سپریم کورٹ کا علاقائی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لئے قانون سازی نہ کرنے پر اظہار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:57:20 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:55:10 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:55:10 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:55:10 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:53:32 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:53:32 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:53:32 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:37:28 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:30:43 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:29:40 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:28:48
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

سپریم کورٹ کا علاقائی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لئے قانون سازی نہ کرنے پر اظہار بر ہمی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء) سپریم کورٹ نے قومی زبان اردو کے نفاذ کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات پر وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے پنجابی اور سرائیکی سمیت دیگر علاقائی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لئے قانون سازی نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور 2 جولائی تک مفصل رپورٹ طلب کی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات نے اردو کے نفاذ کے حوالے سے آرٹیکل 251 پر عملدرآمد بارے سمری کابینہ ڈویژن کو ارسال کر دی ہے اگلے اجلاس میں منظوری کا قومی امکان ہے جبکہ دو رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں اردو کے نفاذ بارے سیاسی مصلحتوں کو آڑے نہیں آنے دیں گے ۔

کابینہ کیا فیصلہ کرتی ہے اس سے سروکار نہیں ، آرٹیکل 251 پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کروائیں گے ۔ صوبائی اور علاقائی زبانیں ہمارا قومی ورثہ ہیں جن کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے عوام کے پیسوں سے وجود میں آنے والی حکومت اور عوام کے تنخواہ دار ادارے اب ان کو زبان کی سہولت دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ وکلاء حضرات انگریزی زبان کا فائدہ اٹھا کر سادہ لوح موکلوں سے ایک عدالتی نوٹس پڑھنے کا 500 سے 5000 روپے تک وصول کر رہے ہیں انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ رو ز دیئے ہیں ۔

صوبائی زبانوں کی ترویج و اشاعت اور اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کے مقدمے کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کے روز کی ۔ اس دوران درخواست گزار کوکب اقبال ایڈووکیٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام پیش ہوئے جسٹس جواد نے کاہ کہ ایک پرائمری پاس مظفر گڑھ کا دیہاتی نے جو بات کی ہے میرا تو دل ہی ہل گیا ہے اس کی دعائی آپ کو لگیں گی وہ بڑا خوش کر اردو کا نوٹس بھیج رہا ہے جس کو پڑھ کر وہ آ گیا وکیل 500 سے 5000 روپے لے کر یہ نوٹس پڑھ کر دیتے ہیں وہ انگریزی میں نوٹس دیکھ کر گھبرا جاتا تھا وہ مجبوری میں پیسے دیتا رہا ہے یہ ایک ایسا ایشو ہے جس پر سب کو سوچنا چاہئے ۔

میرے بچے پنجابی بولتے ہیں پسند نا پسند کا ایشو نہیں ہے کوئی یہ کہے کہ اس کے لئے دشواریاں ہیں اگر کوئی مجرم آ کر کہے کہ اس کو کوئی دشواری ہے تو کیا ہم اس کی بات مان لیں گے ٹیکس کے معاملے میں ایک شخص نے کہا کہ اسے انگریزی میں لکھی باریک چیزوں کا پتہ نہیں چل رہا آسان فہم زبان میں سب کچھ لکھنا چاہئے ۔ اگر انگریزی نہیں آتی تو ٹیکس کیسے ادا کریں گے ۔

سارا کچھ مشکل ترین انگریزی میں لکھا ہوا ہے کون کیا کرے ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے اس پر کام کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ زبانی بات نہ کریں تحریری جواب دیں جس پر لاء افسر نے جواب کی کاپی عدالت میں پیش کی جس کا عدالت نے بغور مطالعہ کیا ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم اور کابینہ ڈویژن سے مشاورت کی گئی ہے جس کے بعد یہ حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے سیاسی طور پر یہ حساسیت ہے جسٹس جواد نے کہا کہ سندھی اور اردو میں کیا جا رہا ہے ۔

اردو ، سرائیکی ، مراہوں میں معاملہ ٹھیک ہوگا ۔ صوبے صوبائی زبانوں کی ترویج و اشاعت کریں گے کے پی کے اور بلوچستان نے قانون بنا دیا ۔ کھل کر بتا دیں کہ ہم نے آئین کی پاسداری نہیں کرنی کیونکہ سیاسی مصلحت آڑے آ رہی ہے جہاں تک صوبوں کی بات ہے سوائے پنجاب کے باقیوں نے قانون بنا لیا ہے پنجاب کہتا ہے کہ اردو چلنے دیں صوبائی نمائندے موجود ہیں ۔

پنجاب حکومت کہتی ہے کہ پنجابی کو ماریں گولی اردو میں کام چلنے دیں ۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے پنجابی ہماری زبان ہے ہمارے لئے مشکل ہو گی اردو رابطے کی زبان ہے ہمارے چیف جسٹس فصیح زبان تھے بلوچستان میں پشتو ، براہمی ، دری اور فارسی میں بات کرتے تھے ۔ سندھ میں سندھی ، جنوبی پنجاب میں سرائیکی اور ہمارے ساتھ پنجابی میں گفتگو کرتے تھے وہ صلاحیت تو ہم نہیں ہے ہماری کوشش یہ ہے کہ مقامی صوبائی زبان سیکھ لیں اپنی مادری زبان کے علاوہ دیگر زبانیں سیکھنے کے لئے قاعدے خریدے ہیں اولیاء کرام کے سرائیکی میں شاعری کی وجہ سے سرائیکی بولنے میں مدد ملی ہے کوئی ایسی مقامی زبان نہیں ہے جس کے بارے صوبوں نے قانون سازی کر کے اس کی ترویج و اشاعت نہ کی ہو ۔

شاہ کے کلام ، سچل سرمست کلام بھی سمجھا جا رہا ہے کون سی سیاسی مصلحت ہے اعظم خان آپ نے واضح کر دیا ہے اعظم خان نے کہا کہ اگر ہم اردو میں کوئی خط لکھیں گے سندھ والے اگر یہ نہیں چاہتے تو پھر یہ کیسے ہو گا ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ یہ کوئی مشکل نہیں ہے وفاق اور صوبوں نے تعلیم کا نظام ایسا کر دیا ہے اب ہر کوئی ان پڑھ ہے ۔ انگریزی کی بجائے عام پڑھا لکھا بھی اردو کو کچھ نہ کچھ سمجھ لے گا ۔

سات آٹھ آوازوں کے رسم الخط ایک ہی طرح کا استعمال ہو رہا ہے ۔ جو سب سے روٹ ترن علاقے ہیں وہاں شاید آپ کی بات سمجھ میں آتی ہے ۔ اعظم خان نے بتایا کہ وہ آخری بار 2010 میں سندھ گئے تھے جسٹس جواد نے کہاکہ کاسیو آخری قصبہ ہے جس کے بعد بھارتی بارڈر آ جاتا ہے اور پارام بھگت کبھی بھی کاسیو سے باہر نہیں گیا وہاں بھی لوگ اردو میں بات کرتے ہیں ۔ آپ چاہتے ہیں کہ سب کچھ اردو میں نہ ہو جہاں بھی کوئی زبان فیل ہو جاتی ہے وہاں اردو زبان کامیاب ہو جاتی ہے ۔

پنجابی کی ضرب المثل ہے ۔ حجتان ڈھیر ، یہ ہو کیا رہا مجھے تو کوئی سمجھا دے ،انگریزی تو سب کو سمجھ آتی ہے اردو سمجھ نہیں آتی سیاسی مصلحت آڑے آ رہی ہے لکھ کر دیں ۔ پنجاب کی کوئی زبان اور کلچر نہیں ہے ۔ بابا پھلے شاہ ، شاہ حسین ، خواجہ غلام فرید ، وارث شاہ نے کیا سب کلام اردو اور انگریزی میں لکھا ہے ہم جیسے مراعات یافتہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/06/2015 - 14:53:32 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان