پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا وعدہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:26:36 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:18:01 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:16:59 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:15:25 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:15:25 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:15:25 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:09:49 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:00:55 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:59:11 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:59:11 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:57:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے ،اپوزیشن

منصوبہ متنازع ہو گیا تو کبھی مکمل نہیں ہو گا ، حکومت دفاعی بجٹ میں ہیرا پھیری نہ کرے ، سینیٹر فرحت اﷲ بابر , غذائی اشیاء پر سیلز ٹکیس کی مذمت کرتے ہیں ، سندھ کو نظر انداز کیا گیا تو مزاحمت کرینگے ، تاج حیدر , خیبر پختونخوا میں ہائیڈرل منصوبوں پر کام کر کے عوام کو سستی بجلی دی جاسکتی ہے ،ٹریکٹر پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جائے ، بجٹ کی تیاری میں سینیٹ کو اعتماد میں لیا جائے ، سینیٹر ایم حمزہ ، سینیٹر ساجد میر ، احمد حسن اور دیگر اراکین کا بجٹ بحث پر اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے ، منصوبہ متنازع ہو گیا تو کبھی مکمل نہیں ہو گا ، غذائی اشیاء پر سیلز ٹکیس کی مذمت کرتے ہیں ، سندھ کو نظر انداز کیا گیا تو مزاحمت کرینگے جبکہ اپوزیشن کے ساتھ حکومتی سینیٹر ایم حمزہ نے بجٹ میں زراعت کے شعبے کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہائیڈرل منصوبوں پر کام کر کے عوام کو سستی بجلی دی جاسکتی ہے ،ٹریکٹر پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جائے ، بجٹ کی تیاری میں سینیٹ کو اعتماد میں لیا جائے ۔

بدھ کو وقفے کے بعد سینیٹ کا اجلاس دوبارہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری کی صدارت میں شروع ہوا ۔ بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں سینیٹ نے جو تجاویز دی تھیں ان میں سے ایک بھی قبول نہیں ہوئی مجھے خدشہ ہے کہ اس سال بھی سینیٹ کی کوئی تجویز قبول نہیں کی جائے حکومت کہتی ہے کہ عالمی اداروں نے معیشت کے اعشاریے کو سراہا وہ ایسا کیوں نہیں کرینگے اس لئے کہ حکومت نے ان پالیسیوں کو اپنایا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پی پی حکومت نے خسارے کے بجٹ دیئے ہمیں فخرہے کہ ہم نے وسائل کا رخ عوام کی جانب موڑا تنخواہوں میں اضافہ کیا چین اس لیے راہداری بنا رہا ہے کہ ان کی پروڈکٹ جلد مارکیٹ تک پہنچے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اپنی پیداوار کو بھی بڑھایا جائے تاکہ ہماری سڑکوں پر ہمارا اپنا سامان بھی جائے ۔

دوبئی کے اندر 4 بلین ڈالر کے مکانات خرید گئے سٹاک ایکسچینج بیمار خانے میں تبدیل ہو گیا صنعتوں کو ٹیکس پر چھوٹ کے تجربات پہلے بھی کئے گئے ایسی صنعتیں صرف فائلوں کی حد تک ہے بجٹ میں غریب کیلئے گھر کی کوئی سکیم نہیں ہے ساری سہولیات اشرافیہ کو دی گئی ہیں ۔ زراعت کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا غریب کی بجائے ٹیوب ویل پر بڑے کسانوں کو فائدہ دیا گیا ۔

غذائی اشیاء پر سیل ٹیکس کی مذمت کرتے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں سندھ کو 10 بلین سے زائد کی سکیمیں نہیں دی گئیں سندھ کے ساتھ ظلم نہیں ہونا چاہئے ہم مزاحمت کرینگے ہماری زندگی موت کا مسئلہ ہے ۔ سینیٹر ایم حمزہ نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا کہ دو تین سالوں میں بجلی کی قلت ختم ہو جائے گی حقیقت ہے کے پی میں ہائیڈل منصوبے بنا کر سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔

زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا حکومت مبارکباد کی مستحق ہے پاکستان زرعی ملک ہے حکومت نے گندم کی قیمت 1300 روپے من مقرر کی اعلان کیا گیا ہمارے علاقے اور سندھ میں 1100 روپے من فروخت ہوئی جب کاشتکاروں کو صحیح قیمت نہیں ملے گی تو وہ پیداوار میں اضافہ کیسے کرینگے یہ پاکستان کے ساتھ ظلم ہے۔ حکومت اس طرف توجہ دے حکومت زراعت کو زیادہ سے زیادہ مراعات دے حکومت ٹریکٹر پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کرے ۔

اس بجٹ کی تیاری میں سینیٹ کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ متوازن بجٹ قوم کے سامنے آئے اور عوام کا بھلا ہو۔ فرحت اﷲ بابر نے کہاکہ سنیٹ کے پاس اختیار نہیں کہ بجٹ میں ترمیم کر سکے زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کی طرف نشاندہی کر سکتے تاکہ حکومت اصلاحات کرے ۔ اعداد و شمار کے پیچھے چھپا ہوا پیغام ہی حکومت کا اصل پیغا م ہوتا ہے اعداد و شمار میں ایک خطرناک پیغام نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت چائنا پاکستان راہدری پر اے پی سی کے متفقہ فیصلہ اور وزیراعظم کا اعلان کردہ روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل نہیں کر رہی لگتا ہے حکومت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 20:15:25 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان