نئے بجٹ میں کچھ سیکٹرز کیلئے مراعات ہیں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور بڑی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:50:48 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:49:37 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:48:10 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:48:10 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:46:32 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:46:32 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:45:14 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:36:31 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:35:15 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:35:15 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:33:17
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

نئے بجٹ میں کچھ سیکٹرز کیلئے مراعات ہیں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور بڑی سرمایہ کاری کیلئے ضروری اقدامات شامل نہیں ؛اوورسیزانوسٹرز چیمبر

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)اوورسیزانوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) نے کہا ہے کہ بجٹ 2015-16 میں کچھ سیکٹرز کیلئے مراعات اور اپنے اہداف رکھے گئے ہیں لیکن بجٹ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور بڑی سرمایہ کاری کیلئے ضروری اقدامات شامل نہیں ہیں۔ جبکہ ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے بھی انتہائی محدود تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

او آئی سی سی آئی کو اس بات کا ادراک ہے کہ حکومت سب کو خوش کرنے والا بجٹ نہیں پیش کرسکتی ہے مگر ملک میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں حائل مسائل اور بڑی سرمایہ کاری کیلئے درکار مراعات جس میں ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں کو بھی بجٹ کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تھا۔او آئی سی سی آئی کے صدر عاطف باجوہ نے کہاکہ پچھلے سال کی گروتھ کو مدِّ نظر رکھا جائے تو 5.5فیصد کا جی ڈی پی گروتھ ٹارگٹ مینو فیکچرنگ سیکٹر کی 6.4فیصد متوقع گروتھ ، زرعی سیکٹر کی 3.9فیصد متوقع گروتھ اور سروس سیکٹر کی 5.7فیصد متوقع گروتھ پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہاکہ 4.3فیصدکا مالیاتی خسارے کا ٹارگٹ بھی مکمل طورپر 3100ارب کے ٹیکس حاصل کرنے سے مشروط ہے جو کہ 2014-15 کے کم کیے گئے ٹارگٹ سے 19فیصد زائد ہے۔انہوں نے کہاکہ 5.5فیصد کا جی ڈی پی گروتھ ٹارگٹ حاصل کرنے کیلئے ٹیکس بیس کو بڑھانے کے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے سات مالی سالوں میں ٹارگٹس حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں لہٰذا بہتر ہوتا اگر ٹیکس محاصل بڑھانے کیلئے مجوزہ اقدامات کا تفصیلی ذکر کیا جاتا جن کے ذریعے ٹیکس ادا نہ کرنے والے یا اپنی آمدنی سے کم ٹیکس دینے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

انہوں نے 700ارب روپے کے پی ایس ڈی پی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہاکہ ملک اور معیشت کی ترقی کیلئے ضروری پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے اس پیسے کو خرچ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ہاؤسنگ، زراعت، ٹرانسمیشن لائنز، کولڈ اسٹوریج اور ہلال گوشت کے پراجیکٹس اور خیبر پختونخواہ صوبے کو دی جانے والی مراعات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کو دی جانے والی مراعات کا دائرہ کا پورے ملک تک وسیع کیا جانا چاہئے تھا۔

انہوں نے کارپوریٹ ٹیکس میں سال 2013ء کی پالیسی کے تحت 1فیصد کمی کو سراہتے ہوئے کہاکہ 500ملین سے زائد کی آمدنی حاصل کرنے والے اداروں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 21:46:32 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان