لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے بارہ ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:47:11 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:43:15 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:43:15 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:43:15 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:41:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:40:03 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:39:03 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:37:47 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:37:47 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:36:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:36:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے بارہ ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف

فیصلہ محفوظ کر لیا

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے بارہ ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار برطرف ججز نے موقف اختیار کیا کہ کہ آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے۔

کسی بھی شہری کے خلاف اس کا موقف سنے بغیر یکطرفہ کاروائی نہیں کی جا سکتی نہ ہی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سرونٹ ایکٹ کی دفعہ بارہ آئین سے متصادم ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دی جائے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پیڈا ایکٹ آنے کے بعد سول سرونٹ کا ضلعی عدلیہ کے ججوں پر اطلاق ہی نہیں ہوتا۔جس پر عدالت نے پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے بارہ ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا

12/06/2015 - 16:40:03 :وقت اشاعت