ریاست میں داعش اور تحریک طالبان کا کوئی وجود نہیں‘ سید علی گیلانی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید کشمیر کی خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:27:39 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:27:39 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:25:37 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 17:25:37 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:37:47 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:35:49 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:28:42 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:28:42 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:28:42 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:27:59 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:27:59
- مزید خبریں

ریاست میں داعش اور تحریک طالبان کا کوئی وجود نہیں‘ سید علی گیلانی

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) کل جماعتی حریت کانفرنس ”گ“ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں داعش اور تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ نام ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت استعمال کئے جا رہے ہیں اور اس کا مقصد کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد کو دہشتگردی کا نام دینا اور کشمیریوں کو مظلوم کے بجائے ظالم ثابت کرنا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ریاست میں ”داعش اور تحریک طالبان“ کے وجود کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس ”گ“ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ زندہ دلان سوپور تاریخ کے ہر دور میں غاصب اور جابر قوتوں کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں اور انہوں نے بے مثال اور بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں تحریک آزادی کے موجودہ مرحلے میں بھارتی فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھول کر اور آگ لگا کر اگرچہ سوپور واسیوں کے حوصلے توڑنے کی انتھک کوشش کی‘ البتہ وہ اس میں ناکام رہے اور وہ جدوجہد کے بارے ان کی والہانہ وابستگی کو کمزور نہیں کر سکتے۔

گیلانی نے کہا کہ قربانیوں کے اعداد و شمار ہوں یا الیکشن ڈرامے کے بائیکاٹ کا معاملہ ہو سوپور ایک مثال بن گیا ہے اور یہاں کے باشندوں کا کردار ہر حیچیت سے قابل رشک اور قابل تقلید ثابت ہوا ہے۔ حریت چیئرمین نے البتہ کہا کہ بھارت کے پالیسی سازوں کے لئے سوپور ہمیشہ پریشانی کی ایک بڑی وجہ رہا ہے لہذا انہوں نے اب کی بار اس کے خلاف ایک گہری سازش کا جال بنا ہے اور وہ یہاں کے آزادی پسند عوام کو فرضی تنظیموں کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 16:35:49 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان