سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی کیس میں وفاقی سیکرٹری پلاننگ اور فنانس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:14:24 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:14:20 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:10:15 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:09:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:09:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:09:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:07:33 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:07:33 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:07:33 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:05:53 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:01:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی کیس میں وفاقی سیکرٹری پلاننگ اور فنانس کو طلب کرلیا

ملیرندی ڈیفنس میں داخل ہو کر اتنی سکڑ کیوں جاتی ہے کیا اس پر تعمیرات ہورہی ہیں ،عدالت عظمیٰ کا ڈی ایچ اے کے نمائندے سے استفسار

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی کیس میں وفاقی سیکریٹری پلاننگ اور فنانس کو طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کو ماحولیاتی آلوگی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی ۔سماعت شروع ہوئی تو ڈی ایچ اے کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندے سے عدالت نے استفسار کیا کہ کہ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے ان کی جانب سے کیا اقدامات کیئے گئے ہیں جس ڈی ایچ اے کے نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اور کنٹونمنٹ بورد کی زمہ داری ہے ہماری جانب سے اس حوالے سے ڈیفنس فیز آٹھ میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا گیا ہے جو کہ فنکشنل ہے عدالت نے اپھر استفسار کیا کہ ملیرندی ڈیفنس میں داخل ہو کر اتنی سکڑ کیوں جاتی ہے کیا اس پر تعمیرات ہورہی ہیں جس پر ڈی ایچ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے عدالت نے اس حوالے سے کہا کہ سات دن میں رپورٹ دیں کہ ان مقامات پر ماحولیاتی آلودگی اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنا کس کی زمہ داری ہے ہم ان اداروں کے افسران کو طلب کریں گے دوران سماعت ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی کا کہنا تھا کہ ایس تھری منصوبہ شروع ہوچکا ہے جس کی لاگت آٹھ ارب روپے ہے اور اس میں پچاس فیصد صوبہ اور پچاس فیصد وفاق کا حصہ ہے سندھ حکومت کی جانب سے دوارب روپے مل چکے ہیں عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کیا اقدامات کیئے گئے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ تین ٹریٹمنت پلانت موجود ہیں لیکن وہ کام نہیں کررہے ٹی پی فور کے لیے زمین لے لی گئی ہے لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے حوالے سے کام سست روی کا شکار ہے عدالت کا کہنا تھا کہ ٹی پی فور کیا کاغزات کی حد تک ہی ہے جس پر ہاشن رضا زیدی نے تائید کی انہوں نے بتایا کہ آلودہ پانی سمندر میں جارہا ہے اور اس میں فضلہ بھی شامل ہوتا ہے اس میں کچھہ فلٹر نہیں ہوتا عدالتی استفسار پر ان کا کہنا تھاکہ کراچی کو گیارہ سو ملین گیلن پانی یومیہ کی ضرورت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/06/2015 - 21:09:12 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان