متبادل توانائی کے طور پر ونڈ اور شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے آئندہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:55:02 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:48:25 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:48:25 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:48:25 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:42:57 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:38:36 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:38:36 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:38:36 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:37:06 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:37:06 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 18:37:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

متبادل توانائی کے طور پر ونڈ اور شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خصوصی مراعات اور اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے

آئندہ 3 برسوں میں 30 ہزار شمسی توانائی ٹیوب ویل لگانے کے لیے 12.5 ایکڑ یا کم زمین رکھنے والے کسانوں کو بلا سود قرضے دیے جائیں گے , سولر پینلز اور متعلقہ اشیاء کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی پر اِستثنیٰ کو30جون 2016ء تک بڑھا د یا گیا ہے , ہوائی اور شمسی توانائی پیدا کرنے کی مشینری ،آلات اور پلانٹ تیار کرنے والی صنعتوں کو انکم ٹیکس سے 5سال تک کی چُھوٹ دینے کی تجویز ہے

اسلام آباد ۔ 10 جون (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء) حکومت نے متبادل توانائی کے طور پر ملک میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے آئندہ مالی سال 2015-16 کے بجٹ میں خصوصی مراعات اور اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ان اقدامات سے جہاں صارفین کو سستی توانائی میسر آئے گی وہاں بجلی اور تیل کی بچت بھی ہو گی۔بجٹ دستاویز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی منظوری سے چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے اور ڈیزل اور بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر آنے والے بھاری اخراجات کم کرنے کے لیے نئے شمسی ٹیوب ویل لگانے یا پرانے ٹیوب ویلوں کو نئے شمسی ٹیوب ویلوں سے تبدیل کرنے کے لیے بلا سود قرضے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والے آدھا کیوسک ٹیوب ویل کی قیمت تقریباً 11 لاکھ روپے ہے۔ ان کی خریداری کے لئے حکومت ایک لاکھ روپے جمع کرانے والے کسانوں کو کمرشل بنکوں کے ذریعے بغیر مارک اَپ قرضے فراہم کرے گی۔ ان قرضوں کا مارک اپ حکومت خود ادا کرے گی۔ اس سکیم کے تحت آئندہ 3 برسوں میں 30 ہزار ٹیوب ویل لگانے کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔ 12.5 ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کسان اس قرضے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 18:38:36 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان