امریکی صدر اوباما شیعہ مسلمان ہیں، سابق عراقی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:09:39 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:09:39 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 14:09:39 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:40:09 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:40:09 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:39:36 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:39:36 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:39:36 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:37:56 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:23:24 وقت اشاعت: 11/06/2015 - 13:23:24
پچھلی خبریں - مزید خبریں

امریکی صدر اوباما شیعہ مسلمان ہیں، سابق عراقی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء )امریکی اور خلیجی میڈیا کے مطابق ایک سابق عراقی رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما شیعہمسلمان ہیں اس لئے انکے ایران سے اچھے تعلقات ہیں، اوباما کا درمیانی نام ’حسین ‘ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شیعہ مسلمان ہیں۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنے مضمون میں لکھا کہ اوباما کے مسلمان ہونے کے سازشی نظریات میں ایک نیا رخ آیا ہے، یو ٹیوب پر عراقی رکن پارلیمنٹ نے اسے شیعہ ثابت کرنے کے لئے غیر معمولی وضاحت پیش کی، جس میں اس نے ثابت کرنے کی کوشش کی اوباما ایران کی طرف ہمدردانہ رجحان کیوں رکھتا ہے۔

اپنے والدین کے شیعہ پس منظر کی وجہ سے اوباما ایران کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ امریکی قارئین کو یہ بات صدمے سے دوچار کرسکتی ہے، جب انہیں پتہ چلے کہ ایک باعمل عیسائی پر ایک خفیہ اسلامی ایجنڈے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اوباما کے صدارتی انتخابات سے قبل بھی ان کے مسلمان ہونے کی افواہیں زیر گردش رہی، ان کے والد کو مسلمان بیان کیا گیا اور کہا گیا کہ اوباما نے انڈونیشیا میں ایک بنیاد پرست اسلامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ گزشتہ برس ایک سروے کے مطابق 54فیصد ری پلیکن یہ سمجھتے ہیں کہ اوباما مسلمان ہیں۔

11/06/2015 - 13:39:36 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان