وزیر اعلیٰ پنجاب نے خواتین پر تشددسے متعلق بل میں مزید تر امیم کیلئے 2رکنی کمیٹی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:51:01 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:51:01 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:51:01 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:46:22 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:38:07 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:38:07 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:36:23 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:36:23 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:32:49 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:31:11 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:21:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

وزیر اعلیٰ پنجاب نے خواتین پر تشددسے متعلق بل میں مزید تر امیم کیلئے 2رکنی کمیٹی قائم کر دی ‘ اسمبلی میں بل پیش کر نیکا فیصلہ واپس ،تمام اراکین سے تجاویز طلب ‘ مسودہ قانون موٹر وہیکل کاروبار لائسنس ہولڈر اور مسودہ قانون ( دوسری ترمیم)صوبائی موٹر گاڑیاں کثرت رائے سے منظور ، ڈاکٹر وسیم اختر نے بجلی کے صارفین پر سرچارج عائد کئے جانے پر احتجاج ، واک آ?ٹ

حکو متی اراکین پو لیس کی کار کردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ‘ میرے حلقے میں ایک بھی بوائز یا گرلز ڈگری کالج نہیں‘سردار شہاب الدین , اراکین اسمبلی خواتین کے تحفظ کے متعلق بل کے حوالے سے اپنی رائے دیں‘ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے علاوہ پچاس فیصد خواتین کی نمائندگی ہو گی جس میں تحفظات کا جائزہ لینے کے بعد اس بل کو اتفاق رائے سے ایوان میں منظور ی کے لئے پیش کیا جائے‘رانا ثناء اﷲ

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبا زشر یف نے بعض حکو متی و اپوزیشن اراکین کے تحفظات کے بعد خواتین پر تشدد کے متعلق بل میں مزید تر امیم کیلئے 2رکنی کمیٹی قائم کر دی ‘تمام اراکین سے تجاویز طلب کر لیں گئیں ‘ حکو مت نے پنجاب اسمبلی ایجنڈے میں شامل ہونے باوجود خواتین کے تحفظ کامسودہ قانون نظر ثانی کیلئے واپس لے لیا ‘ مسودہ قانون موٹر وہیکل کاروبار لائسنس ہولڈر اور مسودہ قانون ( دوسری ترمیم)صوبائی موٹر گاڑیاں کثرت رائے سے منظور کر لیا‘ ڈاکٹر وسیم اختر نے بجلی کے صارفین پر سرچارج عائد کئے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے ٹوکن واک آؤٹ‘ حکو متی اراکین پو لیس کی کار کردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس جمعرات کے روز مقررہ وقت دس بجے کی بجائے دو گھنٹے پانچ منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری مہوش سلطانہ نے محکمہ ہائر ایجوکیشن سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے۔ ڈاکٹر وسیم اختر کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب بھر کی تمام یونیورسٹیز میں یکساں فیس سٹرکچر کے نفاذ کے لئے غور کریں گے۔

نبیلہ حاکم علی خان کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری مہوش سلطانہ نے ایوان میں اعتراف کیا کہ غیر قانونی طو رپر چلنے والے پرائیویٹ تعلیمی ادارے سنجیدہ ایشو ہے ان کی ریگولیشن کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیم ادارے مشروم کی طرح اگ رہے ہیں انہیں قانونی دائرے میں لائیں گے جبکہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کا قیام بھی عمل میں آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکیڈیمز کو چیک کرنے کا کوئی میکنزم نہیں۔موجودہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام پرانا ہونے کی وجہ سے اتنا موثر نہیں اس لئے نئے پر کام جاری ہے اور انہیں بھی کنٹرول اور ریگولیشن میں لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔ پیپلزپارٹی کے سردار شہاب الدین نے کہا کہ پڑھا لکھا پنجاب کے نعرے تو لگائے جاتے ہیں لیکن میرے حلقے میں ایک بھی بوائز یا گرلز ڈگری کالج نہیں۔

حکومت تیسرا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے اگر اس میں نہیں تو آنے والے بجٹ میں اس کے لئے کوئی یقین دہانی کر ادی جائے۔ حکومتی رکن میاں طاہر نے کہا کہ مجھے اس سے قبل بھی کہا گیا تھاکہ آپ سے علیحدہ میٹنگ ہو گی لیکن اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ افسران کی فوج ظفر موج ٹھنڈے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/06/2015 - 21:38:07 :وقت اشاعت