کراچی میں بھتہ خوری ،سمگلنگ و دیگر ذرائع سے تقریباً 230بلین روپے جمع کئے جاتے ہیں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:09:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:09:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:09:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:07:33 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:07:33 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:07:33 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:05:53 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:01:32 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:00:00 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 21:00:00 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:58:45
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کراچی میں بھتہ خوری ،سمگلنگ و دیگر ذرائع سے تقریباً 230بلین روپے جمع کئے جاتے ہیں ،ڈی جی رینجرز سندھ

جرائم کی بیشتر وارداتوں ،زمینوں پر غیر قانونی قبضوں ،بھتہ وصولی میں کراچی کی بڑی سیاسی جماعت ملوث ہے،میجر جنرل بلال اکبر , کراچی فش ہاربر سے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی رقم گینگ وار ،مختلف دھڑوں اور سندھ کی کچھ بااثر اور اعلیٰ شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہیں , قبضہ مافیا میں سیاسی جماعتیں ،کے ایم سی،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشنز ،تعمیراتی کمپنیاں ،اسٹیٹ ایجنٹ اور پولیس اہلکار شامل ہیں

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء)ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے اپیکس کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں بھتہ خوری ،اسمگلنگ اور دیگر ذرائع سے تقریباً 230بلین روپے جمع کیے جاتے ہیں جو دہشت گردی کے نیٹ ورک اور عسکری ونگز کو منظم کرنے میں استعمال ہورہے ہیں ۔ جرائم کی بیشتر وارداتوں ،زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور بھتہ وصولی میں کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت ملوث ہے ۔

سندھ رینجرز کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ،ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم کی فنڈنگ ایک مربوط نظام کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔کراچی فش ہاربر سے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی رقم گینگ وار ،مختلف دھڑوں اور سندھ کی کچھ بااثر اور اعلیٰ شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہیں ۔اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کروڑوں روپے ماہانہ مختلف گینگ وار دھڑوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں جو کہ اسلحہ کی خریداری اور مسلح جھتوں کو پالنے میں استعمال ہوتے ہیں ۔

بریفنگ میں بتایاگیا کہ زکوۃ اور فطرے کے نام پر بھی جبری رقم وصول کی جاتی ہے جس کی آمدنی کروڑوں میں ہے ۔قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے حاصل شدہ رقم بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ہے جو کہ سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کے عسکری گروپس کو چلانے میں استعمال ہوتا ہے ۔جبکہ چھوٹی مارکیٹوں ،پتھارے داروں ،بچت بازاروں ،قبرستان ،اسکولوں اور کینٹینوں سے حاصل شدہ بھتے کی رقم بھی کروڑوں میں ہے ۔

لینڈ گریبنگ اور چائنہ کٹنگ کراچی میں جرائم کے پس منظر میں ایک جہت ہے ۔لینڈ گریبنگ اور چائنہ کٹنگ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ان میں سرکاری اراضی پر تعمیرات ،سرکاری اراضی پر قبضہ اور پرائیویٹ پراپرٹی پر قبضہ شامل ہے ۔اس قبضہ مافیا میں سیاسی جماعتیں ،سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ (کے ایم سی)،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشنز ،تعمیراتی کمپنیاں ،اسٹیٹ ایجنٹ اور

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/06/2015 - 21:07:33 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان