بجٹ میں حکومت اہداف حاصل نہیں کرسکی ‘ وجوہات سامنے لائی جائیں ‘ بغیر احتساب کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:03:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:03:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:03:50 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:00:58 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:00:58 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 16:00:58 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:57:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:57:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:57:18 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:54:38 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 15:54:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

بجٹ میں حکومت اہداف حاصل نہیں کرسکی ‘ وجوہات سامنے لائی جائیں ‘ بغیر احتساب کے چلنے والے اداروں کا کڑا احتساب کیا جائے ‘اراکین سینیٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) اراکین سینٹ نے کہا ہے کہ بجٹ میں حکومت اہداف حاصل نہیں کرسکی ‘ وجوہات سامنے لائی جائیں ‘ بغیر احتساب کے چلنے والے اداروں کا کڑا احتساب کیا جائے ‘ موجودہ بجٹ میں 489ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ‘ ہر پاکستانی 2600سے زائد مزید ٹیکس ادا کریگا ‘ بجٹ کو عوامی کہا گیا ‘ بتایا جائے کہاں سے عوامی بجٹ ہے ‘ اسمبلی اور سینیٹ سنجیدہ فورم ہیں، ہمیں یہاں غیر سنجیدگی سے گفتگو نہیں کرنی چاہئے ‘موضوع پر کم اور ایک دوسرے پر زیادہ تنقید ہورہی ہے ‘ جب تک آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر بجٹ بنائینگے تو ان کو بھی راضی کرنا پڑیگا۔

جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ایوان بجٹ پر بات کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، بجٹ کے اعدادوشمار بے جان، بغیر پالیسی اور ویژن کے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بے معنی ہونگے، بجٹ کے کئی اہداف پورے نہیں ہوئے اور اس کی کوئی ذمہ داری بھی لینے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی اس معاملے پر بات کی جارہی ہے کہ بجٹ کے اہداف کیوں پورے نہیں ہوئے، انہوں نے کہا کہ ہماری قوم ہارنے کی عادی ہوچکی ہے ہمیں کسی معاملے پر کوئی پرواہ نہیں ہے، ایک بے حسی سی چھائی ہوئی ہے، ہمارے حکمرانوں نے ادارے نہیں بنائے بلکہ اپنے اثاثے بنائے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایسی عجیب قوم ہیں جس کا کوئی نظریہ نہیں ہے، جس ملک میں بجلی ، گیس اور بدامنی جیسے مسائل ہوں وہاں بجٹ سے متعلق اتنے ہائی ٹارگٹ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم ان کو پورا ہی نہیں کرنا چاہتے، انہوں نے کہا کہ بغیر احتساب کے چلنے والے اداروں کیخلاف کارروائی کی جائے اور ان کا کڑا احتساب کیا جائے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن قوم سے معافی مانگیں انہوں نے اداروں کو نہیں بنایا، بیرون ملک پڑے ہوئے پیسے کون ملک میں لیکر آئیگا ، ادارے بنانے میں سینیٹ اپنا کردار ادا کرے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ جی ڈی پی میں زراعت اور معاشی صورتحال کو زیادہ توجہ نہیں دی گئی، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا ہے، بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سارے اختیارات پارلمینٹ کو دیئے کیا اس پر معافی مانگیں؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب کیلئے بجٹ میں رقم رکھی گئی ہے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمیں اپنا حق چاہئے ، بجٹ کے اندر لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا۔

489 ارب کے نئے ٹیکس لگائے گئے اس کا مطلب ہے کہ ہر پاکستانی پر 2626 روپے مزید ٹیکس بڑھے گا، بجٹ کے اندر سندھ کی ڈویلپمنٹ کیلئے سات ارب روپے رکھے گئے جو نا انصافی ہے۔ وفاقی حکومت سی سی آئی میں ہونیوالے فیصلوں سے سندھ کو آگاہ نہیں کرتی، انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدر آباد موٹروے اہم منصوبہ ہے اس کیلئے پچاس ملین روپے رکھے گئے، لیاری کیلئے سو ملین اور انڈس ہائی وے کیلئے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/06/2015 - 16:00:58 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان