بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی کردار کے اعترافی بیان ‘ برما کے مسلمانوں پر وحشیانہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 23:05:35 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 23:03:50 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 23:02:08 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 23:02:08 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 23:02:08 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:59:02 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:59:02 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:59:02 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:51:35 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:51:35 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:49:49
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی کردار کے اعترافی بیان ‘ برما کے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کیخلاف مذمتی قراردادیں متفقہ منظور

حکومت بھارت کے جارحانہ طرز عمل کیخلاف قومی لائحہ عمل کے تعین کیلئے قومی قیادت کو اعتماد میں لیکر ایک مئوثر لائحہ عمل کا اعلان کرے‘اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء) صوبائی اسمبلی پنجاب کے پندرھویں اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی کردار کے اعتراف پر دئیے جانیوالے بیان ‘ برما کے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کیخلاف مذمتی جبکہ رکن اسمبلی مرحوم چوہدری محمد شمشاد احمد خاں اور ان کے صاحبزادے کی ناگہانی وفات پر تعزیتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی کردار کے اعتراف پر پاکستان کی قوم جس تکلیف دہ اذیت سے دوچار ہے اس پر ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے جارحانہ طرز عمل کیخلاف قومی لائحہ عمل کے تعین کیلئے قومی قیادت کو اعتماد میں لیکر ایک مئوثر لائحہ عمل کا اعلان کرے۔

پنجاب اسمبلی نے جھنگ یونیورسٹی اور ساہیوال یونیورسٹی کے مسودہ قوانین کثرت رائے سے منظور کر لئے جبکہ آرڈیننس ( ترمیم ) تعلیم القرآن و سیرت انسٹی ٹیوٹ ایوان میں پیش کر دیا گیا ، اپوزیشن نے نا بینا افراد کے معاملے پر ایوان کی کارروائی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے روز اپنے مقررہ وقت دو کی بجائے غیر معمولی تاخیر سے سوا دو گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ۔

اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری علی اصغر منڈا نے محکمہ سروسز اینڈ جنرل اینڈ منسٹریشن سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی میاں محمد اسلم اقبال کی طرف سے سوال کے جواب میں مطمئن نہ ہونے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے پارلیمانی سیکرٹری کو آج جمعرات ایوان میں 5-8-2013کووزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے والے افراد کے نام ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر میں ملک دشمن عناصر نے سفر نہیں کیا ہوگا ۔ اگر معزز رکن کے پاس ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال کی اطلاعات ہیں تو اسکی نشاندہی کریں ۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان میں تسلیم کیا کہ جی او آر Iمیں 11رہائشگاہوں پر سابق بیورو کریٹس نا جائز طور پر قابض ہیں اور محکمے نے ان رہائشگاہوں کو خالی کرانے کے لئے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے ۔

ان رہائشگاہوں میں رہائش پذیر افراد سے پینل رینٹ وصول کیا جارہا ہے ۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ دوسرے اضلاع سے آنے والے اراکین اسمبلی کھٹمل والے کمروں میں رہنے میں مجبور ہیں۔ اراکین اسمبلی تین ‘ تین ہزار روپے کمرے کا کرایہ دے کر رہائش رکھتے ہیں لیکن حکومت بیورو کریٹس کو اکاموڈیٹ کر رہی ہے ۔ اراکین اسمبلی کو چیچوکی ملیاں یا کالا باغ بھیج دیا جائے ۔

پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ سرکاری رہائشگاہوں کی الاٹمنٹ میں وزیر اعلیٰ ہارڈ شپ پالیسی یا ایڈ منسٹریٹو معاملات کے پیش نظر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی سرکاری افسر کو رہائشگاہ الاٹ کر سکتے ہیں اور اسے کینسل نہیں کیا جا سکتا۔ عامر سلطان چیمہ نے سوال اٹھایا کہ کیا پارلیمانی سیکرٹری بتائیں گے کہ سپریم کورٹ نے صوابدیدی اختیار کو ختم کر دیا ہے؟ جس پرپارلیمانی سیکرٹری علی اصغر منڈا نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی ایسی کوئی ججمنٹ ہے تو لے آئیں ہم بل لے کر آئیں گے اور اس اختیار کو ختم کر دیں گے۔

اسپیکرکا کہنا تھاکہ اگر عدالت کا حکم ہوگا تو وہ لازم ہوگا ۔ وقفہ سوالات کے دوران تحریک انصاف کے رکن اسمبلی میاں محمد اسلم اقبال ،آزاد رکن اسمبلی احسن ریاض فتیانہ اور پارلیمانی سیکرٹری علی اصغر منڈا کے درمیان نوک جھونک بھی ہوتی رہی۔ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی آصف محمود اور عارف عباسی نے راولپنڈی میں پولیس کے ہاتھوں دو یتیم بھائیوں کی ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اس حوالے سے جمع کرائی جانے والی تحریک التوائے کار کو آؤٹ آف ٹرن ایوان میں لایا جائے ۔

اس موقع پر عارف عباسی نے کہا کہ اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تووزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دوں گا ۔ قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے قوم دہشتگردی کے عذاب میں مبتلا تھی اب ان پر دوسرا عذاب پولیس گردی آن پڑا ہے ۔ حالیہ دنوں میں پولیس کی طرف سے عوام پر گولیاں برسانے کے جو واقعات سامنے آئے ہیں انکی مثال نہیں ملتی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے اور حکومت کے گڈ گورننس کے دعوے سوالیہ نشان ہیں۔ میاں محمود الرشید نے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں اپوزیشن سے امتیازی سلوک پر بھی احتجاج کیا اور کہا کہ ہمارے مقابلے میں ہارے ہوئے شکست خوردہ لوگوں سے فیتے کٹوائے جارہے ہیں ۔ پنجاب حکومت نے دو سال سے ہمارے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہوا ہے ۔

ڈی سی او ہارے ہوئے لوگوں کو بلا کر انہیں کروڑوں روپے کی سکیمیں دے رہے ہیں اگر ہمارے ساتھ امتیازی سلوک بند نہ ہوا تو وزیر اعلیٰ کے دفتر کا گھیراؤ کریں گے ۔ اجلاس میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے نا بیناافراد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ صوبائی وزیر ملک ندیم کامران نے ایوان کو بتایا کہ اسپیکر کی طرف سے مجھے اور صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو کو نا بینا افراد سے بات چیت کا کہا گیا جسکے بعد انکے پانچ نمائندوں کو ایوان میں لایا گیا جہاں رانا ثنا اللہ خان سمیت تین رکنی حکومتی کمیٹی نے ان سے مذاکرات کئے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔

قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نا بینا افراد کو ہر دفعہ لالی پاپ دے کر گھر بھیج دیتی ہے ۔ کیا معاشرے کے سب سے محروم طبقے کے ساتھ یہ سلوک کرنا چاہیے ، ان پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں ۔ نا بینا افراد چلچلاتی دھوپ میں اپنے حقوق کے لئے بات کر رہے ہیں اورجب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 22:59:02 :وقت اشاعت