`پاکستان میں گڈ گورننس کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،مجلس وحدت مسلمین ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:46:55 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:46:55 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:45:35 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:45:35 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:44:20 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:44:20 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:44:20 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:42:13 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:42:13 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:40:53 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 22:40:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 25/02/2017 - 00:01:49 وقت اشاعت: 25/02/2017 - 00:01:50 وقت اشاعت: 25/02/2017 - 00:01:51 وقت اشاعت: 25/02/2017 - 00:01:52 وقت اشاعت: 25/02/2017 - 00:01:53 وقت اشاعت: 25/02/2017 - 00:01:54 کوئٹہ کی مزید خبریں

`پاکستان میں گڈ گورننس کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،مجلس وحدت مسلمین

طرز حکمرانی کے بہتر ہونے کا تصور عوام کے ذہنوں اور دلوں میں راسخ ہے،بیان`

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گڈ گورننس کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ طرز حکمرانی کے بہتر ہونے کا تصور عوام کے ذہنوں اور دلوں میں راسخ ہے۔ بد قسمتی سے عملی طور پر انہیں بدترین نقشہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ریاست اپنے اجتماعی ڈھانچے ہی میں نہیں بلکہ صوبائی حوالوں سے بھی زوال پذیر ہے۔

بسا اوقات ایسا لگتا ہے جیسے ریاست اپنی کسی وارث کی تلاش میں جس طرف منہ اُٹھاتا ہے ادھر ہی منہ اُٹھائے دوڑے جاری ہے۔ریاستی انتظامیہ قانون کے نقاب میں افراد کی ذاتی حکمرانی کے آسیب کا برسوں سے سامناکررہی ہے۔ جس کے نتیجے میں اسی انتظامیہ کا اپنا روایتی عوام دشمن کردار ہمہ جہتی طور پر گورننس کے ہر بہتر عمل کو ہڑپ کر چکا ہے۔ امن و امان کی تاریخ کا باب شاید ہماری زندگیوں سے نکالا جا چکا ہے۔

دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان کے شریانوں سے خون نکالا جا چکا ہے۔ یہ اس وطن کی سخت جانی اور پاکستان کے عوام کا صبر اور پر امید رہنے کی نا قابل شکست کردار ہیں جس کے باعث ابھی تک اس کی کمر پوری طرح بیٹھ نہیں سکی۔بانجھ سوچوں اور خزاں فکر لوگ سیاسی جماعتوں پر کئی دہائیوں سے قابض ہیں اور ان کے فکری بانجھ پن کا اثر دھرتی پر نمایاں نظر آرہا ہے۔ عام پاکستانیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ حقیقی جمہوریت اور سیاسی نظام کی مضبوطی کے لیے اسے سرمایہ داروں کے حصار سے نکل کر تعلیم یافتہ متوسط طبقے کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ پھر یہاں خزاں کی جگہ بہار آئیگی۔`

10/06/2015 - 22:44:20 :وقت اشاعت