ترقیاتی ادارے کی طرف سے مسلسل رہائشی سیکٹر بنانے میں ناکامی سے وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کیلئے رہائش کے بدترین مسائل پیدا ہوگئے ۔ وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) گزشتہ 27 سالوں میں شہر اقتدار میں ایک بھی رہائشی سیکٹرز بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ رہائشی سیکٹرز کی کمی کے باعث شہر میں ہاؤسنگ یونٹس کی کمی 80 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

سی ڈی اے کی جانب سے نئے سیکٹرز نہ بنانے کے باعث شہر میں تجاوزات میں مسلسل اصافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں اسلام آباد کے ارد گرد 22 کچی آبادیاں بھی رہائش پذیر ہو چکی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) رہائشی سیکٹرز کی تعمیر و ترقی کے لئے لاکھوں روپے اراضی کی خریداری پر خرچ کر رہی ہے لیکن 1987-88ء میں واحد جی الیون سیکٹرز کو رہائشی سیکٹر کے طور پر مکمل کیا گیا۔

تب سے لے کر اب تک اسلام آباد میں جی الیون سیکٹرز کے علاوہ کوئی بھی رہائشی سیکٹرز کو پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچایا جا سکا۔ جس کے باعث قبضہ مافیہ مسلسل اراضی پر اپنے قبضہ جمانے میں سرگرم ہیں۔ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق 1960ء میں سی ڈی اے کو اسلام آباد کو 56 رہائشی سیکٹرز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی جسے بعد ازاں مشرف کے دور میں بڑھا کر 68 میں تقسیم کر دیا گیا لیکن کابینہ کی نامنظوری اور پنجاب حکومت کی طرف سے نظرثانی نہ کرنے کے باعث اس منصوبے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔

دریں اثناء اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں یہ بات بھی واضح ہے کہ سیکٹرز آئی نائن کو آئی ٹین میں تمام انڈسٹریل ایریا کو شفٹ کیا جائے گا جس میں رہائشی سیکٹرز شامل نہیں ہوں گے۔

مزید برآں پاکستان ماحولیاتی تحفظ کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان سیکٹرز کو صرف انڈسٹریل ایریا کے طور پر استعمال میں لایا جائے گا لیکن آج آبادی کے لحاظ سے شہر کے سب سے گنجان آباد علاقے سمجھے جاتے ہیں۔

ایک دہائی قبل 20 مزید سیکٹرز بنانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن سی ڈی اے کی نااہلی کے باعث ایک بھی نئے سیکٹر کے منصوبے کی حکمت عملی پایہ تکمیل نہیں پہنچ پائی۔ 2010ء میں سی ڈی اے نے C15-16 بنانے کا اعلان کیا جبکہ یہ بھی منصوبہ تاحال اس انتطار میں ہے کہ کب اس کو رہائشی سیکٹر میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کے ارد گرد کچی آبادیوں کا مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس وقت اسلام آباد کے ارد گرد مجموعی طور پر 22 کچی آبادیاں موجود ہیں ایک اندازے کے مطابق ان میں ایک لاکھ سے زائد لوگ بسیرا کئے ہوئے ہیں۔

اب تو سی ڈی اے نے ان میں 10 کچی آبادیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کروا دی ہے۔ وفاقی ترقیاتی ادارے کے ترجمان رمضان سجاد کا کہنا ہے کہ نئے رہائشی سیکٹرز بنانے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے تاہم جلد اس پر عملدرآمد ہونے کے لئے کام شروع کر دیا جائے گا جبکہ بعض جگہ نئے رہائشی سیکٹرز کی تکمیل کا کام جاری ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے سیکٹرز کے قیام کے لئے اربوں روپے کی ضرورت ہے ہو ادا کرنے ہیں جس کو بتدریک ادا کیا جا رہا ہے۔

12/06/2015 - 16:48:53 :وقت اشاعت