برصغیر کے عالمی شہرت یافتہ غزل گائیک اور شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی تیسرے برسی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید فن و فنکار کی خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 15:10:43 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:42:37 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:42:35 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:42:34 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:40:06 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:40:03 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:40:01 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:24:27 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:50:43 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:50:41 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:50:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

برصغیر کے عالمی شہرت یافتہ غزل گائیک اور شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی تیسرے برسی پرسوں منائی جائے گی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء )برصغیر کے عالمی شہرت یافتہ غزل گائیک اور شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی تیسرے برسی ( ہفتہ ) کو منائی جائے گی۔ مہدی حسن 18 جولائی 1927ء کو بھارت کے ضلع جے پورکے گاؤں جھنجھرومیں پیدا ہوئے اورتقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے ۔ انہوں نے 8سال کی عمر میں پہلی بار پرفارم کیا جبکہ غزل گائیکی کا آغاز ریڈیو پاکستا ن لاہو رسے 1957ء میں کیا۔

ان کا موسیقی کے معروف گھرانے کلاونت سے تعلق تھا،موسیقی کی ابتدائی تعلیم والد عظیم خان اور چچا اسماعیل خان سے حاصل کی،ریڈیوپر گ لوں میں رنگ بھرے بادِ نور بہار چلے پہلی مشہور غزل تھی ، فلمی گائیکی کی ابتدافلم شکار سے کی۔مہدی حسن نے جو بھی گیت گایا وہ امر ہو گیا۔ وہ سر چھیڑتے تو محفل میں سکوت طاری ہو جاتا۔ ہدایتکار خلیل قیوم کی فلم فرنگی میں انہوں نے فیض احمد فیض کا لکھا ہوا ایک گیت ” گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے“ گایا تو ہرطرف ان کے چرچے ہونے لگے۔

فلم ”فرنگی“میں بھی انہوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا فلم تو 18دسمبر 1964ء کو ریلیز ہوئی لیکن یہ گانا اس سے پہلے ہی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر چکا تھا۔فلم سسرال میں بھی ان کا گایا ہوا ایک گیت ”جس نے میرے دل کو درد دیا“۔ اتنا مقبول ہوا کہ لوگ ان کے دیوانے بن گئے۔پروڈیوسر ، مصنف اور موسیقار خورشید انور کی فلم گھونگھٹ میں انہوں نے ایک گیت مجھ کو آواز دے کہاں ہے گایا تو ان کی خوبصورت آواز نے فلم کے ہیرو سنتوش کمار کی مقبولیت کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا ۔

فلمساز شباب کیرانوی کی فلم ”میرا نام ہے محبت“ میں مہدی حسن نے ایک گیت’ ’یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم ، کہانی محبت کی زندہ رہے گی “گایا تو دھوم مچ گئی۔ اس گانے نے اداکار غلام محی الدین کو بھی اسٹار بنا دیا۔

اسی طرح فلم آنسو میں ان کی آواز میں گائے ہوئے گیت جان جاں تو جو کہے گاو ں میں گیت تیرے نے اداکار شاہد کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

خواجہ پرویز کے لکھے ہوئے فلم چاہت کے ایک گیت ”پیار بھرے ، دو شرمیلے نین“ نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی دھوم مچا دی۔فلم ”میری زندگی ہے نغمہ“ میں مشیر کاظمی کے لکھے ہوئے گیت ” اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا“ نے شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ اس فلم سے اداکار رنگیلا بھی شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچے۔اس طرح فلم داستان تو اگرچہ کامیاب نہ ہوسکی لیکن مہدی حسن کا گایا ہوا گیت ”قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے“ امر ہو گیا۔

کہا جاتا ہے کہ مہدی حسن کے اور گیت جس کے بول تھے زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں کی شہرت سرحد پار بھارت پہنچی تو گلوکارہ لتا منگیشکر یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ان کو موٹر مکینک کے کام میں بھی مہارت حاصل کی تھی ۔مہدی حسن نے 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626ہے ۔جن میں اردو فلموں کی تعداد 366تھی اور ان فلموں میں ۔

ان کے گائے ہوئے گانوں کی تعداد 541 جبکہ انہوں نے 74پنجابی فلموں میں 82گانے بھی گائے ۔ انہوں نے28سال تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی ۔حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیازاور تمغہ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا،1979ء میں مہدی حسن کو بھارتی حکومت نے اپنا بڑاایوارڈ ”کے ایل سہگل “ دیا ۔ آخری عیام میں وہ کافی عرصے تک علالت میں رہے اوربالاآخر 13جون 2012 ء کواپنے خالق حقیقی سے جا ملے مگر وہ آج بھی اپنے گیتوں کی بدولت پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

11/06/2015 - 14:40:03 :وقت اشاعت