قومی کھلاڑیوں سے بچوں جیسا برتاؤ نہ کریں، وسیم اکرم
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:24:23 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:04:13 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:03:56 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:03:55 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:03:53 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:03:30 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:03:17 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 17:03:15 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:07:52 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 15:42:00 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 14:54:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

قومی کھلاڑیوں سے بچوں جیسا برتاؤ نہ کریں، وسیم اکرم

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10جون2015ء) پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم باؤلر وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈسپلن کے نام پر قومی کھلاڑیوں سے بچوں جیسا برتاؤ نہ کرے۔ کراچی میں وسیم اکرم فاؤنڈیشن کے لانچ کے موقع پر شعیب اختر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ پی سی بی کے مستقل سخت رویے اور روک ٹوک کی وجہ سے کھلاڑیوں کی ترقی کا عمل رک گیا ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسپلن ایک الگ چیز ہوتی ہے لیکن کھلاڑیوں پر بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے وہ اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ سوئنگ کے سلطان نے کہا کہ نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے روابط رکھنا اور غیر ملکی دوروں پر تھوڑی بہت آزادی بہت ضروری ہے۔ آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی کوچنگ کے لیے مشہور وسیم اکرم نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے کھلاڑیوں سے ڈسپلن کے نام پر اسکول کے بچوں جیسا رویہ روا رکھا جاتا ہے اور یہ ایک پیش ورانہ کھلاڑی اور اسپورٹس مین بننے کیلئے درکار اعتماد اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2010 کے اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد کھلاڑیوں پر سختی کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی شروع کردی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی انڈر 19 یا اے ٹیم کا کوچ بننے کیلئے تیار نہیں لیکن ہر کوئی پاکستانی ٹیم کا کوچ بننا چاہتا ہے۔ ’ہندوستان میں راہول ڈراوڈ نے انڈر 19 ٹیم کی کوچنگ سنبھالی ہے، آسٹریلیا میں گریگ چیپل اور ایلن بارڈر جیسے عظیم کھلاڑیوں نے انڈر 19 ٹیم کی کوچنگ کی لیکن ہمارے یہاں ہر کوئی صرف اور صرف پاکستانی ٹیم کا کوچ بننا چاہتا ہے‘۔

اس موقع پر ماضی کے تیز ترین باؤلر اور پی سی بی کے بڑے ناقد شعیب اختر نے بھی بورڈ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرکٹ کے منتظیمن اپنے تحکمانہ رویے رویے کے سبب کھلاڑیوں کی سپر اسٹار بننے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو آزادی اور اپنی کارکردگی اور رویے سے سپراسٹار بننے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔

جب ایک کھلاڑی سپر اسٹار بن کر برانڈ کی شکل اختیار کر جائے گا تو اسی صورت میں دوسروں کی نظروں میں پاکستان کرکٹ کی اہمیت میں اضافہ ہو گا۔ ڈسپلن ماضی قریب میں پاکستانی ٹیم کا سب سے اہم مسئلہ رہا ہے اور حال ہی میں ورلڈ کپ کے بعد نوجوان احمد شہزاد اور عمر اکمل کے رویے کو بنیاد بنا کر انہیں ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔ ورلڈ کپ کے ہی دوران مبینہ طور پر تین سینئر کھلاڑیوں کے خراب رویے کے سبب فیلڈنگ کوچ گرانٹ لیوڈن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دی تھی۔

لیوڈن نے اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی، اوپنر احمد شہزاد اور وکٹ کیپر بلے باز عمر اکمل کے خراب رویے کی شکایت کرتے ہوئے بورڈ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ اپریل میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کوچ وقار یونس اور کپتان مصباح الحق نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کا رویہ بہتر بنانے کیلئے ایک سال کے لیے ٹیم سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

10/06/2015 - 17:03:30 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان