بھارت سے سستے دھاگے اور روس سے کپڑے کی بے دریغ برآمد نے مقامی مارکیٹ کو تباہی کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

کراچی

بھارت سے سستے دھاگے اور روس سے کپڑے کی بے دریغ برآمد نے مقامی مارکیٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ‘یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء)یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن نے کہاہے کہ بھارت سے سستے دھاگے اور روس سے کپڑے کی بے دریغ برآمد نے مقامی مارکیٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے جبکہ دھاگے اور کپڑے پر سیلز ٹیکس میں مزید اضافے سے یارن و ٹیکسٹائل کی صنعت مزید ابتری کاشکار ہو جائیگی، لہٰذا حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں سوتی دھاگے اور کپڑے پر سیلز ٹیکس 3فیصد اور ٹیکسٹائل مصنوعات پر سیلز ٹیکس 5فیصد کرنے کی تجویز پر فوری نظر ثانی کرے ۔

یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن ذرائع کے مطابق بجٹ میں سوتی دھاگے اور کپڑے پر سیلز ٹیکس 3فیصد اور ٹیکسٹائل مصنوعات پر سیلز ٹیکس 5فیصدکردیا گیا ہے ، ٹیکسٹائل کا شعبہ پہلے ہی شدید مشکلات میں ہے جبکہ سوتی دھاگے اور کپڑے کی تجارت مختلف قسم کے ٹیکسز کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔ ذرائع نے کہاکہ انڈیا سے سستے دھاگے اور روس سے کپڑے کی درآمد سے مقامی مارکیٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ہم مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ دھاگے اور کپڑے پر ہر سال سیلز ٹیکس بڑھایا جارہا ہے جس سے ٹیکسٹائل کی صنعت کا خام مال مہنگا ہورہا ہے اور ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ مصنوعات حریف ممالک کا مقابلہ نہیں کرپارہیں، دھاگے اور کپڑے پر ٹیکسز کے بوجھ میں اضافے سے تاجر تباہی کا شکار ہوجائیں گے ۔

12/06/2015 - 14:57:53 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان