اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کے مینڈیٹ کوکھلے دل سے تسلیم کرے ،ایم کیوایم کے ساتھ بلاجوازلڑائی ختم کرے ٗ الطاف حسین

جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی سمیت تمام مخالف سیاسی جماعتوں سے لڑائی ختم کرکے ہاتھ ملاتے ہیں اور مل جل کرملک کی خدمت کرتے ہیں ٗخطاب

ہفتہ 25 اپریل 2015 19:41

اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کے مینڈیٹ کوکھلے دل سے تسلیم کرے ،ایم کیوایم ..

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 25اپریل۔2015ء) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے کہاہے کہ وہ ایم کیوایم کے مینڈیٹ کوکھلے دل سے تسلیم کرے،ایم کیوایم کو محب وطن جماعت تسلیم کرے اورایم کیوایم کے ساتھ بلاجوازلڑائی کاعمل ختم کرے، ایم کیوایم ملک کے دفاع کے لئے آج بھی آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے کیلئے تیارہے۔

انہوں نے جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی سمیت تمام مخالف سیاسی جماعتوں کودعوت دی کہ ہم سب ملک کے شہری ہیں، آ ئیے، لڑائی ختم کرکے ہاتھ ملاتے ہیں اور مل جل کرملک کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارجمعہ کی شب جناح گراؤنڈعزیزآبادمیں این اے 246کے ضمنی انتخاب میں ایم کیوایم کی شاندارکامیابی پر منعقدکئے جانے والے جشن فتح کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

الطاف حسین نے اپنے خطاب میں گزشتہ روزہونیوالے ضمنی انتخاب کے بارے میں کہاکہ آج کے بیشتراخبارات میں یہ رپورٹس شائع ہوچکی ہیں کہ رینجرزکے اہلکاروں نے انتخابی عمل میں کس طرح کھلم کھلامداخلت کی ، انہوں نے وہ کام کئے جوان کے دائرہ کارمیں نہیں ۔رینجرزوالوں کودوسروں کوسزادینے کااختیاردیدیاگیالیکن رینجرزوالوں کی غلطیوں پر انہیں سزادینے والاکوئی نہیں ہے ۔

ان رپورٹس کے مطابقرینجرزنے ووٹرزکوتنگ کیا، طرح طرح سے رکاوٹیں ڈالیں جس کی وجہ سے بڑی تعدادمیں لوگ ووٹ ڈالنے سے رہ گئے ۔ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ دیرسے شروع ہوئی ہے۔ ہم چلا چلاکرتھک گئے کہ پولنگ کے وقت میں دوگھنٹے کااضافہ کردیاجائے لیکن اضافہ نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ پولنگ کاوقت بڑھانے کے معاملے پر پی ٹی آئی نے ابتداء میں توحمایت کی تھی لیکن پھر کہیں سے ایمپائر کی انگلی کا اشارہ ہوااورانہوں نے پولنگ کاوقت بڑھانے کی مخالفت کردی کیونکہ انہیں اچھی طرح پتہ تھاکہ ایم کیوایم ان کی ہرگیندپرچھکے پر چھکالگارہی ہے جس کی وجہ سے انکی گیندجگہ جگہ سے پھٹ گئی تھی۔

جماعت اسلامی کی حالت پہلے ہی بہت پتلی ہورہی تھی اس لئے اس نے پولنگ وقت بڑھانے شدیدمخالفت کی ۔ اگر پولنگ کے وقت میں دوگھنٹے کااضافہ کردیاجاتا توہم دولاکھ سے زائدووٹ حاصل کرتے۔ انہوں نے عوام کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے تمام ترمشکلات اورکاوٹوں کے باوجودجس مثالی جرات وہمت کامظاہرہ کیااورایم کیوایم کو95ہزارسے زائد ووٹ دے کرثابت کردیاکہ کراچی کے عوام کے دل کل بھی ایم کیوایم کے ساتھ دھڑکتے تھے اورآج بھی دھڑکتے ہیں۔

عوام نے ایم کیوایم کوشاندارکامیابی سے ہمکنارکرکے ثابت کردیاکہ اسٹیبلشمنٹ کی چلائی ہوئی فلم فلاپ ہوگئی ہے اوراس نے نیٹوکااسلحہ،دہشت گردی اورجوجو جھوٹے الزامات لگائے تھے عوامی عدالت نے ایم کیوایم کوان تمام الزامات سے بری کردیا۔رینجرزکی جانب سے تمام تر رکاوٹوں اورخوف پھیلانے کے باوجودکراچی کے بزرگ ،نوجوان، مائیں بہنیں جس طرح باہرنکلیں اس سے ثابت ہوگیاکہ ان سے بہادرکوئی قوم نہیں۔

الطاف حسین نے کہاکہ جومتعصب عناصر یہ پروپیگنڈے کررہے تھے کہ ایم کیوایم کاگراف گرگیا ہے کل کے انتخابی نتائج نے ثابت کردیاکہ ایم کیوایم کاگراف نہیں گرابلکہ ایساکہنے والوں کی دماغی حالت خراب ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ وہ ایم کیوایم کے مینڈیٹ کوکھلے دل سے تسلیم کرے،ایم کیوایم کو محب وطن جماعت تسلیم کرے اورایم کیوایم کے ساتھ بلاجواز لڑائی کاعمل ختم کرے، ایم کیوایم ملک کے دفاع کے لئے آج بھی آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے اورآپ کے ساتھ ملکرملک دشمنوں سے لڑنے کیلئے تیار ہے۔

الطا ف حسین نے کہاکہ میں جماعت اسلامی کی بہت عزت کرتاتھااورآج بھی کرتاہوں، میں نے ان سے پہلے بھی کہاتھا کہ آپ عزت والے لوگ ہیں ، آپ الیکشن سے دستبردار ہوجائیے،آپ نے میری بات نہ مانی اورآپ کی ضمانت ضبط ہوگئی ۔میں نے پی ٹی آئی والوں کوبھی سمجھایاتھالیکن ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔انہوں نے جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی سمیت تمام مخالف سیاسی جماعتوں کودعوت دی کہ ہم سب ملک کے شہری ہیں، آ ئیے، لڑائی ختم کر کے ہاتھ ملاتے ہیں اور مل جل کرملک کی خدمت کرتے ہیں۔

میں تمام پاکستانیوں سے کہتاہوں کہ سب اپنے اپنے دلوں کوکشادہ کیجئے،میں سب کیلئے اپنی بانہیں کھولتاہوں اور سب کو گلے لگاکر دوستی کرنے کی دعوت دیتاہوں۔انہوں نے سابق صدرآصف زرداری اورپیپلزپارٹی کی قیادت کوبھی دعوت دی کہ آئیے ہم ملکرسندھ کے شہری اوردیہی علاقوں کی خدمت کرتے ہیں۔ الطاف حسین نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ معاملات کانوٹس تولیتے ہیں لیکن کچھ کرنے سے قاصرہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں میرے پاس ڈبل سواری پرپابندی ختم کرنے کااختیارنہیں۔ کراچی کے لوگوں کوروزگاردینے اورپولیس میں مقامی لوگوں کوبھرتی کرنے کا اختیارمیرے پاس نہیں۔اب ہم شکایت کریں توکس سے کریں، انصاف مانگیں توکس سے مانگیں؟انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ ملک کے شہریوں کوانصاف فراہم نہیں کرسکتے توآپ کے ظرف وضمیرکاتقاضہ ہے کہ آپ استعفیٰ دیدیں اور دنیا کوبتادیں کہ آپ اﷲ کے علاوہ کسی بھی طاقت سے نہیں ڈرتے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ میں وزیراعظم ، وفاقی وصوبائی وزراء ، صوبائی گورنروں اور وزرائے ا علیٰ سے کہتاہوں کہ اگرکرسی پر بیٹھنے کے باوجودآپ کے اختیارمیں کچھ نہ ہوتوآپ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیکرالگ ہوجائیے ۔ انہوں نے کہاکہ جن جن کے دوراقتدارمیں ماورائے عدالت قتل ہوئے اگروہ قاتلوں کوسزانہیں دے سکتے تو کم ازکم عوام سے معافی ہی مانگ لیں۔

الطاف حسین نے کہاکہ کراچی کے عوام میں محرومی بڑھ رہی ہے اوروہ اپنے حقوق کیلئے متحدہوکرکراچی کوصوبہ بنانے کامطالبہ کررہے ہیں لہٰذا کراچی کوصوبہ بنایاجائے ۔ اسی طرح حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص کو صوبہ بنایاجائے ۔جنوبی پنجاب، سرائیکی علاقوں کوصوبہ بنایاجائے۔ہزارہ صوبہ بنایاجائے۔ گلگت بلتستان کوصوبہ بنایا جائے ، اسی طرح پنجاب،بلوچستان، خیبرپختونخوا اورفاٹامیں جہاں جہاں عوام مطالبہ کررہے ہیں وہاں عوام کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق صوبے بنائے جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ بلدیاتی نظام فی الفوربحال کیاجائے۔ الطا ف حسین نے انتخابات کے دوران عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے والے تجزیہ نگاروں کوخراج تحسین پیش کیااورحالات کے جبرکے باعث بیرون ملک چلے جانے اوروہاں سے بیٹھ کرحق اورسچ کی آوازبلند کرنے والے کالم نگاروں کوبھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ضعیف العمروالدین کوگودمیں بٹھاکرووٹ ڈالنے کیلئے لانے والے نوجوانوں کوشاباش دی اورکہاکہ وہ میری جانب سے اپنی بزرگ ماؤں کی قدم بوسی کریں۔

الطا ف حسین نے انتخابات میں ساتھ دینے والے تمام مذاہب ، فقہوں اورمسالک سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اورعوام کاشکریہ اداکیا۔ انہوں نے ایم کیوایم کے تمام تنظیمی شعبہ جات کے ساتھیوں کوخراج تحسین پیش کیااورتحریک کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کیا۔