جوڈیشل کمیشن نے انتخابی تھیلوں سیملنے والے فارم 15کاریکارڈطلب کر لیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:09:49 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 20:00:55 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:59:11 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:59:11 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:57:44 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:57:44 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:57:44 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:54:06 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:45:02 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:41:51 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 19:41:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

جوڈیشل کمیشن نے انتخابی تھیلوں سیملنے والے فارم 15کاریکارڈطلب کر لیا

سیاسی جماعتیں فارم15کاجائزہ لے لیں ضرورت پڑی توکمیشن خود بھی کسی گواہ کوجرح کیلیے طلب کرے گا،ایڈیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کوبھی دوبارہ بلاسکتے ہیں،چیف جسٹس , 60سے 80فیصد حلقوں سے فارم 15وصول کرلیے ، باقی بھی جلد پیش کردیں گے،وکیل الیکشن کمیشن، زیادہ ترحلقوں کے فارم پندرہ غائب ہیں ،حفیظ پیرزادہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)عام انتخابات 2013میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے الیکشن کمیشن سے پیرتک انتخابی تھیلوں سے حاصل کیے گئے فارم 15کاریکارڈطلب کیاہے جبکہ کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصرالملک نے کہاہے کہ تمام سیاسی جماعتیں فارم پندرہ کاتمام ریکارڈکاجائزہ لے لیں ضرورت پڑی توکمیشن خود بھی کسی گواہ کوجرح کے لیے طلب کرے گا،ایڈیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کوبھی دوبارہ بلاسکتے ہیں ،کمیشن اپنے دائرہ کارسے باہرنہیں جاسکتاآرڈیننس میں دیے گئے تین نکات کے مطابق ہی سفارشات دی جائیں گی جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجانے بتایاہے کہ 60سے 80فیصد حلقوں سے فارم 15وصول کرلیے گئے ہیں باقی بھی جلد پیش کردیں گے ،فارم پندرہ کے لیے سیکرٹری الیکشن کمیشن کوبلایاجائے ،تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہاہے کہ انھوں نے تمام تردھاندلی کاریکارڈ کمیشن کے روبروپیش کردیاہے اورفارم پندرہ کاریکارڈبھی حاصل کرلیاہے زیادہ ترحلقوں کے فارم پندرہ غائب ہیں انھوں نے یہ معروضات چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اورجسٹس اعجازافضل خان پر مشتمل تین رکنی انکوائری کمیشن کے روبروپیش کیے ہیں ۔

بدھ کے روز انکوائری کمیشن کی کارروائی شروع ہوئی تو ڈاکٹر خالد رانجھا نے این اے 142کے ریٹرننگ آفیسر اعجاز حسین سے پوچھا کہ کیا آپ کو تعیناتی سے قبل ٹریننگ دی گئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہمیں اس کیلئے باقاعدہ ٹریننگ دی گئی تھی ۔ قواعد وضوابط بتائے گئے تھے اور رہنمائی کیلئے ایک کتابچہ بھی دیا گیا تھا ۔ خالد رانجھا نے پوچھا کہ آپ نے رزلٹ کہاں سے مرتب کیا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے رزلٹ فارم 14کی معلومات سے مرتب کیا ۔

ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے رزلٹ مرتب کرتے وقت تمام امیدواروں کو بلایا تھا تو بتایا کہ ہاں ہم نے تمام امیدواروں کو نوٹس جاری کئے تھے لیکن کچھ امیدواروں نے اپنی جگہ اپنے پولنگ ایجنٹس کو بھیجا خالد رانجھا نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس وہ نوٹس موجود ہے جس پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارے پاس نوٹس موجود ہے اس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو نوٹس فوٹو کاپی کروا کے عدالت میں جمع کروادیں ۔

خالد رانجھا نے پوچھا کہ کیا آپ نے مسترد کردہ ووٹوں کی گنتی کی تھی ؟ تو انہوں نے بتایا کہ نہیں ہم نے فارم 14کی روشنی میں رزلٹ مرتب کیا تھا ۔ خالد رانجھا نے پوچھا کہ کیا آپ نے (ق) لیگ کے امیدوار سردار طالب حسین کو بھی رزلٹ کیلئے بلایا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ ہاں تمام امیدواروں کو نوٹس بھیجے تھے اور ہمیں موصول شدہ نوٹس پر سردار طالب حسین کے دستخط بھی موجود ہیں اس پر خالد رانجھا نے کہا کہ یہ دستخط جعلی ہیں تو اعجاز حسین نے کہا کہ یہ پراسیس سرور کی طرف سے پہنچایا گیا تھا دستخط پر جعلی ہونا یا نہ ہونا پراسیس سرور والے ہی بتا سکتے ہیں ۔

رانجھا نے پوچھا کہ کیا آپ نے رزلٹ مرتب کرنے کے بعد بیگز دوبارہ سیل کئے تھے ؟ تو بتایا کہ ہاں ہم نے بیگز سیل کئے تھے ۔ خالد رانجھا نے کہا کہ طالب حسین نے آپ کو ملنے کی کوشش کی تھی لیکن آپ نے انہیں ملنے نہیں دیا اس پر اعجاز حسین نے عدالت کو بتایا کہ طالب حسین کا وکیل شاہ بہرام رزلٹ مرتب کرتے وقت ہمارے ساتھ تھا ۔ارشد حسین این اے 146کے ریٹرننگ افسر سے جرح کرتے ہوئے خالد رانجھا نے پوچھا کہ کیا الیکشن سے متعلق آپ کو تمام قواعد سے آگاہی دی گئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہمیں آگاہی دی گئی تھی اور مجھے سب معلوم ہے اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کے مرتب کردہ رزلٹ پر لیگ کے امیدوار کے دستخط موجود نہیں تو اس پر انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمام امیدواروں کو بیٹھا کر رزلٹ مرتب کیا اب یہ ضروری نہیں کہ تمام امیدوار دستخط کریں اس کے بغیر بھی ہم رزلٹ جمع کرواسکتے ہیں ۔

ارشد حسین سے پوچھا گیا کہ آپ نے رزلٹ کس طرح مرتب کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے فارم 14کی مدد سے فارم مرتب کئے اس پر پوچھا کہ کیا آپ کو مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد موجود ہے ؟ ہے تو انہوں نے بتایا نہیں مجھے مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد معلوم نہیں کیونکہ میں نے فارم 14کی معلومات پر رزلٹ مرتب کیا ہے اور بیگز کھول کر ووٹ گنتی نہیں کئے انہوں نے بتایا کہ ہمیں درخواست دی جاتی تو تب ہم بیگز کھول کر ووٹوں کی گنتی کرتے اس حوالے سے ہمیں کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ارشد حسین سے خالد رانجھا نے پوچھا کہ کیا آپ نے تمام امیدواروں کو نوٹس بھجوایا تھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں میں نے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 19:57:44 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان