اسلام آباد میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں سے متعلق پلان وزارت داخلہ کو بھجوا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:11:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:11:06 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:08:19 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:03:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:03:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:03:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:00:58 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:00:58 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:00:58 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:57:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:57:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں سے متعلق پلان وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے ‘ ریا ض حسین پیر زادہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے سینیٹ کو بتایا کہ اسلام آباد میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں سے متعلق پلان وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ غیر قانونی آبادیوں کو پانی ، بجلی اور گیس کے کنکشن نہیں دیئے جاتے، امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے ان کی منتقلی ضروری ہے۔ ہمیں گرین بیلٹوں پر بھی قبضے چھڑانے پڑیں گے جب اسمبلیوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو ایسے قبضے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر چودھری تنویر خان نے اسلام آباد کے خصوصی حوالے سے پورے ملک میں کچی آبادیوں میں تیزی سے ہونیوالے اضافے سے متعلق توجہ مبذول کرائی جس کے جواب میں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ حکومتوں کی اپنی مجبوریوں اور پالیسیوں کی وجہ سے ایسی چیزیں جنم لیتی ہیں اور حکومت وقت کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں، سہراب گوٹھ اور گرین بیلٹ پر قبضے ہوئے یہ قبضے لوگوں نے نہیں کئے بلکہ حکومتوں نے انہیں بٹھایا، ایسی آبادیوں کو غربت کے نام پر آواز اٹھا کر تحفظ دیا گیا، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 12 کچی آبادیاں غیر قانونی ہیں جنہیں یہاں سے منتقل کرنے کیلئے ماسٹر پلان وزارت داخلہ کو دیا ہے۔

کل 24 کچی آبادیاں ہیں جن میں دس قانونی جبکہ14 غیر قانونی ہیں ان 14 میں سے دو کو ختم کردیا گیا انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دور میں ان دس کچی آبادیوں کو قانونی قرار دیا گیا تھا ، یہ کچی آبادیاں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کچی آبادیوں کو ہائیکورٹ نے بھی سٹے آرڈر نہیں دیا اور ہدایت کی ہے کہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر ان کو ہٹایا جائے۔

اس

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 16:03:50 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان