سینٹ میں بھارتی دھمکیوں کیخلاف مشترکہ قرارداد منظور
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:19:59 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:19:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:19:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:19:12 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:18:14 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:18:14 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:18:14 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:15:36 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:15:36 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:15:36 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:14:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینٹ میں بھارتی دھمکیوں کیخلاف مشترکہ قرارداد منظور

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء) سینٹ پاکستان نے بھارت کی جانب سے پاکستان کو دھمکیوں کیخلاف ایک مشترکہ قرارداد منظور کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے وزراء کے بیانات پر مذمت کی اور کہا کہ ایسے بیانات ہماری داخلی معاملات میں اثر انداز ہونے کی کوشش ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔ ارکان سینٹ نے بھارت کے وزیراعظم کو دہشتگرد ، احمقانہ بیانات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا اور سمجھوتہ ایکسپریس سمیت سانحہ گجرات کا بھی ذمہ دار قرار دیا ہے ۔

سینٹ نے واضح پیغام دیا کہ مودی گرجتا ہے پاکستان صرف برستا ہے مودی گاندھی کا قاتل ہے بھارتی عوام بہت جلد اس کا گھیراؤ کرینگی ۔ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں بھارت کی مداخلت ناقابل برداشت ہے اقوام متحدہ نوٹس لے امریکہ اسرائیل اپنی چودھراہٹ کو بچانے کیلئے مودی کی پشت پر بیٹھے نظر آتے ہیں سینٹ نے اپنی پاک فوج کو واضح پیغام دیا ہے کہ ملک کا بچہ بچہ اور ایوان پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے سرحدوں کی حفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائے گا ۔

سیری گرج گرج کر برسے قوم ساتھ ساتھ ہے ۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے ایوان کو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم کو ان کے وزراء کی جانب سے بیان بازی پر میرے سمیت پورا ملک سوچوں کے بھنور میں ہے اور میری ذاتی دلچسپی ہے کہ بجٹ بحث کارروائی کو 45منٹ کے لیے معطل کرکے اس پر ارکان اپنے خیالات کا ظہار کریں سب سے پہلے انہوں نے سینیٹر مشاہد حسین سید کو اظہار خیال کرنے کی دعوت دی جس پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ خطرناک ہے لیکن مودی کا بیان ناپختہ ذہن کی عکاس ہے واحد ہمسایہ ہے جو آگ بھڑکاتا ہے بجھانا ان کے منشور میں نہیں ہے بھارتی وزیراعظم آر ایس ایس کے لیڈر ہیں جو انتہا پسندی پر یقین کرتے ہیں مودی نے دو ہزار مسلمانوں کے مرنے پر کہا تھا کہ انہیں دکھ اتنا ہوتا ہے کہ جیسے ان کی گاڑی کے نیچے کتے کا بچہ آجائے اور تھوڑا دکھ ہوتا ہے مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی باتیں سارک کانفرنس کی خلاف ورزی ہے امریکی صدر باراک اوبامہ کو اعتماد میں لیکر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی اس مسئلہ کو اٹھایا جائے ۔

سینیٹر سید مظفر شاہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی پر انڈین بہت خوش تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوکلیئر پاور ہے برما نہیں ہے وزارت داخلہ ، وزارت خارجہ سمیت حکومت کو بڑے دلیرانہ موقف اپناتے ہوئے بھارتی بیانات کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے ۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پاک چائنہ راہداری منصوبہ کے بعد بھارت اور بھارتی وزیراعظم بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں ان کی سوچوں سے معلوم ہوگیا کہ وہ کبھی پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حفاظت اور پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستانی عوام کھڑی ہے حکومت پاک فوج کو منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرے ملک کا بچہ بچہ اپنی فورسز کے شانہ بشانہ ہے بھارتی بنیوں کو اب منہ توڑ جواب دینے کا وقت آگیا ہے انہوں نے کہا کہ بھارت سن لے اب 1965ء یا 1971ء نہیں ہے آج 2015ء ہے ہم ایٹمی طاقت ہیں مودی تو کیا کوئی بھی پاکستان سے متعلق بات کرے گا تو ناکوں چنے چبوائیں گے ۔

سینیٹر میر نے کہا کہ ملک کا بچہ بچہ جب جانتا ہے کہ ” را“ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں پیش پیش ہے تو ہمیں بہت پہلے ہی بھارت سے متعلق ان کی سوچ کے مطابق پالیسی بنا لینی چاہیے تھی انہوں نے کہا کہ بھارت جب بھی جارحانہ رویہ اپناتا ہے تو ہمارا میڈیا سمیت تمام ادارے حکومت دفاعی پوزیشن میں آجاتے ہیں اس منطق کی سمجھ نہیں آتی ۔سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ دنیا کے 80ممالک جنگی کیفیت میں ہیں مگر بھارت مذہبی انتہا پسندی کو دہائیوں سے فروغ دیا جارہا ہے گاندھی کے قاتل بھارتی حکومت میں شامل ہیں اب ملک کی ضرورت ہے کہ فیڈریشن کو کمزور ہونے سے بچایا جائے پاکستانی عوام اب ملک کی سرزمین کی حفاظت کیلئے تیار ہے ۔

سینیٹر ڈاکٹر جمال نے کہا کہ بھارتی عوام کی سوچوں پر پریشانی ہے کہ انہوں نے ایک جاہل کریمنل کو وزیراعظم کے عہدے پر بٹھا کر اپنی سوچوں اور خیالات کو دنیا میں روشن کیا ہمیں بھارتی وزیراعظم اور وزراء کی تقاریر کی مذمت کرنا ہوگی اور

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/06/2015 - 15:18:14 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان