اسلام آباد : ای جی اوز کو ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/06/2015 - 14:17:45 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 14:17:45 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 14:16:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 14:16:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 14:16:28 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 14:12:00 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 13:43:57 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 13:20:42 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 13:16:24 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 13:12:05 وقت اشاعت: 12/06/2015 - 13:06:17
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد : ای جی اوز کو ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی، کچھ ایجنسیوں اور این جی اوز نے غیر قانونی طور پر بلوچستان جا کر کام کیا۔ پارلیمنٹ کے باہر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار . 12 جون 2015 ء): اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی سال سے کئی این جی اوز بغیر کسی ضابطے کے ملک میں کام کررہی ہیں بعض این جی اوز صرف اسلام آباد کے لیے رجسٹرڈ تھیں لیکن وہ اسلام آباد سے بغیر اجازت بلوچستان پہنچ گئیں، انہوں نے تنبیہہ کی کہ غیرملکی این جی اوورز کو پاکستانی قوانین اور مفاد کی پاسداری کرنا ہوگی، کیونکہ قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز بھی بین الاقوامی این جی اووز پر اسلام آباد میں پابندی لگی۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر ملکی اور غیرملکی این جی اوز اچھا کام کررہی ہیں، اچھے کام کرنے والی این جی اوز کو خوش آمدید کہا جائے گا۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ جو اچھا کام کر رہی ہیں ان کے ساتھ تعاون کریں گے، اچھے کام کرنے والی این جی اووز کی چھتری تلے غلط کام کرنے نہیں دیں گے، بہت سی این جی اووز ملک کے مفاد کے خلاف کام کر رہی ہیں جن کا راز فاش کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں معاملے کو لانے کا سوچ رہے ہیں اور تمام این جی اوز کو چارٹر کے مطابق کام کرنے پرمجبورکرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پھانسی کے سزا یافتہ قیدی شفقت حسین کیس میں اس کے بچپن کی تصویر دکھا کر معاملے کو اٹھایا گیا جس عمر میں اس نے جرم کیا اس وقت کی تصویر نہیں دکھائی گئی اورہمیں پتہ ہے کہ اس میں کس این جی او کا ہاتھ ہے۔ لیکن اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قتل کرتے وقت شفقت حسین کی عمر 23 سال تھی. شفقت حسین کا کیس پاکستان کے عدالتی نظام کو دنیا بھر میں بد نام کرنے کی محض ایک سازش تھی. اس کیس سے پاکستان کے جوڈیشل نظام کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کی بالا دستی ہے اس لیے قانون کی خلاف ورزی کو کسی طور بر داشت نہیں کیا جائے گا.

12/06/2015 - 14:12:00 :وقت اشاعت