قومی اسمبلی ٗ بجٹ بحث کو ٹیلی ویژن پربراہ راست ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کے معاملے پر شدید ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:20:05 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:18:54 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:15:23 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 21:00:18 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:53:52 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:47:18 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:41:27 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:38:19 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:34:03 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:34:02 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:32:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی ٗ بجٹ بحث کو ٹیلی ویژن پربراہ راست ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی ٗ حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک ہوگئے

ایوان کے ہررکن کی تقریرٹیلی ویژن پربراہ راست دکھائی جائے ٗہنگامہ آرائی کے دوران شیم شیم اور گو گو کے نعرے بھی لگائے گئے , اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا معاملے پر علامتی واک آؤٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کو ٹیلی ویژن پربراہ راست ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اس معاملے میں حکومتی اوراپوزیشن ارکان ایک ہوگئے اورمطالبہ کیا کہ ایوان کے ہررکن کی تقریرٹیلی ویژن پربراہ راست دکھائی جائے اس ہنگامہ آرائی کے دوران شیم شیم اور گو گو کے نعرے بھی لگائے گئے اوراپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس معاملے پر ٹوکن واک آؤٹ کیا جبکہ وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے موقف اختیار کیا کہ پی ٹی وی پراپوزیشن لیڈر کی تقریر براہ راست ٹیلی کاسٹ کی گئی ہے ہر رکن کی تقریر براہ راست دکھاناممکن نہیں پی ٹی وی حکومت سے کوئی فنڈز نہیں لیتا اشتہارات بھی چلنے ہوتے ہیں جس سے چار ہزار ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔

بدھ کو نماز شہرکے وقفے کے بعد مسلم لیگ ن کے سردار اویس احمدلغاری نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہر رکن اپنے حلقے کے لوگوں کانمائندہ ہے اور اس کی آواز اپنے حلقے کے لوگوں اور پورے پاکستان تک پہنچنی چہیے جب ایوان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہررکن کی تقریر براہ راست دکھائی جائے گی تو پی ٹی وی کے ایم ڈی نے اس کو کیوں روکا ہے اس پر ایک اور حکومتی رکن نے کہاکہ وزیر اطلاعات پرویز رشید اپنے چیمبر میں موجود ہیں انہیں ایوان میں بلایاجائے۔

ڈپٹی سپیکرمرتضی جاوید ستی نے کہاکہ سب ارکان کی تقاریر کو براہ راست دکھانے کافیصلہ ہوا تھا اس دوران اویس لغاری نے ڈپٹی سپیکر سے بولنے کی اجازت طلب کی مگر انہیں اجازت نہ ملی جس پراویس لغاری نے کہا کہ آپ کس طرح ہمیں چپ کرواسکتے ہیں میرا اعتراض سنیں ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ بات ہوچکی ہے جس پر اویس لغاری نے کہاکہ یہ جذباتی ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں آج صبح دس بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے تک وزیراعظم سمیت کسی بھی شخصیت کی پریس کانفرنس یا کوئی تقریر نہیں تھی ہر ایک حلقے کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ایم این اے کی بات سنیں پی ٹی وی کے ایم ڈی کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے تقریریں دکھائیں پی ٹی وی کے ایم ڈی کو سپیکر چیمبرمیں بلا کر پوچھاجائے اس پر حکومتی واپوزیش ارکان نے زوردارڈیسک بجائے ۔

قائدحزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاکہ ایوان کے ارکان کی رائے یہ ہے کہ ان کی بات عوام تک جائے ہم ارکان کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹوکن واک آؤٹ کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر جانے لگے توایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے کہاکہ ہررکن کو ٹی وی پردکھانا ان کاحق ہے جو پچھلی نشستوں پربیٹھے ہیں ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آگے والے ارکان کا ہے یہ کہتے ہوئے رشید گوڈیل بھی دیگر ارکان کے ہمراہ ایوان سے باہرچلے گئے ڈپٹی سپیکر نے وزیرمملکت برائے مذہبی اور پیرامین الحسنات شاہ اور دیگر ارکان کو انہیں منانے کیلئے بھیجا حکومتی رکن رضا حیات ہراج نے کہا کہ جب پارلیمان نے یہ فیصلہ کیا کہ ارکان کی تقریر ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی جائیں گی وہ کونسی قوت ہے جس نے فیصلہ کو نہیں مانا اس دور ان ڈپٹی سپیکر نے مسلم لیگ (ن)کے راؤ محمد اجمل خان کو بجٹ بحث پر تقریر کر نے کی دعوت دی تو راؤ اجمل خان نے معذرت کرلی اور کہاکہ اویس لغاری نے جو نکتہ اٹھایا ہے اس پر کوئی فیصلہ ہو جائے تو پھر وہ بات کرینگے جس پر ڈپٹی سپیکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا وقت چھوڑ رہے ہیں راؤ اجمل خان نے کہاکہ اگر ہاؤس کی بالادستی کیلئے میرا وقت چلا بھی جائے تو کوئی پریشانی نہیں جو بات یہاں ہوئی ہے پہلے اس کا حل نکل جائے میری تقریر راہ جائے تو کوئی بات نہیں انہوں نے کہاکہ حلقے کے عوام ہمیں کہتے ہیں کہ اگر ہمارے کام نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی صورت ہی دکھا دیا کریں اسی دور ان اپوزیشن ارکان ٹوکن واک آؤٹ کر کے واپس ایوان میں آگئے اور خورشید شاہ نے کہاکہ ہم نے علامتی واک آؤٹ کیا تھا اور ہم واپس آگئے ہیں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز ر شید نے کہا کہ اس ہاؤس میں جو فیصلہ کیا گیا تھا اس کو سو فیصد پورا کیا جائیگا ہماری طرف سے لائیو فیڈ مہیا کی جارہی ہے جس کامکمل ریکارڈ موجود ہے اگر کوئی چینل نہیں دکھاتا تو یہ میرے اختیار میں نہیں پی ٹی وی کو بھی وہی کام سر انجام دینے ہیں جو دوسرے چینل کر تے ہیں خبریں اور پروگرام بھی دکھانے ہیں لوگوں کے ساتھ اشتہارات کی بھی کمٹمنٹ ہے جب پی ٹی وی میں اشتہارات نہیں چلیں گے تو ملازمتیں کو تنخواہیں کیسی دی جائیں گی پی ٹی وی اشتہارات کے ذریعے چلتا ہے بجٹ میں پی ٹی وی کیلئے کوئی رقم نہیں ہوتی اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو پورا دکھایا ہم ہر پارلیمانی لیڈر کی تقریر دکھائینگے اگر کسی کی نہیں چلی تو دوبارہ دکھائیں گے اور شام کو ایک پروگرام بھی ہوگا جس میں ہر مقرر کی تقریر کے اہم نکات دکھائے جائینگے انہوں نے کہاکہ ہر مقرر کی تقریر راہ راست نہیں دکھائی جاسکتی چار سو سے زائد لوگوں کی تقریر کو مسلسل دکھانے کامطلب یہ ہے کہ دوسرا کام نہ کیا جاسکے اہم خبریں آ جاتی ہیں اور اشتہارات بھی ہوتے ہیں وہ بھی پی ٹی وی پر نشر کر نے ہوتے ہیں سید خورشید شاہ نے کہا کہ پی ٹی وی کے چھ ٗسات چینل ہیں اس ایوان میں زیادہ سے زیادہ 35سے 40فیصد ارکان بات کرینگے جن کی تعداد 150سے 175بنتی ہے ارکان کی بات ٹھیک ہے ’’دیر آید درست آید ‘‘ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ لوگوں تک ہماری کار کر دگی جانی چاہیے لوگ سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کچھ نہیں کرتی صرف وہاں واک آؤٹ کرتا ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو حکومتی پارٹی مضبوط ہوگی سینٹ میں دو سکرینیں لگی ہوئی ہیں یہاں بھی دو سکرینیں لگا دی جائیں ایک پر پی ٹی وی دکھایا جائے تاکہ ارکان دیکھ سکیں ان کی تقریر نشر ہورہی ہے یا نہیں اگر کہیں تو ہم چندہ کر کے دیکھنے کیلئے تیار ہیں اور تمام ارکان اپنی ایک ایک تنخواہ حکومت کو دینے کیلئے تیار ہیں جو پی ٹی وی کو دے دی جائے اس پر پرویز رشید نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میں ان کی تنخواہ نہیں لونگی اپنا دے دونگا لیکن چار ہزار ملازمین کی تنخواہیں ہماری تنخواہوں سے کیسے پوری ہوسکتی ہیں سپورٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 20:47:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان