کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیو ایم سیاست کررہی ہے ،نجمی عالم
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:37:03 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:36:54 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:36:54 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:35:51 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:35:51 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 20:35:51 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 19:45:43 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 19:36:09 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 19:36:09 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 19:34:51 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 19:34:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کاریاں والا

کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیو ایم سیاست کررہی ہے ،نجمی عالم

ایم کیو ایم نے ان 28سالوں میں کراچی کے عوام کو پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا،پریس کانفرنس

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء)پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم نے کہا ہے کہ کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیو ایم سیاست کررہی ہے ۔ جبکہ یہ حقیقت ساری دنیا جانتی ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت کراچی کے تمام بلدیاتی اداروں پر گزشتہ 28سالوں سے ایم کیو ایم کی حکمرانی اور اجارہ داری رہی ہے۔ ایم کیو ایم نے ان 28سالوں میں کراچی کے عوام کو پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا نہ ہی کوئی سنجیدہ کام کیا۔

کراچی کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس تک کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔لیکن کراچی کے عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں میں آنے والے نہیں ۔ایم کیو ایم عوامی مطالبات پر سیاست کرنے کے بجائے شہر کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔پیپلزپارٹی مفاہمتی پالیسی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے ۔اگر پارٹی قیادت اور سندھ حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا تو پھر پیپلزپارٹی بھی جمہوری انداز میں اس نتقید کا بھرپور جواب دے گی ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو پیپلزمیڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وقار مہدی ،لطیف مغل اور دیگر بھی موجود تھے ۔نجمی عالم نے کہا کہ کراچی پانی کی قلت کا شکار ہے۔ جس کی بنیادی وجہ حب ڈیم کا خشک ہوجانااور کے الیکٹرک کی جانب سے گھارو، دھابیجی اور پپری پمپنگ اسٹیشنز پر مسلسل طویل دورانیہ کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہے۔

میں یہاں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کراچی کو پانی کی سپلائی میں کمی کی بڑی وجہ لوڈشیڈنگ ہی ہے کیونکہ یہ ٹیکنیکل مسئلہ ہے اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ اگر ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوجائے تو پانی کو چینلائز کرنے کیلئے چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں اور ان چار گھنٹوں میں پھر لوڈشیڈنگ ہوجائے تو پھر چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں شہری علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھروں میں پانی نہیں پہنچ پاتا حالانکہ پمپنگ اسٹیشنوں سے پانی کی سپلائی کی جارہی ہوتی ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم اس صورت حال کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے اور لوڈشیڈنگ جیسی بھیانک اذیت کو یکسر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے انصاف تو تب ہوتا کہ کے الیکٹرک کی بھی اسی طرح مذمت کی جاتی جس طرح بلاجواز صوبائی حکومت پر تنقید کے تیر برسائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 100 ملین گیلن پانی کی فراہمی کیلئے K2 1988ء میں شروع ہوا تھا اور بعد ازاں 1998ء میں مکمل ہوا۔

K3 پروجیکٹ کے تحت 100ملین گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز 2002 میں نعمت اﷲ خان کے دور میں ہوا اور پھر تکمیل 2006ٰٗء میں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ متحدہ بتائے کہ خود متحدہ کے دور حکومت میں کونسا منصوبہ شروع ہوا؟بلکہ ہمیشہ متحدہ نے پکی پکائی روٹی پر قبضہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبے میں لائنوں کی لیکجز( رساؤ) پمپس ہاؤس کی تکمیل کے بعد ایم کیو ایم کے سٹی ناظم اور دیگر ناظمین نے دیگر علاقائی پمپس کی صورتحال پر کوئی توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ لانڈھی ، کورنگی، نارتھ کراچی، انڈسٹریل ایریاز سمیت دیگر علاقوں میں پانی کی لائنیں بچھانے کیلئے اور مینٹیننس کیلئے کروڑوں روپے کے ٹھیکے دیئے گئے ، مینٹینس کے نام پر جاری کردہ ٹھیکوں کی جعلی فائلیں تیار کی گئی جب کہ زمین پر کوئی کام نہیں ہوسکا،جو آج تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے‘ ان کی تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ K3 سے منسلک 9پروجیکٹ مکمل ہوتے تو پانی کی سپلائی بہتر انداز میں ہوسکتی تھی۔

اس میں ایک پروجیکٹ تقریباً 1ارب کا ٹھیکہ 2حصوں میں تقسیم کر کے اپنے منظور نظر ٹھیکیداروں کو نوازا گیا۔1987سے مصطفی کمال تک ایم کیو ایم واٹر بورڈ میں کونسا بڑا منصوبہ لائی ؟جبکہ جنوری2008ء تک واٹر بورڈ میں متحدہ کے ممبران ہی چیئرمین، وائس چیئرمین رہے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ بتائے جن علاقوں میں پانی کی کمی پر اب واویلا مچایا جارہا ہے ان علاقوں میں پانی کی کمی ان کے دور اقتدار میں بھی تھی ، اس کمی کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے کیا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پانی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/06/2015 - 20:35:51 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان