اراکین سینٹ کی بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی اور بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:48:18 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:48:18 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:44:29 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:43:33 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:43:33 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:43:33 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:42:51 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:34:20 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:33:40 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:22:16 وقت اشاعت: 10/06/2015 - 16:05:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

اراکین سینٹ کی بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی اور بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف بیانات کی سخت ترین مذمت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)اراکین سینٹ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی اور بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف بیانات کی سخت ترین مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت تمام محاذوں پر ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ‘بھارتی رہنماؤں کے پاکستان مخالف بیانات کا نوٹس لیاجانا چاہیے جبکہ اپوزیشن نے بجٹ پر بحث کی کارروائی پی ٹی وی پر براہ راست ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

بدھ کو یہاں سینٹ میں مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاک آرمی آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے جبکہ بجٹ میں نیکٹا کیلئے کوئی فنڈز نہیں رکھے گئے ہیں، اے پی ایس کے شہداء کے لواحقین کو امداد ابھی تک نہیں ملی، بھارتی وزیراعظم کا بیان قابل مذمت ہے، بھارت تمام محاذوں پر ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، بجٹ میں سرکلر ڈیبٹ کو ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ ٹیکس چوری، دہشت گردی اور توانائی کا بحران ملک کے بڑے مسائل ہیں، ان سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو زیادہ ریلیف دیا جانا چاہیے تھا، اسی سلسلے میں معاشی اہداف کے حصول کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری کے لئے اصلاحات کرنا ہوں گی اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے نیکٹا کو فعال بنانا ہو گا اور اسے فنڈز فراہم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں 11 فیصد سے زائد اضافہ خوش آئند ہے کیونکہ ہماری مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں کے پاکستان مخالف بیانات کا بھی نوٹس لیاجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آرمی پبلک سکول پشاور کے طلبہ کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی عوام کو معلومات کی فراہمی کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان کی حفاظت کے لئے فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت توانائی اور ماحولیات جیسے مسائل کے خاتمے کے لئے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے اور اس پر اتفاق رائے ہونا چاہیے، ایس آر اوز کے کلچر کے خاتمے کا فیصلہ بہت اچھا ہے، ہمیں توانائی کے حصول کے لئے متبادل ذرائع پر توجہ دینی چاہیے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ میٹرو بس پراجیکٹ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جارہاہے بجٹ میں عام آدمی کے ریلیف دینے کیلئے خاطرہ خواہ اقدامات کئے گئے، جی ڈی پی گروتھ پچھلے سات سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے، بجٹ خسارے کو ہر سال کم کیا جارہاہے، تعمیری تنقید ہونی چاہئے تاہم تنقید برائے تنقید کی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جارہی ہیں اس پر ہم ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں، اور گیارہ بجکر 15منٹ پر پر اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عثمان کاکڑ نے کہا کہ تمام اداروں کو پارلیمنٹ کے ماتحت لایا جائے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی پالیسیاں فوج اور انٹلیجنس ایجنسیاں چلا رہی ہیں، دفاع کے بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے جونہیں ہونا چاہئے تھا، مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے، بجٹ میں بلوچستان کا حصہ بہت کم رکھا گیا ہے، بلوچستان کا حصہ صرف دو فیصد ہے، زیادہ فنڈز پسماندہ صوبوں کو ملنے چاہئیں، مشرقی روٹ جو پاک چائینہ اقتصادی راہداری کاہے اس کیلئے 88 فیصد فنڈز رکھے گئے جبکہ مغربی روٹ کیلئے بارہ فیصد فنڈز رکھے گئے جو کہ اے پی سی کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، جاگیر داروں پر ٹیکس لگایا جائے اوردفاعی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/06/2015 - 16:43:33 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان